National

کیا کانگریس پھر ہوگی تقسیم؟ فیصل پٹیل نے نیا گروپ بنانے کا کیا اعلان

کیا کانگریس پھر ہوگی تقسیم؟ فیصل پٹیل نے نیا گروپ بنانے کا کیا اعلان

کانگریس پارٹی ایک بار پھر شدید سیاسی بحران اور اندرونی بغاوت کا سامنا کر رہی ہے۔ بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں ملی کراری شکست کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات نہ صرف تیز ہو گئے ہیں بلکہ قیادت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس صورتحال نے کانگریس کی اعلیٰ کمان، خصوصاً گاندھی خاندان- راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ پارٹی کے اندر جاری اس بے چینی نے ملک کے سیاسی منظرنامے میں 1969 کی تاریخی کانگریس بغاوت کی یاد تازہ کر دی ہے۔ حال ہی میں بہار اسمبلی انتخاب میں کانگریس کو 243 نشستوں میں سے محض 6 سیٹیں حاصل ہوئیں، جو پارٹی کے لیے نہایت شرمناک رزلٹ ہے۔ اسی کے فوری بعد پارٹی قیادت مسلسل میٹنگوں میں شکست کی وجوہات پر غور کر رہی ہے، مگر اس دوران سابق راجیہ سبھا رکن اور کانگریس کے مضبوط چہرے مرحوم احمد پٹیل کے بیٹے فیصل احمد پٹیل کے بیان نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ فیصل پٹیل نے کھل کر گاندھی خاندان کو شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ”ناکام گاندھی خاندان نااہل ہے، انہیں پارٹی کی قیادت چھوڑ دینی چاہیے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ گاندھی خاندان کے رہنے سے اپوزیشن کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور حقیقی جمہوری نظام کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اب پارٹی کو نئی قیادت اور نئی سمت کی ضرورت ہے۔ فیصل پٹیل نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ کانگریس سے الگ ایک نیا پلیٹ فارم قائم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کا نام “کانگریس (اے پی)” رکھا جائے گا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ان کی بہن بھی اس نئے گروپ کے ساتھ ہوں گی۔ فیصل کی پوسٹ کا اسکرین شاٹ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور اسی کے بعد سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ صورتحال اس خدشے کو تقویت دے رہی ہے کہ کہیں کانگریس ایک بار پھر ٹوٹ کے دہانے پر تو نہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ بغاوت صرف بیان بازی تک محدود رہے گی یا واقعی پارٹی میں عملی تقسیم کا آغاز ہو چکا ہے۔ دوسری جانب کرناٹک میں وزیراعلیٰ سدارامیا اور ڈپٹی سی ایم ڈی کے شیوکمار کے درمیان اقتدار کشمکش نے کانگریس کی شبیہ مزید خراب کی ہے۔ اندرونی دراڑیں اب کھلے عام دکھائی دینے لگی ہیں اور یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا راہل گاندھی کی قیادت پارٹی کو متحد رکھ سکے گی یا تنظیم ایک بار پھر دو حصوں میں بٹ جائے گی؟ اب سب کی نگاہیں کانگریس کی آئندہ حکمتِ عملی پر ہیں۔ کیا قیادت بغاوت کو روک پائے گی یا پھر تاریخ خود کو دہرا دے گی؟ وقت جلد اس کا جواب دے گا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments