Kolkata

والد کے مرنے پر عدالت میں ماں بہن کی لڑائی، درمیان میں ہی دم توڑ گیا، جج رو پڑے

والد کے مرنے پر عدالت میں ماں بہن کی لڑائی، درمیان میں ہی دم توڑ گیا، جج رو پڑے

کولکاتا29نومبر: جیسا کہ کہاوت ہے، ’انصاف کا لفظ خاموشی سے، چپکے سے روتا ہے۔‘ لیکن حال ہی میں کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک ایسا دردناک واقعہ دیکھنے میں آیا، جس میں انصاف کا لفظ نہیں، بلکہ جج خود رو پڑے۔ مدعی اور مدعا علیہ کے وکلاء بھی رو پڑے۔ قانونی جنگ کے درمیان ایک موت کی خبر نے سب کو جذباتی کر دیا۔ بالکل کیا ہوا؟ معلوم ہوا ہے کہ بستر مرگ پر موجود والد کو لے کر والدہ اور بہن کے ساتھ جھگڑا ہوا۔ باپ سے ملنے کے لیے بار بار ہسپتال جانے کے باوجود بڑی بیٹی ماں کے اعتراض کی وجہ سے ان سے نہیں مل سکی۔ جس کی وجہ سے اس نے قانون سے رجوع کیا۔ ماں گنگوپادھیائے چٹوپادھیائے نامی اس خاتون نے کلکتہ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ یہ معاملہ جسٹس شورا گھوش کی عدالت میں چلا۔ تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد جج نے کہا کہ بڑی بیٹی کو اپنے والد سنجیت چٹرجی کی اجازت سے ملنے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔ اگرچہ جج کے اس حکم سے امید کی شمع بظاہر روشن تھی لیکن جلد ہی بجھ گئی۔ باپ بیمار ہے۔ وہ بولنے، سمجھنے یا سننے کی حالت میں نہیں ہے۔ وہ ملاقات کی اجازت کیسے دے گا؟ اس موقع پر والدہ نے ایک کاغذ دکھایا جس میں باپ کی تجاویز درج تھیں اور کہا کہ وہ اپنی بڑی بیٹی سے کسی بھی طرح ملنا نہیں چاہتی۔ اس کیس کی سماعت جسٹس تپوبرتا چکرورتی کی ڈویڑن بنچ میں ہو رہی تھی۔ اس سماعت کے دوران خبر آئی کہ والد سنجیت چٹرجی نہیں رہے، ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ یہ سن کر جسٹس تپوبرتا چکرورتی جذباتی ہو کر رو پڑے، بھری کمرہ عدالت میں 'اوہ مائی گاڈ'! کھچا کھچ بھرے کمرہ عدالت میں یہ ایک مختلف تصویر تھی۔ دونوں طرف کے وکلا بھی روتے ہوئے دیکھے گئے۔ اس سب کو دیکھتے ہوئے بالآخر ماں نے اعتراف کر لیا کہ اس نے اپنی بیٹی ماں کو اپنے باپ سے ملنے نہیں دیا۔

Source: PC- sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments