National

مدھیہ پردیش راجیہ سبھا انتخاب: میناکشی نٹراجن کا نامزدگی فارم مسترد ہونے پر کانگریس کا شدید احتجاج

مدھیہ پردیش راجیہ سبھا انتخاب: میناکشی نٹراجن کا نامزدگی فارم مسترد ہونے پر کانگریس کا شدید احتجاج

بھوپال: مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا انتخابات کے دوران کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کا نامزدگی فارم مسترد کیے جانے کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ کانگریس نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر ’’سیٹ ڈکیتی‘‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی قیادت نے اس معاملے کے خلاف احتجاج تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام کانگریس اراکین اسمبلی الیکشن کمیشن کے خلاف بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔ مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میناکشی نٹراجن کی نامزدگی قانونی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کے تحت مسترد کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر قانونی طور پر نامزدگی منسوخ کرنا ممکن نہیں تھا تو اس کے لیے دوسرا راستہ اختیار کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس اقدام کے ذریعے ریاست کے جمہوری وقار کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ جیتو پٹواری نے کہا کہ یہ صرف ایک امیدوار کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کے جمہوری نظام اور آئینی اداروں کی خودمختاری کا سوال ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی مسلسل آئینی اداروں کے غلط استعمال کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کانگریس اس معاملے کو ہر سطح پر اٹھائے گی اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ 10 جون کو ریاست کے تمام کانگریس اراکین اسمبلی الیکشن کمیشن کے خلاف علامتی بھوک ہڑتال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج جمہوری اقدار اور انتخابی شفافیت کے دفاع کے لیے کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب کانگریس کے قانونی مشیر اجے گپتا نے بھی نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر غیر آئینی ہے اور اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قانونی عمل کو نظر انداز کیا گیا ہو۔ اجے گپتا کے مطابق حیدرآباد کی ایک عدالت کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹس کا حوالہ دیا گیا، تاہم یہ معاملہ کسی فوجداری جرم کے زمرے میں نہیں آتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کی جانب سے متعلقہ نوٹس کے بارے میں وضاحت پہلے ہی فراہم کر دی گئی تھی، لیکن ریٹرننگ آفیسر نے اس پر غور نہیں کیا۔ ان کے بقول قانون کے ابتدائی طالب علم بھی یہ بتا سکتے ہیں کہ مذکورہ معاملہ مجرمانہ نوعیت کا نہیں تھا، اس کے باوجود نامزدگی مسترد کر دی گئی۔ اجے گپتا نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر ایسے ہی فیصلے ہونے ہیں تو پھر انتخابی کارروائی کی رسمی کارروائیوں کی ضرورت ہی کیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر نتیجہ پہلے سے طے ہے تو نشست کا اعلان براہِ راست کر دیا جانا چاہیے۔ ادھر کانگریس کے رکن اسمبلی ہریش چودھری نے بھی الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ملک میں الیکشن کمیشن اپنی آزادانہ حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے متعدد منتخب نمائندوں کو مختلف اوقات میں قانونی نوٹس موصول ہوتے رہے ہیں، لیکن صرف اسی بنیاد پر کسی امیدوار کی نامزدگی مسترد کرنا مناسب نہیں کہا جا سکتا۔ ہریش چودھری نے الزام لگایا کہ یہ اقدام جمہوری عمل میں حکومتی مداخلت کی عکاسی کرتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس تنازعے نے مدھیہ پردیش کے راجیہ سبھا انتخابات کو مزید حساس بنا دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments