کولکاتا: مغربی بنگال کی فالٹا اسمبلی سیٹ پر دوبارہ ووٹنگ کے بعد ہونے والی ووٹوں کی گنتی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار دیبانگشو پانڈا نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنے قریبی حریف سی پی آئی ایم امیدوار کو ایک لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دے دی۔ انتخابی نتائج نے ریاست کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، کیونکہ ایک وقت میں ریاست کی حکمراں جماعت رہی آل انڈیا ترنمول کانگریس اس نشست پر چوتھے نمبر پر پہنچ گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی امیدوار نے 22ویں اور آخری مرحلے کی گنتی مکمل ہونے کے بعد فیصلہ کن برتری کے ساتھ کامیابی درج کی۔ فالٹا اسمبلی حلقے میں 29 اپریل کو دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کے الزامات سامنے آئے تھے۔ معاملہ اتنا سنگین ہو گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اس حلقے کے تمام 285 پولنگ بوتھوں پر ووٹنگ منسوخ کرنے کا تاریخی فیصلہ لینا پڑا۔ بعد ازاں 21 مئی کو پورے حلقے میں دوبارہ ووٹنگ کرائی گئی، جس کے بعد آج نتائج کا اعلان کیا گیا۔ سرکاری نتائج کے مطابق بی جے پی امیدوار دیبانگشو پانڈا کو مجموعی طور پر ایک لاکھ 49 ہزار 666 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے امیدوار شمبھوناتھ کرمی 40 ہزار 645 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ کانگریس امیدوار عبدالرزاق ملا کو 10 ہزار 84 ووٹ ملے، جبکہ ترنمول کانگریس کے امیدوار جہاںگیر خان صرف 7 ہزار 783 ووٹ حاصل کر سکے۔ اس طرح بی جے پی امیدوار کی جیت کا فرق ایک لاکھ 9 ہزار سے زیادہ رہا، جو اس حلقے میں غیر معمولی سیاسی تبدیلی کی علامت مانا جا رہا ہے۔ ابتدائی مرحلوں سے ہی بی جے پی امیدوار کو واضح برتری حاصل تھی۔ 15ویں راؤنڈ کی گنتی تک دیبانگشو پانڈا تقریباً 69 ہزار ووٹوں سے آگے چل رہے تھے۔ بعد ازاں 19ویں راؤنڈ تک ان کی برتری بڑھ کر 99 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ 20ویں مرحلے کے بعد یہ تقریباً واضح ہو گیا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں دوڑ سے باہر ہو چکی ہیں اور بی جے پی کی کامیابی محض رسمی اعلان کی منتظر ہے۔ اس انتخابی معرکے میں سب سے زیادہ حیران کن صورتحال ترنمول کانگریس کی رہی۔ ریاست میں بی جے پی حکومت آنے سے پہلے برسوں تک اقتدار میں رہنے والی جماعت اس نشست پر چوتھے نمبر پر چلی گئی۔ مزید دلچسپ بات یہ رہی کہ ترنمول امیدوار جہاںگیر خان نے دوبارہ ووٹنگ سے صرف دو دن پہلے اچانک اعلان کر دیا تھا کہ وہ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ اگرچہ پارٹی نے اسے ان کا ذاتی فیصلہ قرار دیا، لیکن سیاسی مبصرین نے اسے پارٹی کی کمزور ہوتی پوزیشن کی علامت قرار دیا۔ فالٹا اسمبلی حلقہ گزشتہ ماہ ”عطر اور ٹیپ اسکینڈل“ کے باعث بھی خبروں میں رہا تھا۔ ووٹنگ کے دوران متعدد پولنگ بوتھوں سے شکایات موصول ہوئی تھیں کہ ای وی ایم مشینوں پر خوشبو دار مادہ اور چپکنے والی ٹیپ لگائی گئی تھی۔ بعد میں تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ بعض بوتھوں پر نصب ویب کیمروں کے فوٹیج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی گئی تھی۔ اس معاملے میں بوتھ سطح کے افسران، پریزائیڈنگ افسران اور دیگر انتخابی اہلکاروں کے کردار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ انہی شکایات اور تحقیقات کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے پورے حلقے میں دوبارہ ووٹنگ کا فیصلہ کیا۔ 21 مئی کو ہونے والی ری پولنگ کے دوران سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پورے حلقے میں مرکزی فورسز کی تقریباً 35 کمپنیاں تعینات کی گئی تھیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔ سخت سیکورٹی کے باوجود عوام میں ووٹنگ کے لیے زبردست جوش دیکھنے کو ملا اور تقریباً 87 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق فالٹا اسمبلی سیٹ کے نتائج مغربی بنگال کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ بی جے پی کی بھاری جیت کو ریاست میں اس کی مضبوط ہوتی سیاسی بنیاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ترنمول کانگریس کے لیے یہ نتیجہ ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سی پی آئی ایم کے امیدوار کا دوسرے نمبر پر آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست میں بائیں بازو کی سیاست اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی کارکنوں میں جشن کا ماحول ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں نتائج اور انتخابی عمل پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تاہم پورے عمل کو شفاف اور غیر جانبدار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سخت نگرانی اور سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے دوبارہ ووٹنگ کامیابی سے مکمل ہوئی۔
Source: scoial media
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ