لکھنؤ: اتر پردیش کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کانگریس اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے 2027 کے اسمبلی انتخابات ایک ساتھ لڑنے کے اشارے دیے ہیں۔ لکھنؤ میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے بعد دونوں جماعتوں کے لیڈروں نے اتحاد کے حوالے سے مثبت پیغامات دیے ہیں، جس سے یہ قیاس آرائیاں مزید مضبوط ہو گئی ہیں کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا مقابلہ مشترکہ طور پر کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے اتحاد کے بنیادی خدوخال پر اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مجوزہ سیٹ شیئرنگ فارمولے کے تحت کانگریس کو تقریباً 70 سے 75 اسمبلی نشستیں دی جا سکتی ہیں، جبکہ باقی نشستوں پر سماج وادی پارٹی اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی۔ اگرچہ دونوں جماعتوں کی جانب سے ابھی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اندرونی سطح پر اتحاد تقریباً طے شدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے اتحاد کے امکان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کا اشتراک ایک فطری سیاسی اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے دونوں جماعتیں مل کر جدوجہد کریں گی اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔ اجے رائے نے کہا کہ حالیہ انتخابات کے نتائج نے دونوں جماعتوں کے کارکنوں اور حامیوں کا اعتماد بڑھایا ہے۔ ان کے مطابق عوام میں بی جے پی کے خلاف ماحول بن رہا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متحد ہو کر انتخابی میدان میں اترنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اتحاد کی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کو باہمی احترام اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ حال ہی میں منعقدہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں بھی کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے لیڈروں نے ایک دوسرے پر اعتماد ظاہر کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ کانگریس کو اتحادی جماعتوں کے لیے بڑا دل دکھانا ہوگا، جبکہ اجے رائے نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس ہمیشہ فراخ دلی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے، لیکن سیاسی اتحاد میں یکطرفہ قربانی یا یکطرفہ محبت نہیں چلتی۔ ان کے مطابق تمام شراکت داروں کو برابر کی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے تعلقات ماضی میں کئی بار اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ 2023 میں بعض بیانات اور سیاسی اختلافات کے باعث دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی، تاہم بعد میں راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کے درمیان بات چیت کے بعد 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے اتحاد ممکن ہو سکا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس بار امیدواروں کے انتخاب میں خاص احتیاط برتی جا رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کی جانب سے داخلی سروے کرایا جا رہا ہے، جس کی نگرانی خود اکھلیش یادو کر رہے ہیں۔ پارٹی قیادت کا دعویٰ ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں سفارش یا دباؤ کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی بلکہ صرف سروے رپورٹ، عوامی رائے اور امیدوار کی مقبولیت کو بنیاد بنایا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق صرف انہی امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا جائے گا جن کی عوامی بنیاد مضبوط ہو، شبیہ صاف ہو اور جیتنے کی واضح صلاحیت رکھتے ہوں۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر کانگریس اور سماج وادی پارٹی کا یہ اتحاد باضابطہ شکل اختیار کر لیتا ہے تو 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات ریاست کی سیاست میں ایک نئے اور دلچسپ مقابلے کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات