National

پارلیمنٹ  کا سرمائی اجلاس ہنگامہ خیز ہونے کی امید

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ہنگامہ خیز ہونے کی امید

نئی دہلی— پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس یکم دسمبر سے 19 دسمبر 2025 تک منعقد ہوگا۔ اس دوران حکومت جوہری توانائی، اعلیٰ تعلیم اور نئے کارپوریٹ قانون سے متعلق کم از کم 10 اہم بل پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بتایا کہ یہ اجلاس ’’تعمیری اور بامقصد‘‘ ہونے کی امید ہے تاکہ جمہوری عمل مزید مضبوط ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں مندرجہ ذیل امور زیرغور آسکتے ہیں جس میں نیا کارپوریٹ قانون، جوہری توانائی سے متعلق قانون سازی اور اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات شامل ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں کہ 1937 میں کانگریس نے وندے ماترم کی چند سطریں حذف کر کے تقسیم کی بنیاد رکھی تھی۔ کرن رجیجو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے حکومت کی سفارش پر سرمائی اجلاس کی منظوری دے دی ہے۔ امید ہے یہ اجلاس موثر ثابت ہوگا اور لوگوں کی امنگوں کی تکمیل کرے گا۔‘‘ ادھر اپوزیشن جماعتیں Special Intensive Revision (SIR) کے خلاف سخت احتجاج کی تیاری میں ہیں۔ ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے اور سماج وادی پارٹی پہلے ہی ووٹر لسٹوں میں ترامیم پر اعتراض جتا چکی ہیں اور اس کے خلاف مشترکہ احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ مانسون سیشن میں بھی اسی مسئلے پر شدید ہنگامہ آرائی ہوئی تھی، جس سے کارروائی بری طرح متاثر ہوئی۔ مانسون اجلاس کی 120 گھنٹوں پر مشتمل مجوزہ کارروائی میں سے لوک سبھا میں صرف 37 گھنٹے بحث ہو سکی۔ راجیہ سبھا کی مجموعی کارکردگی صرف 38.88 فیصد رہی۔ بیشتر اجلاس نعرے بازی اور احتجاج کی نذر ہوا، جبکہ ایوان میں صرف 41 گھنٹے 15 منٹ بامعنی کارروائی ممکن ہوسکی۔ اگر صورتحال وہی رہی تو سیاسی کشیدگی، قانونی ایجنڈے اور اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان یہ اجلاس بھی سخت ٹکراؤ اور گرما گرم بحث سے بھرپور رہنے کا امکان ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments