کسانوں کی تحریک سے اقتصادی نقصانات حکومت اور کسانوں کے رویّہ میں کوئی تبدیلی نہیں

جب کوئی بھی تحریک چلائی جاتی ہے تو تھوڑی بہت تو ہلچل مچتی ہی ہے اور جب کوئی تحریک بڑے پیمانے پر چلائی جائے جیسا کہ آج کل کسان چلا رہے ہیں تو ملک اور قوم پر اس کے وسیع اثرات کا مرتب ہونا لازمی ہے ۔ اس تناظر میں ملک کے بڑے انڈسٹری چیمبرز کا فکر مند ہونا قدرتی ہے ۔ انڈسٹری چیمبرز نے زرعی قوانین کے حوالے سے پیدا شدہ بحران کو جلد سے جلد ختم کرنے کے لئے گُہار لگائی ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ کسانوں کی تحریک کے نتیجے میں سپلائی چین متاثر ہو رہے ہیں جو کورونا وائرس وبا کے بعد معاشی بحالی پر اثر انداز ہو رہی ہے ۔ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کے تخمینہ کے مطابق مال تجارت کے دو تہائی حصّہ کے پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور دہلی کے قومی راجدھانی علاقے میں پہنچنے میں 50 فی صدی زیادہ وقت لگ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ہریانہ، اُترا کھنڈ اور پنجاب کے گوداموں سے دہلی پہنچنے میں مالوں سے بھرے ٹرکوں کو 50 فی صدی زیادہ وقت لگ رہا ہے جس سے قیمتوں میں 8 سے 10 فی صدی کا اضافہ ہوسکتا ہے ۔ دہلی سے متّصل صنعتی علاقوں میں بہت سی کمپنیوں کو مزدوروں کی کمی کے مسئلے کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ لوگ پیداواری مقامات تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں ۔
کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز کے شمالی خطّہ کے چیئرمین نکھل ساہنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جاری زرعی ایجی ٹیشن کا فوری حل نکالنا ضروری ہے کیونکہ اس سے نہ صرف معاشی نمو متاثر ہو رہی ہے بلکہ سپلائی چین پر بھی خراب اثر پڑ رہا ہے جس سے بڑی اور چھوٹی صنعتیں یکساں طور سے متا ثر ہو رہی ہیں ۔ ایسوسی ایٹڈ چیمبرز آف کامرس آف انڈیا کے صدر نرنجن ہیرانندنی نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ کسانوں کی تحریک اور راستوں ، ٹول پلازا اور ریلوے پر رکاوٹ کھڑی کرنے سے معاشی سرگرمیاں بالکل ٹھپ پڑگئی ہیں ۔ ٹیکسٹائل، آٹو پرزے، بائیسکل اور اسپورٹس کے سامان جو برآمدات کا بڑا حصّہ ہیں کرسمس کے پہلے اپنے آرڈر پورے نہیں کر پائیں گے جس سے ہماری ساکھ خراب ہوگی ۔
ایسوچیم کا اندازہ ہے کہ کسانوں کی تحریک کے نتیجے میں ویلوچین اور ٹرانسپورٹ میں جو رخنہ اندازیاں ہوئی ہیں اُن سے یومیہ تین ہزار سے ساڑھے تین ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے ۔ دونوں صنعتی اداروں کا خیال ہے کہ اَن لاک کے بعد صنعتوں کا جو چکّہ چل پڑا تھا اسے کافی نقصان ہوگا ۔ ایسوچیم نے کسانوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعت کسانوں کی فلاح و بہبود کے تئیں عہد بند ہے اور کسان بھروسہ رکھیں کہ صنعت اُن کے حق ہی میں اقدام کرے گی ۔
تحریک چلانے والے کسانوں سے راست بات چیت کرنے کی بجائے وزیر اعظم نے گجرات کے کچھ میں کچھ کسانوں سے بات چیت کی اور کسانوں کے ایجی ٹیشن کو صرف دہلی کے آس پاس کی تحریک قرار دیا ۔ بھارتیہ کسان یونین کے رہنما یُدھویر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ چھہ سال میں مودی کو کسانوں کا مسئلہ حل کرنے کا وقت نہیں ملا ۔ حکومت کسانوں کے معاملات کو حل کرنے میں جتنا زیادہ وقت لے گی، کسانوں کی تحریک کو اُتنی ہی زیادہ حمایت ملتی جائے گی ۔ زرعی قوانین کی منسوخی کے لئے ہم مرنے کو تیّار ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔