ایک بہتر ٹرانسپورٹ نظام کی تیاری کیوں ضروری

معلوم ہوا ہے کہ ریاستی سڑک نقل و حمل کارپوریشنز کو اب زیادہ فنڈ دیے جائیں گے، جس سے وہ زیادہ بسیں خرید پائیں گے ۔ جو کارپوریشن اپنی صلاحیت میں زیادہ اصلاح کریں گے، ان کی حوصلہ افزائی کے طور پر اضافی رقم بھی دی جائے گی ۔ حکومت بس پرمٹ نظام کو لبرل بنائے گی ۔ نقل و حمل کی وزارت کی پہل پر موٹروہیکلس ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے دیہات کے لئے ضابطے لچکدار بنائے جائیں گے ۔ اسے ایک طرح کی بھول سدھار سمجھی جانی چاہیے ۔ نئی اقتصادی پالیسی آنے کے بعد سے ہی یعنی تقریباً ۵۲ سالوں سے حکومتیں عوامی نقل و حمل کی جانب سے آنکھیں پھیر کر آٹو موبائل انڈسٹری کو فروغ دینے میں مصروف ہیں ۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آٹو انڈسٹری نے تابڑ توڑ گاڑیاں اتاریں اور جارحانہ مہم اور سستے قرض کی بدولت ملک کو پرائیویٹ کاروں کے چلتے پھرتے گودام میں تبدیل کر دیا، لیکن ہمارے شہر اب گاڑیوں کے بوجھ سے لاچار ہوگئے ہیں ۔ سڑکوں اور باقی ضروری انفراسٹرکچر کی مناسب ترقی نہیں ہوپارہی ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ آئے دن سڑکوں پر طویل جام دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ تھوڑی سی بارش ہوجائے تو پھر کہنا ہی کیا! گزشتہ دنوں ملینیم سٹی گڑگاؤں میں لوگ ۸۱ گھنٹے تک اپنی گاڑیوں میں پھنسے رہ گئے ۔ گلیوں میں چلنا مشکل ہوگیا ہے ۔ رہائشی سوساءٹیوں میں گاڑی کھڑی کرنے کے لئے آئے دن جھگڑے ہوتے رہتے ہیں ۔ کیونکہ ہر فلیٹ میں دو;245;دو، تین;245; تین کاریں ہوگئی ہیں ۔ بڑے شہروں میں آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے ۔ یہ ساری آفت تب ہے جب نجی گاڑیاں ملک کے صرف دس فیصد لوگوں کے ہی پاس ہیں ۔
سرکاری اعدد و شمار کے مطابق ملک میں کل ۴۶ء۸۱ کروڑ گاڑیاں ہیں جن میں دو پیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں ۔ ان میں ۸۱ لاکھ بسیں ہیں ، جن کا ایک حصہ اسکولوں اور دوسرے تعلیمی اداروں کی طرف سے استعمال میں لائی جانے والی منی بسوں کا ہے ۔ صرف ایک لاکھ ۰۶ ہزار بسیں اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشنز کے پاس ہیں جو مختلف ریاستوں میں سڑک نقل و حمل کا اہم ذریعہ ہیں ۔ سڑک نقل و حمل میں بسوں کی حصہ داری مسلسل گر رہی ہے ۔ کل گاڑیوں میں ان کا حصہ ۱۵۹۱ میں دس فیصد تھا، جو اب محض ایک فیصد رہ گیا ہے ۔ ظاہر ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کا جو سب سے اہم ذریعہ ہے، وہی اپنے یہاں چوپٹ ہوگیا ہے ۔ دوچار شہروں میں میٹرو ریل کارگر ہوئی ہے، لیکن وہ بے تحاشہ سرمایہ مانگتی ہے ۔ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک نے پبلک ٹرانسپورٹ کے تمام اختیارات کو ایک ساتھ آگے بڑھایا ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ ہمارے ملک میں بھی جلد ہی ایک بہتر پبلک ٹرانسپورٹ نظام فروغ پائے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔