بی جے پی کے لئے پنگھٹ کی راہ ابھی کٹھن ہے آئندہ سال چار اسمبلی انتخابات ایک بڑا چیلنج

کسانوں کی تحریک حکومتِ ہند کے گلے کا پھانس بن گئی ہے ۔ نہ جائے رفتن، نہ پائے ماندن والا معاملہ ہے ۔ حکومت نئے زرعی قوانین پر کسانوں کے ساتھ دفعہ بہ دفعہ (;67;lause by clause) پر گفتگو کے لئے تیار ہے لیکن کسانوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ قوانین کی منسوخی سے کم پر کسی چیز کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اس پس منظر میں 2021 میں مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو اور کرالا کے اسمبلی انتخابات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں ۔ اگر ان انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوئی تو اس کے اثرات آئندہ لوک سبھا انتخابات پر پڑیں گے ۔ ان حقائق کے پیش نظر بی جے پی نے مغربی بنگال، آسام، کرالا اور تمل ناڈو میں اپنی سرگرمیوں میں اچانک اضافہ کردیا ہے ۔ وہ کسی بھی طرح سے بنگال ’’فتح‘‘ کرنا چاہتی ہے ۔ اُس کا دعویٰ ہے کہ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات میں 200 سے زیادہ سیٹوں پر اُس کا قبضہ ہوگا ۔ ابھی سے مغربی بنگال میں صدر راج نافذ کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔ حال میں بی جے پی صدر جے پی نڈّا کے کنوائے پر حملہ کو لے کر بی جے پی نے ممتا حکومت کے خلاف اپنے دہانے کھول دیئے ہیں ۔ وزیر داخلہ امیت شاہ ایک بار پھر بنگال کے دورے پر آ رہے ہیں ۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت پہلے ہی بنگال کا دورہ کرچکے ہیں ۔ بی جے پی مغربی بنگال میں عملاً دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری ہے جبکہ ترنمول کانگریس میں سب خیریت نہیں ہے ۔ اس کے ہیوی ویٹ لیڈر شبھندو ادھیکاری نے بغاوت کردی ہے ۔ وہ کسی بھی وقت بی جے پی کا دامن تھام سکتے ہیں ۔ کئی ترنمول کانگریس لیڈروں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے تو کئی پر تول رہے ہیں ۔ بی جے پی کے مقابلے میں کانگریس تھکی ہاری بیٹھی ہے اور لیفٹ سے اب تک اتحاد نہیں قائم کرسکی ہے ۔ آسام میں بھی عظیم سیکولر اتحاد کے خدو خال نمایاں نہیں ہوسکے ہیں ۔ آسام میں بی جے پی ازحد سرگرم ہے اور اپنا اقتدار بچانے کے لئے کسی حد تک جاسکتی ہے ۔ جہاں تک کرالا کا تعلق ہے تو اگرچہ بی جے پی کا مقام وہاں تیسرے درجہ کا ہے تاہم ریاست میں مسلم لیگ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور سی پی ایم کی سربراہی والے اتحاد کی حکومت بدعنوانی کے الزام سے جوجھ رہی ہے ۔ بی جے پی اس خلاء کا فائدہ اُٹھا سکتی ہے ۔ بی جے پی عیسائی مذہبی رہنماءوں پر بھی ڈورے ڈال رہی ہے ۔ بہرحال تمل ناڈو میں بی جے پی کی دال گلتی نظر نہیں آ رہی ہے ۔ بی جے پی نے 2021 کے اسمبلی انتخابات جیتنے کے لئے جو یاترا نکالی اس کی ہوا خود اتحادی اے آئی اے ڈی ایم کے نے نکال دی ۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں تمل ناڈو میں بی جے پی کی کاکردگی کچھ خاص نہیں رہی ۔ ان حالات میں اے آئی اے ڈی ایم کے بہت زیادہ سیٹیں بی جے پی کو مختص نہیں کرے گی ۔ اگر بی جے پی نے رجنی کانتھ کے ساتھ اتحاد قائم کیا تو یہ ہر حال میں اندیشہ ناک ہوگا ۔ پھر بی جے پی کے اپروچ میں تضادات بھی ہیں ۔ وہ بنگال میں شہریت ترمیمی قانون نافذ کرنے کے لئے اُتاولی ہو رہی ہے تو آسام میں ’’غلطیوں سے پاک‘‘ قومی شہریت رجسٹر بنانے کی خوشخبری سنا رہی ہے ۔ ویسے بھی جب سے بی جے پی نے آسام پر قبضہ کیا ہے اس کی مجموعی کارکردگی سوالوں کے گھیرے میں رہی ہے ۔ ان حالات میں بجا طور سے کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کے لئے پنگھٹ کی راہ بہت کٹھن ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔