مسلم ووٹوں کی تقسیم کےلئے بی جے پی کروڑوں روپے خرچ کرکے حیدرآباد کی پارٹی کو بنگال میں لارہی ہے:ممتا بنرجی

کلکتہ 16دسمبر)
مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں اسدالدین اویسی کی جماعت کے انتخابات میں حصہ لینے کے امکانات پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی مغربی بنگال میں انتخابات جیتنے کےلئے کروڑوں روپے خرچ کرکے ’حیدارآبادکی ایک سیاسی پارٹی ‘کو لارہی ہے تاکہ مسلم ووٹوں کی بدولت انتخابات میں کامیابی حاصل کی جاسکے۔
اسد الدین اویسی کی قیادت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے بہار اسمبلی انتخابات میںپانچ سیٹیں جیتنے کے بعد اگلے سال ہونے والے بنگال انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔اویسی کی جماعت نے بنگال سے متصل علاقے میں ہی کامیابی حاصل کی ہے ۔شمالی بنگال میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ بہار کے حالیہ انتخابات میں بی جے پی نے مسلم ووٹوں کی تقسیم کےلئے اویسی لے کر آئی تھی اور اب بنگال میں بھی اپنی بی ٹیم کو اتارنے کےلئے کروڑوں روپے خرچ کررہی ہے ۔
مغربی بنگال میں سیاسی جماعتوں کو خدشہ ہے کہ بنگال کی سیاست کو فرقہ واریت کرنے کی وجہ سے غیر بی جے پی جماعتوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتاہے اور اویسی کی آمد کی وجہ سے حالات بی جے پی کےلئے سازگار ہوجائیں گے اور بی جے پی اویسی کے نام پر ہندو ووٹوں کو پولرائز زیادہ آسانی کرسکتی ہے
مغربی بنگال میں 110سیٹوں پر مسلم ووٹرس فیصلہ کن پوزیشن میں ہے ۔2019تک مسلمانوں نے یک طرفہ ترنمول کانگریس کو ووٹ دیا ہے ۔ترنمول کانگریس نے بھی مسلم ووٹ کی بدولت سیاسی حریف پر سبقت حاصل کی ہے مگر اب ترنمول کانگریس کو خدشہ ہے کہ ایم آئی ایم کے امیدوار اتارے جانے کی وجہ سے بنگال کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوسکتا ہے و۔اگلے سال اپریل اور مئی میں مغربی بنگال اسمبلی میں انتخابات ہونے کا امکان ہے۔(یواین آئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔