سادھوی پرگیہ ٹھاکر کی بدزبانی اور لن ترانی مغربی بنگال میں ’’ہندو ساشن‘‘ آئے گا

آئندہ سال مئی میں ہونے والے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے بی جے پی کے ہرلیڈر نے اپنے منہ کے دہانے کھول دیئے ہیں ۔ مغربی بنگال کے انچارج اور جنرل سکریٹری وجئے ورگیہ کہہ رہے ہیں کہ بنگال میں مرکزی فورسیس تعینات کی جائیں تو پارٹی کے نائب صدر مُکل رائے ریاست میں صدر راج لگانے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ بہرحال ان سب لیڈروں میں سب سے گندی زبان سادھوی پرگیہ ٹھاکر استعمال کررہی ہے جو بابائے ملک مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو محبِّ وطن قرار دے چکی ہے ۔ پرگیہ نے پیشنگوئی کی ہے کہ بنگال میں جلد ہی ’’ہندو ساشن‘‘ ہوگا جبکہ ارضِ بنگالہ بے شمار سماجی مصلحین، معلّمین اور سائنس دانوں کی آغوش رہی ہے ۔ بنگال میں ہندو ساشن کی پیشنگوئی پولرائزیشن کو حد درجہ پستی میں لے جانے کی کوشش ہے ۔ پرگیہ نے مغربی بنگال کے تین کروڑ سے بھی زیادہ مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ مجموعی آبادی کا 30 فی صد حصّہ ہیں ۔
بھوپال سے بی جے پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والی پرگیہ ٹھاکر دہشت گردی کے واقعہ میں ملوث ہے ۔ پرگیہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی یہ جان کر پاگل ہوگئی ہیں کہ ہندستان کے لوگ (ہندو) ملک کو بچانے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ سنیچر کو مدھیہ پردیش کے سیہود میں ایک جلسہ میں شرکت کرنے کے بعد گزشتہ جمعرات کو بنگال میں بی جے پی صدر جے پی نڈّا کے کنوائے پر حملے کے سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے یہ باتیں کہیں ۔ ایک ویڈیو میں پرگیہ کو یہ کہتے سُنا گیا کہ ’’وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پاگل ہوگئی ہیں ، تلملا گئی ہیں ، بوکھلا گئی ہیں ۔ اُسے سمجھ میں آگیا ہے کہ یہ بھارت ہے، پاکستان نہیں جس پر وہ ساشن (حکومت) کررہی ہیں ۔ ‘‘ پرگیہ نے کہا کہ ’’یہ بھارت ہے اور بھارت کی رکشا کرنے کے لئے بھارت کے لوگ تیّار ہوچکے ہیں ۔ ہندو تیار ہوچکا ہے اور وہ منہ توڑ جواب دے گا ۔ ‘‘ پرگیہ نے مزید کہا کہ ’’بنگال میں بی جے پی کا ساشن آئے گا، ہندوءوں کا ساشن آئے گا ۔ ‘‘ پرگیہ نے آگے بڑھ کر کہا ’’چھتری کو چھتری کہیں وہ بُرا نہیں مانتا، برہمن کو برہمن کہیں وہ بُرا نہیں مانتا لیکن شُدر کو شُدر کہیں تو وہ پسند نہیں کرتا اس لئے کہ وہ مورکھ ہے اور نہیں سمجھ پاتا ۔ ‘‘
بی جے پی نے پرگیہ ٹھاکر کے تبصرہ پر کوئی ردِّ عمل ظاہر کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ مدھیہ پردیش کے انچارج پی مرلی دھر راءو نے پرگیہ کے تعلق سے خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔ یاد ہوگا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے پرگیہ ٹھاکر نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو محبِّ وطن قرار دیا تھا جس پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کبھی پرگیہ کو معاف نہیں کریں گے ۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پرگیہ کے خلاف ڈسپلنیری کارروائی کریں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ پارٹی لیڈروں نے دعویٰ کیا کہ تحریری معافی نامہ کے بعد اُسے چھوڑ دیا گیا ۔
بی جے پی میں صرف پرگیہ ٹھاکر ہی اپنی بدزبانی کے لئے مشہور نہیں ہے ۔ گری راج کشور اور پرویش ورما جیسے لیڈران بھی آئے دن مسلمانوں کے خلاف زبان درازی کرتے رہتے ہیں ۔ وزیر اعظم مودی، امت شاہ اور پارٹی کے دوسرے لیڈران ان چھُٹ بھیّوں کی گوشمالی کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔ ایسے چھُیٹرے لیڈران جمہوریت کی پشت میں خنجر گھونپنے کا کام کرتے ہیں لیکن اُن کی سرزنش کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ ممتا بنرجی کو بی جے پی کی اس یورش کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔ مقابلہ سخت ہے اور جان عزیز والا معاملہ ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔