لو جہاد قانون اور مسلم نوجوان

مکرمی: کچھ دنوں پہلے سماجوادی پارٹی کے ایک لیڈر اےس ٹی حسن نے لو جہاد قانون کو لےکر ایک بیان مےں کہا تھا کہ یہ قانون مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے لئے ہے اس لئے مسلم نوجوانوں کو ہندووَں کی لڑکیوں کو اپنی بہن سمجھنا چاہیے اور ان سے محبت کے چکر مےں نہیں پڑنا چاہیے ،یہ بیان بہرحال انہونے کافی سوچ سمجھ کر اور موجودہ حالات کو دےکھتے ہوئے دیا ہوگا ،یہ حقیقت ہے کہ اسلام مےں لو جہاد جےسی کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ اسلام کسی بھی طرح کے دھوکہ دےنے کے خلاف ہے جبکہ لو جہاد تو پوری طرح سے دھوکہ دےنا ہی ہوتا ہے ،جب سے یوپی مےں لو جہاد کو لےکر قانون بنا ہے تبھی سے اس معاملے مےں مسلم نوجوانوں کے خلاف کئی جگہوں پر مقدمے درج ہوئے اور گرفتار بھی کئی نوجوانوں کو کیا گیا ،ہم اس بحث مےں نہیں پڑتے کہ کیا وہ نوجوان لو جہاد جےسی کسی برائی کو انجام دے رہے تھے یا پھر ان کو نشانہ بنایا گیا وہ بے قصور تھے یا ان کا قصور تھا اس سے الگ موجودہ وقت مےں مسلم نوجوانوں کو بےدار ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ وقت ان کے لئے کافی نازک ہے اور فرقہ پرست لوگ اس قانون کا غلط استعمال بھی ان کے خلاف کرنے مےں کوئی کمی باقی نہیں رکھےں گے ،اےسے مےں مسلم نوجوانوں کو لو جہاد کا نام جس برائی کو دیا گیا ہے اس سے بچنے کی ضرورت ہے اور یہاں ایک بڑی ذمہ داری بچوں کے والدین پر بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر طرح سے خیال رکھےں اور ان کو اس طرح کی برائی کے بارے مےں بتائےں تاکہ مسلم نوجوانوں کو لو جہاد جےسے غلط کاموں سے بچایا جا سکے ،اس مےں علماء بھی کافی قابل تعریف کردار ادا کر سکتے ہےں وہ ہر مذہبی پروگرام سے لےکر اپنی تحریروں مےں بھی اس برائی کے خلاف مسلم نوجوانو ں کو روکےں اور ان کو صحیح اور غلط کے بارے مےں سنجیدگی سے بتا کر ان کا مستقبل خراب ہونے سے بچائےں ،دوسری طرف مسلمانوں کے تعلق سے جو غلط فہمیاں غےر مسلموں مےں پھےلی ہوئی ہےں یا پھر پھےلا دی گئی ہےں ان کو دور کرنے کی بھی کوشش کی جانی چاہیے کیونکہ اےسا کرنا بھی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔
شبلی رامپوری،رامپور منیہاران،سہارنپور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔