امیر خاندانوں میں لڑکیوں کی پیدائش روکنے کا رجحان بڑھ رہا ہے

قانون اور شعوربیداری مہم اپنی جگہ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان میں چنندہ اسقاط حمل کی وجہ سے سال ۰۸۹۱ء اور ۰۱۰۲ء کے درمیان 4;46;52 سے 12;46;51 ملین لڑکیوں کو پیدا ہونے سے روک دیا گیا ۔ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ۰۹۹۱ء کے دہے میں لڑکیوں کی پیدائش روکنے کے لئے زیادہ تعداد میں اسقاط حمل ہوئے تھے ۔ خاص کر پہلی لڑکی کی پیدائش کے بعد ہندوستان میں لڑکیوں کی پیدائش روکنے کے لئے اسقاط حمل کرائے جارہے ہیں ۔ اسٹڈی سروے میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کی پیدائش روکنے کے لئے حمل گرانے کا رجحان جاری ہے ۔ ۱۱۰۲ء کی مردم شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھ سال عمر تک کے زمرہ میں لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیوں کی تعداد لگ بھگ 7;46;1 ملین کم ہوگئی جبکہ ۱۰۰۲ء کی مردم شماری سے ظاہر ہوا تھا کہ لڑکیوں کی تعداد چھ ملین کم ہوگئی ۔ ۱۹۹۱ء کی مردم شماری بتاتی ہے کہ لڑکیوں کی پیدائش میں 4;46;52 ملین کی کمی ہوئی ۔ بغیر پڑھے لکھے اور غریب تر خاندانوں کی بہ نسبت بہتر تعلیم پانے والے اور امیر گھرانوں میں لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیوں کی پیدائش میں کمی کا رجحان زیادہ ہے، اس کی وجہ واضح ہے کہ تعلیم یافتہ اور امیر گھرانوں کی حاملہ خواتین ہی ماقبل پیدائش جنس معلوم کرنے کا ٹسٹ کراتی ہیں اور جیسے ہی پتہ چلتا ہے کہ لڑکی پیدا ہونے والی ہے تو اسے ماں کی کوکھ میں ہی ختم کر دیا جاتا ہے ۔ پچھلی تین مردم شماری رپورٹوں کے جائزہ لینے کے ساتھ کئے گئے سروے میں کہا گیا ہے کہ پہلی لڑکی کی پیدائش کے بعد ہی دوسری پیدائش کے مرحلہ میں ہی لڑکیوں کی پیدائش کو روکنے کا رجحان عام ہے، سروے رپورٹ کی تیاری اور اس کی اشاعت کے سلسلہ میں سابق رجسٹرار جنرل آف انڈیا ڈی جینت کے بانتیا اور پربھات جھا نے اہم رول ادا کیا تھا ۔ اسٹڈی سروے میں کہا گیا کہ لڑکی لڑکے کا تناسب ۰۹۹۱ء میں فی ہزار ۶۰۹ تھا جو ۵۰۰۲ء میں گھٹ کر فی ہزار ۶۳۸ رہ گیا ۔ اس طرح سالانہ کمی صفر اعشاریہ پانچ دو فیصد رہی یہ گراوٹ زیادہ تر دس ویں کلاس یا اس سے زیادہ تعلیم یافتہ ماؤں کے خاندانوں میں ہوئی، جہاں تعلیم نہیں وہاں بیٹیوں کی پیدائش روکنے کا کوئی رجحان نہیں پایا گیا ۔ غریب ترین خاندانوں میں اسقاط حمل کا کوئی واقعہ نہیں ہوتا جبکہ دولت مند گھرانوں میں ہی ایسے واقعات ہوتے ہیں اور ان کی غرض و غایت لڑکیوں کی پیدائش روکنی ہوتی ہے ۔ اسٹڈی میں کہا گیا ہے کہ اگر کہیں پہلا لڑکا پیدا ہوتا ہے تو وہاں دوسری پیدائش چاہے وہ لڑکی کی ہی کیوں نہ ہو روکنے کی کوشش نہیں کی جاتی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم یافتہ اور دولت مند گھرانوں میں مخصوص اسقاط حمل کا رجحان ہے، یعنی پہلی لڑکی تولد ہوئی ہو تو دوسری لڑکی نہیں چاہئے ۔ سروے میں نشاندہی کی گئی کہ جنس معلوم کرکے حمل ساقط کرنے کو قانونی طور پر جرم قرار دیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں قانون نافذ کیا جاچکا ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دن کے اجالے میں قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں یہی حال جنس معلوم کرکے اسقاط حمل کرنے کی روک تھام کے لئے بنائے گئے قانون کا بھی ہورہا ہے ۔ یہ بات حکومت کی سطح پر بہت زور و شور سے کہی جاتی ہے کہ جنس معلوم کرنے کی تکنیک کا بیجا استعمال نہیں ہونا چاہئے حالانکہ اس تکنیک کا استعمال لڑکیوں کو ماں کی کوکھ میں ہی ختم کرنے کے لئے ہورہا ہے، قانون کے تحت ایسے طبی مراکز اور طبی عملہ کے خلاف فوجداری کارروائی کی گنجائش ہے، لیکن میڈیا میں ایسی ایک بھی اطلاع ہو تو بتائے کہ حکام نے ایسے قصوروار اداروں اور افراد کے خلاف کوئی کارروائی کی ہو ۔ ماں کی کوکھ میں لڑکی کا قتل مستقبل کی ماں اور مستقبل کی بہن کا قتل ہے ۔ ہندوستان ہمہ مذہبی ملک ہے اور ہر مذہب میں عورت کا احترام ہے، اسلام تو بتاتا ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے، ایک بیٹی کی پرورش اور اچھی جگہ نکاح کرنے والے ماں باپ کو جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑوس نصیب ہوگا، گھروں میں کوئی بھی چیز تقسیم کرنا ہو تو اُس کی شروعات بیٹی سے کرنے کا حکم ہے، علم عمل کو پکار رہا ہے، قانون عمل آوری کو آواز دے رہا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔