حضرت محبوب اِلٰہی نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ

ریاض فردوسی۔9968012976
نہا ںہے تیری محبت میں رنگ محبوبی ، بڑی ہے شان ،بڑا احترام ہے تیرا
(علامہ اقبال کی نظم التجائے مسافر سے ماخوذ)

تاریخ ولادت۔636ھ۔بدایوں۔ تاریخ وفات ۔725ھ ۔دہلی۔ایک اندازے کے مطابق۔
آپ ؒکاخاندانی نام سید’ محمد ‘والد محترم سید احمد بخاری مادرگرامی بی بی زلیخا ۔ اپنے پیر مرشد حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکّر رحمتہ اللہ کی طرح پانچ سال کی عمر میں یتیم ہوگئے،آپ رحمتہ اللہ کے اباواجداد کا تعلق خا ندان سادات سے تھا۔سولہ سال کی عمر میں دہلی تشریف لائے اپنے وقت کے فاضل ترین اساتذہ سے حدیث،فقہ،ہیت،اصول،تفسیراور علم ہندسہ کی تعلیم حاصل کی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں اپنے علم کی وسعت اور قوت استدلال کے سبب ’محفل شکن‘ کہلائے اور نوجوانی ہی میں تمام علمائے ہند پر سبقت لے گئے۔عوام میں آپ رحمتہ اللہ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ قیامت تک کے لئے محبوبِ اِالہٰی قرار پائے۔سلطان علا ءالدین خلجی جیسا باجبروت حکمراں زندگی بھر حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ کی زیارت کے لئے ترستا رہا۔مگر آپ نے اسے ملاقات کا شرف نہیں بخشا۔ ۔ آپ کے ابا واجداد طویل عرصے سے بخارا میں مقیم رہے۔مشہور مورخ قاضی خان کی روایت کی مطابق حضرت سید احمد حضرت خواجہ عثمان ہرونی رحمتہ اللہ کے مرید اور خلیفہ تھے۔۔آپ کا خاندان ہندستان کی طرف روانہ ہوا۔ کچھ دنوں تک آپ کا خاندان لاہور میں مقیم رہااور پھر بدایوں میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ آپ کے والد کے انتقال کے بعد گھر کی حا لت بہت زیادہ خراب ہو گئی۔آپ کی والدہ سوت کا نتیں اور پھر اسے ملازمہ کے ہا تھ سے فروخت کر ا دیتیں۔۔
اس طرح جو کچھ رقم حاصل ہو تی اس سے گزر اوقات کر تیں۔ یہ آمدنی اتنی قلیل ہو تی کہ معمولی غذاکے سوا کچھ ہا تھ نہ آتا۔ تنگ دستی کا یہ حال تھا کہ شدیدمحنت کے با وجود ہفتے میں ایک فاقہ ضرور ہو جا تا۔ جس روز فاقہ ہو تا اور حضرت نظام الد ین اولیاءمادر گرامی سے کھانا مانگتے تو حضرت بی بی زلیخا بڑے زخوشگوار انداز میں فر ما تیں! ’بابا نظام ‘ آج ہم سب اللہ کے مہمان ہیں۔حضرت بی بی زلیخا کہتی ہیں کہ میں جس روز سید محمد کو بتاتی کہ آج ہم لوگ اللہ کے مہمان ہیں تو وہ بہت خوش ہو تے اور سارا دن فاقے کی حالت میں گزر جا تا مگر وہ ایک بار بھی کھانے میں کو ئی چیز طلب نہ کر تے اور اس طر ح مطمئن رہتے کہ اللہ کی مہمانی کا ذکر سن کر انہیں دنیا کی ہر نعمت سیر آگئی ہو۔پھر دوسرے دن کھانے کا انتظام ہو جا تا تو حضرت نظام الدین اولیاءاپنی محترمہ ماں کی حضور عرض کر تے ! مادر گرامی اب ہم کس روز اللہ کے مہمان بنیں گئے،والدہ محترمہ جواب دیتی۔بابا نظام ! یہ تو اللہ کی مر ضی پر منحرف ہے۔وہ کسی کا محتاج نہیں ۔دنیا کی ہر شئے اس کی وسعت کے آگے سر نگو اور دست نگر ہے۔ وہ جب بھی چاہے گا تمہیں اپنا مہمان بنالے گا۔حضرت نظام الدین اولیا ءما در گرامی کی زبان سے وضاحت سن کر خاموش ہو جاتے اور پھر نہایت سر شاری کے عالم میں یہ دعا ما نگتے۔اے اللہ ! تواپنے بندوں کو روزانہ اپنا مہمان بنا۔اللہ کی مہمانی کاواضح مطلب یہی تھا کہ اس روز فاقہ کشی کی حالت سے دوچار ہونا پڑے گا۔پا نچ سال کی عمر میں یہ دعا یہ خواہش اور یہ آرزو اہل دنیا کو یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوگی۔ مگر وہ جنہیں اس کا ئنات کا حقیقی شعور بخشا اور جن کے دل ودماغ کو کشادہ کر دیا گیا وہ اس راز سے باخبر ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا تھا اور حضرت نظام الدین اولیاءانتہائی کم سن کے عالم میں اللہ کا مہمان بننے کی آرزو کیوں رکھتے تھے۔ علامہ اقبالؒ نے گھر ما حول،گھر کی تربیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:
مری مشّاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو
کہ فطرت خودبخود کر تی ہے لالے کی حنا بندی
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کر امت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آداب فرزندی
شروع میں آپ کی تعلیم مولا نا شادی مقری جو بدایوں کے ہی رہنے والے تھے، دستِ شفقت سے ہوئی۔نظام الدین اولیائؒ نے دس سال کی عمر میںہی قرآن پاک حفظ کر لیا ۔اس کے علا وہ دیگر مذہبی علوم کی کتابیں مولا ناموصول سے ہی پڑھی۔۲۱ سال کی عمرمیں ہی’ قدوری ‘ جیسی عظیم کتاب جو اما م ’ احمد بن محمد‘ کی عظیم تصنیف ہے، اس کو مکمل کر لیا۔ مو لا نا علاءالدین اصولی رحمتہ اللہ سے’ قدوری‘ پڑھی۔ ’ قدوری ‘ فقہ حنفیہ کی اس قدر جا مع کتاب ہے کہ تقریبا ایک ہزار سال گزر جا نے کے بعد بھی اس کی عظمت و انفرادیت میں کو ئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ حضرت نظام الدین اولیائؒ بدایوں کے علماءاور بزرگوں سے اکتساب علم کر چکے تومزید تعلیم حاصل کر نے کے لئے اپنی والدہ کے ہمراہ دہلی روانہ ہو ئے۔ یہ ۱۴۶ ھ کا زمانہ تھا۔نظام الدین اولیائؒ نے مولا نا شمس الدین خوارزمیؒ سے علمی، دینی، دنیاوی، روحانی تعلیمات حاصل کی۔عام اندازہ ہے کہ حضرت نظام الدین اولیا ءنے مولا نا شمس الدین خوارزمیؒ سے کم وبیش دو سال تک مختلف علوم حا صل کئے۔اس دوران آپؒ نے عربی زبا ن میں مہارت حاصل کر لی تھی اور شعرو ادب کے رموز نکات بھی آپ پر منکشف ہوگئے تھے،حضرت نظام الدین اولیائؒ کے حافظے کا یہ عالم تھا کہ آپ ؒ نے مقامات حر یری کے چالیس مقالے حفظ کر لئے ۔یہ عربی زبان کی ایک بے مثل اور مشکل ترین کتا ب ہے۔ ’مقامات حر یری ‘ کی عبا رت اس قدر مسجع اور مقضیٰ ہے کہ غیر عرب کے لئے اس کاپڑھنا ہی ایک کا رِدشوار ہے ، مگر حضرت نظام الدین اولیائؒ کو اللہ نے بیدارذہن وعقلِ سلیم کی بے مثل دولت نایاب عطا کی تھی کہ مختصر سے وقت میں سینکڑوں صفحات یاد کر لئے، پھر جب آپ کسی مجلس میں ’مقامات حریری‘ کا کوئی حوالہ پیش کر تے تو سامعےن کو یوں محسوس ہوتا جیسے آپ ؒ چشمِ دیدسے کتاب کے صفحات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ دوسرے طالبِ علم اس سے کم ہی استفادہ کر پاتے ہیں ۔صرف اٹھارہ سال کی عمر میں دہلی میں کو ئی ایساشخص نہ تھا۔ جو آپ ؒ کے علم کے مقابلے میں ہو۔آپؒ نے قلےل مدت میں ہی دینی و دنیاوی علموں پردسترس حاصل کر لی۔اس کے بعد دین کی تبلیغ و اشاعت وعظ و نصیحت کے ذریعے شروع کی، آپ نے اپنے علم وعمل سے قوم و ملت کی بہت خدمت کی ، آپ کی خانقاہ ہر کس اور نا کس کی جائے پناہ تھی۔قیام و طعام کا معقول انتظام تھا،سائل کی دادرسی کی جاتی، غریب و امیر ، ہندو مسلم کا کوئی امتیاز نہ تھا ،اخلاق کی تعلیم آپ کے درس کا پہلا سبق ہوتا ۔وعظ بہت مختصر لےکن جامع ہوتا تھا ۔پند و نصیحت میں ہمیشہ حقوق العباد کی تلقین فرماتے۔اےک بار آپ عبادت میں مشغول میںتھے،اور آپ کا اےک مرےد جو لوگوںکو پانی پلانے پر معمور تھا ،اس نے جب آپ کو عبادت کرتے دےکھا تو پانی پلانا چھوڑکر خوب اللہ اللہ کرنے لگا،آپ نے فرماےا کےوں شور کر رہے ہو،اس نے کہا حضور آپ عبادت میں مشغول تھے ،میں آپ کی اتباع کررہا ہوں ، آپ نے فرمایا©© ۔میرایہ کام ہے،آپ کا وہ کام ہے۔( ےعنی خدمت خلق تمہارے لئے بہتر ہے) لوگوں کی عیب جوئی نہ کرتے۔اگر کوئی کسی کے متعلق کچھ شکایت کرنا چاہتا تو نرمی کے ساتھ منع فرما دےتے۔کبھی اپنی ذات کو پیش نہ کرتے ۔شریعت کا خوب خیال رکھتے۔ مریدوں کولوگوں کے طعام کے انتظام پر معمور کرتے۔ ایک اندازے کے مطابق 1500 آدمیوں کھانا روز بنتا تھا۔ ا ٓپ ؒ لوگوں کی بلا تفریق مذہب وملت مدد کر تے،خواص کے تحفے وطوائف ضرورت مند میں تقسیم کر دیتے۔آپ نے اپنے لئے کو ئی سامان جمع نہیں کیا، خود بھی کئی کئی دنوں کا روزہ ہوتا اور مریدوں کوبھی اس کی تلقین کر تے۔لوگوں کی بد کلامیوں اور الزام تراشیوں پر صبر کرتے۔ ذاتی بغض و عداوت سے دل ودماغ کو پاک وصاف رکھتے ۔حاکمِ وقت کے سامنے اپنی ذاتی اغراض کے لئے دست دراز نہ ہوتے ۔لوگوں کے سامنے علم کی نمائش نہ کرتے۔کوئی بات طبیعت کے خلاف بھی ہو تو اس پر کسی کی دل شکنی نہ کرتے، بلکہ خاموشی اختیار کرلیتے۔ غربہ ومساکین سے بہت لگاﺅ رکھتے ،ان کو اپنے پاس بیٹھاتے۔ امراءو سلاطین سے دور رہتے ۔آپ نے کشف و کر امت یا اُن کی نمائش پر توجہ مرکوز نہ کی،بلکہ قرآن و حدیث ،فقہ و تفسیر کے ذریعہ لو گو ں کی اصلاح کی، معمولی لباس زیب تن فرماتے،جو نہا یت ہی صاف ستھراہوتا، نعلین مبارک بھی تصنع سے مبرا ہو تی۔ آپ کو سادگی پسند تھی۔آپ نے تصوف کے رموز کو سمجھاتے ہوئے فرمایا: ’کہ اگر کسی نے تیری ایذا کے لئے راستے میں کانٹے رکھے ہیں تو تُو اسے راستے سے ہٹا دے اگر تُو نے بھی اس کے جواب میں اس کے راستے میں کانٹے رکھے تُو دنیا میں کانٹے ہی کا نٹے ہو جائیں گے‘۔آپ نے اپنے پیر مرشد بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ کے ملفوظات کو ’ راحت القلو ب ‘ کے نا م سے جمع کیا ، اس کے علاہ فوائدالفواد،فصل الفواد،راحت المحبین اور سیراولیاءکے نام سے آپ ؒ کی چار تصانیف ہیں۔آپ کے خاص شاگردوں میں امیر خسروؒ،رفیع الدین ہا رونؒ،سید حسین کرمانیؒ،سید محمد امام رحمتہ اللہ،خواجہ امیر حسن سنجری رحمتہ اللہ کے نام ملتے ہیں۔بیس سال کی عمر میں ہی آپ کو پیر مر شد نے خلافت عطا کی تھی، آپ کی بزرگی و خدا ترسی نے پورے ملک میں ہمہ گیر اخلاقی و اسلا می انقلاب بپاکر دیا تھا ،غربہ و مساکین کے لئے آپ کا درہمےشہ کھلا رہتا۔آپ کی پوری زندگی انسانیت کے لئے وقف تھی۔بہترین مہمان نواز تھے۔ آپ کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ دورِحاضر کے پےران سلاسل جنہوں نے’ متاع ِغرور‘ کو فانی لززتوں کی خاطرفروخت کر دیا ہے، بزرگوں کے نام کا سودا کےا ،انکی روایات سے منہ موڑ کر،اپنے کو،عوام الناس کو ،حاکم وقت کے ہاتھوں چند سکوں کے لئے نیلام کیا (اِ
لا ما شا ءاللہ)کیا وہ بھول گئے آخرت قائم ہوگی اور اللہ کوانہیںاپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔اللہ جلد ہی احتساب کرنے والا ہے۔ دور حاضر میں عرس اور دیگر موقع پر ا ن بزرگوںکے نام پر جس طرح وصولی کی جاتی ہے، سجدئہ تعظیمی کے نام پر شریعت کا مزاق بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ کیا ان ہی سب چیزوں کے لئے ہمارے اکابرین ؒنے اپنے خون و جگر کی قربانی دی تھی؟ ان پاک اور سعید لوگوں نے پوری زندگی اللہ کے دین کی لئے وقف کر دیا ،کیاان کی قربانیوں کا یہی سلا ہے؟
ہمارے اکابرین کی دن و رات کی محنت کا بڑا ہی سستہ سودا (ان ایمان فروشوں )نے قبر پرستی کے نام پر کررکھا ہے۔روایت بنا دی ہے کہ والد کے انتقال کے بعد فرزند ہی سجادگی کا وارث ہوگا ۔اگرچہ فرزند جاہل اور دینی مسائل سے نا واقف ہو۔ایسا پیر جو راہ سلوک کے رموز اور نکات نہ جانتا ہو ،وہ کیسے کسی کی اصلاح کر سکتا ہے ؟ دراصل یہ روش سیدنا امیر معاویہ ؓ کی دین ہے،جس کی اقتدا دورِ جدید کی خانقاہوں نے کی ہے،صحیح معنوں میں ےزید کے اسلی پیرو کاراس دور کا خانقاہی نظام کے لوگ ہےں۔ صرف محفل سماع سے ہی ہمارے بزرگوں نے اصلاح نہیں کی،بلکہ عملی نمونہ بھی پیش کیا ۔چاروں سلالسل کے بزرگوں نے عوام وخواص کوکبھی سجدہ¿ تعظیمی کے لئے ترغیب نہیںدیا ۔دور حاضر کے خانقاہی نظام نے دین کاتماشہ بنا دیا ہے(الا ماشاءاللہ)بادشاہی نظام قائم کردیا ہے۔سیدناشیخ مخدوم شرف الدین بہاری ؒ صوفیوں کا سجنا سنورنا ، اگر صرف لوگوں کے سامنے اپنی بزرگی کا رعب پیش کرنا ہو
(جبہ،دستار،شیروانی وغیرہ)منع فرمایا ہے۔اور ایسے صوفیوں کو طوائف کے مثل تعبیر دیا ہے(مکتوبات سے ماخوذ) ذرا بڑھ کر کوئی منصور کو آواز دے دےتا ، نہیں گونجا فضا میں نعرئہ مستانہ برسوں سے
غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی ، شائد کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ
یہ بندگی گدائی، وہ بندگی خدائی ، یا بندئے خدا بن ،یا بندئے زمانہ،
تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے،، کھویا گیا ہے تیرا جزبے قلندرانہ
نہ تخت و تاج میں ،نہ لشکر و سپاہ میں ہے، جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں اور مردِ حق ہے خلیل ، یہ نقطہ وہ ہے کہ پوشےدہ لا اِلہ میں ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔