شہریت ترمیمی ایکٹ ، این آر سی اور این پی آر کی شدید مخالفت کرتے ہوئےممتا بنرجی نے کہا کہ بنگال میں کسی بھی صورت میں انہیں نافذ نہیں دیا جائے

کلکتہ 9دسمبر(یواین آئی)شہریت ترمیمی ایکٹ ، این آر سی اور این پی آر کی شدید مخالفت کرتے ہوئے ایک بار پھر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ بنگال میں کسی بھی صورت میں انہیں نافذ نہیں دیا جائے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متواسماج اور ناموسدر سے تعلق رکھنے والا ہرفرد ہندوستانی شہری ہے اور انہیں کاغذدکھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مدنی پوراور بردوان میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کرنے کے بعد آج وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی شمالی 24پرگنہ کے گوپال نگر میں تھی۔ممتا بنرجی کی میٹنگ کی وجہ سے علاقے میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے ورکروں کے درمیان تنائو کاماحول تھا ۔متوا محل میں خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت کی سخت تنقید کرتےہوئے کہا کہ کچھ باہری لوگ بنگال کو یرغمال بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور میں انہیں کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔ خیال رہے کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر کیلاش وجے ورگی نے دو دن قبل کہا تھا کہ جنوری سے سی اے اے نافذ کیا جائے اور اس کی شروعات بنگال سے ہوگی ۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’میں این آر سی اور این پی آر نہیں کرنے دوںگی۔ میں اپنی ماں کی پیدائش کی تاریخ نہیں جانتی ہوں۔ آپ مجھے کہاں بتائیں گے؟ بنگال کو گجرات نہیں بنایا جائے گا۔ متوا اس اس ملک کے شہری ہیں۔ بنگال میںا نتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کےلئے بی جے پی کے ذریعہ بڑی تعداد میں مبصر کی حیثیت سے مرکزی لیڈران کو بنگال میں اتارے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ’وہ بیرونی ہیں ، وہ بنگالی نہیں ہیں۔ پیسوں کا لالچ دے کر ووٹروں کو خریدنے کی کوشش کی جاری ہے۔ شہریوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیوں کہ ان کے پاس سیاسی طور پرلڑنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ متوا ڈیو لپمنٹ بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے باگدی بوڑیوں کے لئے کام کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب بنگال میں ایس سی اور ایس ٹی سرٹیفکٹ بنانا آسان ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا ریاستی حکومت نے ہریش چند ٹھاکر کے یوم پیدائش تعطیل دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس کے علاوہ ہریش چند ٹھاکر یونیورسٹی قائم کیا گیا ہے ۔ گوپانگر سے ممتا بنرجی نے کہا کہ میں یہاں سے متوا سما ج اور دیگر رفیوجیوں کو پیغام دینا چاہتی کوہوں کہ ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کےلئے کسی کو بھی کوئی سرٹیفکٹ دکھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔میں بنگال کی وزیر اعلیٰ ہوں اور میں اعلان کررہی ہوں کہ کسی نئے سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔ ممتا بنرجی نے بی جے پی پر متواخاندان کو تقسیم کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ کی خاطر بی جے پی نے متوا سماج کو تقسم کردیا ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ تینو ں زرعی قوانین غیر اخلاقی ہیں ۔حکومت کسانوں کے ساتھ دھوکہ دے رہی ہے۔وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ تیسری مرتبہ اقتدار میںآنے کے بعد بھی مفت میں راشن دینے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں ان کی حکومت نے عوام تک فلاحی اسکیمیں پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔کنیا شری اور روپا شری اور دیگر اسکیمیں عوام کےلئے ہیں ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ جی ایس ٹی کے فنڈ سے 8500کروڑ روپے بقایا ہیں۔خیال رہے کہ 2019کے لوک سبھا انتخاب میں بن گائوں حلقے سے ترنمول کانگریس کے امیدوار ممتا بالا ٹھاکر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔