مہاراشٹر میں بی جے پی کو ایک اور صدمہ

جب پارٹی اقتدار میں نہیں رہتی تو اُس سے کتنے ہی لیڈروں کا دل اچاٹ ہوجاتا ہے ۔ جیسے پرندوں کو پھلدار درخت پسند آتے ہیں ویسے ہی سیاستدانوں کی پسند حکمراں پارٹی ہوا کرتی ہے ۔ مہاراشٹر میں بی جے پی اقتدار سے باہر ہے ۔ ایسے موقع پر پہلے سے ہی کئی لیڈر پارٹی کو الوداع کہہ رہے ہیں ۔ ایکناتھ کھڈسے کے بی جے پی چھوڑ کر این سی پی میں چلے جانے کے بعد بی جے پی کو ایک اور بڑا صدمہ پہنچا ہے ۔ آنجہانی گوپی ناتھ منڈے کے ساتھ مراٹھواڑا میں پارٹی تنظیم کو مضبوط بنانے والے جئے سنگھ راوَ گائیکواڈ پاٹل نے بی جے پی سے استعفیٰ دے دیا ۔ یہ یوں ہی نہیں ہوا ۔ جب نظر انداز کیا جانا ناقابل برداشت ہوجائے اور ایسا محسوس ہونے لگے کہ پارٹی میں قدر نہیں کی جارہی ہے تو کوئی بھی خود دار قائد ایسا قدم اٹھانے کے لئے مجبور ہوجاتا ہے ۔ جئے سنگھ راوَگائیکواڈ بیڑ سے ۳ مرتبہ رکن پارلیمنٹ رہے اور انہوں نے مرکز میں مملکتی وزیر فروغ انسانی وسائل کا عہدہ بھی سنبھالا تھا ۔ وہ بھارتیہ جن سنگھ کے دور سے پارٹی سے وابستہ تھے ۔ اس سے ان کی سینیارٹی سمجھی جاسکتی ہے ۔ وہ گریجویٹ حلقہ سے دو بار کونسل کے رکن بھی رہے ۔ جب اتنے تجربہ کار لیڈر اور قابل منتظم کو کوئی عہدہ یا ذمہ داری نہ دے کر حاشیہ پر رکھا جائے تو وہ پارٹی میں ٹکے گاہی کیوں ;238; اپنے والد کے معاون رہے گائیکواڈ کے بعد کہیں پنکجامنڈے بھی پارٹی نہ چھوڑ دیں ۔ پنکجا کا شیوتیرتھ پہنچ کر بال ٹھاکرے کی برسی پر خراج عقیدت پیش کرنا اور ان کے قریبی کا بی جے پی سے استعفیٰ دینا اشارہ دیتا ہے کہ پارٹی اب پرانے لیڈروں کو اپنے ساتھ رکھنے کے قابل نہیں رہ گئی ہے ۔ حال ہی میں پنکجا کے بی جے پی چھوڑ کر شیوسینا میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں ۔ جئے سنگھ گائیکواڈ کا درد یہ تھا کہ پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے ایک دہائی سے وہ ذمہ داری چاہ رہے تھے لیکن پارٹی انہیں کوئی موقع نہیں دے رہی تھی ۔ ایسے میں خود کو نظر انداز کئے جانے سے تنگ آکر انہوں نے بی جے پی کی ریاستی یونٹ اور ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ شمالی مہاراشٹر کے با اثر لیڈر ایکناتھ کھڈسے نے بھی کافی عرصہ صبر کرکے انتظار کیا، لیکن جب پوری طرح مایوس ہوگئے تو بی جے پی چھوڑ دی ۔ ان کا تصادم دیویندر پھڈنویس سے تھا ۔ ان پر گھوٹالے کا الزام عائد کرکے ان کی شبیہ بگاڑی گئی جبکہ الزام ثابت نہیں ہوسکے ۔ اُنہیں قائد اپوزیشن کے عہدہ سے بھی محروم رکھا گیا ۔ شمالی مہاراشٹر یا خاندیش سے آج تک ریاست کا ایک بھی چیف منسٹر نہیں بنا ۔ کھڈسے کی یہ تمنا پوری نہیں ہوسکی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔