کیکڑہ کھانا مکروہ ہے یا حرام

۔            نقاش نائطی
۔     +966594960485
تقریباً سترہ اٹھارہ سال، قبل سر زمین سعودی عرب الجبیل ہمارے رہایش گاہ،جامعہ اسلامیہ بھٹکل کا ایک وفد، المحترم ملا حسن صاحب اور مولوی عبد العليم قاسمی سمیت دیگر کئی ایک معزز مہمانوں کے ساتھ  ظہرانہ دعوت پر مدعو تهے. پرتکلف انتظام دعوت طعام کا ایک حصہ، سالم کیکڑے فرائے بہتریں انداز پر پیش کئے گئے تهے. ابتداء ہی میں کیکڑے پر نظر پڑتے ہی، مہمان قاسمی عالم زبانی کیکڑے  کھانا مکروہ ہے، بات آنے سے،کیکڑے کی پلیٹ پر، کسی کا ہاتھ نہیں جارہا تھا.ایک بے باک ساتهی نے یہ کہتے ہوئے کہ  مکروہ ہی ہے نا ! حرام تو نہیں ہے نا! کوئی بھی نہیں کھا رہا ہو تو ٹھیک ہے، ہم اکیلے ہی کیکڑے کھا جاتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کیکڑے کی پلیٹ اپنے نزدیک لیتے ہوئے کیکڑے پر ہاتھ صاف کرناشروع کردیا تھا۔اس کی دیکھا دیکھی دو ایک اور ساتھیوں نے کیکڑے کی پلیٹ صاف کرنے میں اس کا ساتھ دیا تھا۔
اس وقت موبائل کا زمانہ نہ تھا  پهر بهی شریک محفل کسی نے،  وطن عزیز بھٹکل، جماعت المسلمین، محکمہ شریعہ آفس، فون کرتے ہوئے، کیکڑے کھانے کے بارے میں  قاضی شہر، احمد خطیبی مدظلہ  سے فتوی شاید طلب کیا تھا، کہ یہاں مقامی وقت مغرب نماز بعد، باقاعدہ تحریری فتوہ فیکس ذریعہ یہاں پہنچ چکا تھا. آج واٹس آپ گروپ میں کسی بچے کے پوچھنے پرکہ کسی بزرگ کا کیکڑے کھانا مطلقا حرام قرار دیتے فتوے نے، اور مچھلی مارکیٹ میں بیچنے کے لئے  باندھ کر رکھے کیکڑے کی تصاویر نے، اس دو دیے قبل کے واقعہ کو اور  محترم مرحوم قاضی احمد خطیبی صاحب علیہ الرحمہ کے دئیے، کیکڑے کھانے کے فتوے کو ہمارے  ذہن کے پردہ سمین پر فلیش بیک دہراتے ہوئے،کیکڑے کھانے   کے سلسلے میں اسلام یا شریعت کیا کہتی ہے اسے عام افادیت کے لئے پیش کرنا ہم نے ضروری مانا ہے
المحترم احمد خطیبی صاحب مرحوم علیہ الرحمہ نے،اپنے اس وقت  دئیے فتوے میں،دو ٹوک الفاظ میں، معتبر کتب و فتاوی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ کیکڑے عموماً دو اقسام کے ہوتے ہیں.ایک سمندری کیکڑے جو پانی سے باہر نکالے جانے کے کچھ وقت بعد دم توڑ دیتے ہیں، ایسے  کیکڑے،اہل شوافع کے یہاں کھانا مطلقا”  حلال ہے. البتہ احناف کے یہاں مکروہ ہے. دوسری قسم کے دریائی کیکڑے ذرا بڑے سائز کے، جو میٹھے پانی کے دریاؤں میں پائے جاتے ہیں، جوشکار کر پانی سے باہر نکالے جانے کے باوجود، کافی وقت تک نہ صرف زندہ رہتے ہیں بلکہ اگر انہیں باندھ کر نہ رکھا جائے تو، ادھر ادھر چلتے چلتے، ہاتھ آئے شکار سے محروم بھی ہوسکتے ہیں، اسی لئے اس نوع کے میٹھے پانی کے دریائی کیکڑوں کو شکار کے بعد، مارکیٹ میں بیچنے کے لئے رکھتے ہوئے،باندھ کر رکھا جاتا ہے۔المحترم قاضی شہر  احمد خطیبی صاحب مدظلہ کے، اس وقت دئیے فتوے مطابق، ایسے شکار کر پانی سے باہر نکالے کافی دیر تک زندہ رہنے والے، میٹھے پانی والے دریاؤں والے کیکڑے شریعت کے اعتبار سے کھانے، ہم مسلمین کے لئے حرام ہیں
آج مارکیٹ میں باندھ کر بیچنے کے لئے رکھے کیکڑے کی تصاویر اور کیکڑے کھآنے کے بارے میں مطلقا” حرام بتائے گئے واٹس آپ سائبر میڈیا پر  گردش کرتے کلپ نے،   ہمیں  قاضی وقت آحمد خطیبی مرحوم علیہ الرحمہ  کا، دو دیے قبل دیا وہ فتوہ یاد دلا گیا ہے. سمندری کیکڑے اہل شوافع کے یہاں مطلقا حلال اور احناف کے صرف مکروہ ہیں البتہ جو کیکڑے  باندھ کر بیچنے کے لئے مارکیٹ میں رکھے جاتے ہیں اس کا  مطلب  پانی کےباہر کافی وقت زندہ رهتے ہیں اور خراماں خراماں چلتے ہوئے، انکے بھاگ جانے کا خطرہ بھی رہتا ہے، کیا ایسے دریائی  کیکڑے،  ہم مسلمانوں کے یہاں، عموما لاعلمی کے سبب شوق سے کھائے جاتے ہیں، کیا ایسے کیکڑوں کا  کھایا جاناجائز بھی ہے یا نہیں؟ علماء دین سے  تحقیق کرتے ہوئے کھائے جائیں تو بہت ہی اچھا ہے.
یہاں یہ بات بھی بتاتے چلیں سمندری کیکڑے نہ صرف بھارت میں ہزاروں سال سے مختلف مقامات پر بسے آئے، بھٹکل کرناٹک،مہاراشٹرا کونکن علاقے ، ٹمل ناڈ کے کلیکیری  میں آباد اہل نائط علاقوں میں کیکڑے نہ صرف شوق سے کھائے جاتے ہیں بلکہ کیکڑوں کے استعمال سے مردانہ جنسی قوت بڑھوتری و اسکی افادیت کے لحاظ سے عربوں میں بھی سمندری کیکڑے کھانے کا رواج عام ہے
 اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمارے سابق  قاضی محترم  احمد خطیبی مرحوم علیہ الرحمہ کی بال بال مغفرت فرمائے اور انہیں جنت کے اعلی مقام پر متمکن کرے اور ہمیں اللہ رب العزت کے ہم۔مسلمین پر حلال کی ہوئی تمام حلال رزق سے بھرپور استفادہ کی۔توفیق عطا فرمائے اور حرام کی ہوئی تمام آغذیہ سے بچنے کی توفیق دے  آمین ثم آمین.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔