مولانا اسرارالحق قاسمی:یادوں کی جھلکیاں

دسمبر مولانا اسرارالحق قاسمی ؒ کے یومِ وفات پر خاص مضمون
مولانانوشیراحمد
خادم خاص حضرت مولانا اسرارالحق قاسمیؒ
مہتمم دارالعلوم اسراریہ سنتوشپور،کولکاتا
آج حضرت مولانا اسرارالحق قاسمیؒ کو ہم سے بچھڑے ہوئے دوسال کا عرصہ گزر گیا۔حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی نے تاحیات ہر محاذ پر مسلمانوں کی خدمت و قیادت کا فریضہ بخوبی انجام دیا۔ا ن کی قیادت و کوششوں سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سینٹر کشن گنج میں قائم ہوا۔عالمی شہرت یافتہ ادارہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے ممبر،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،اور جے این یو کے کورٹ ممبر رہے۔ ان کی تعلیمی، سماجی اور خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے،لیکن وہ جہاں کہیں بھی رہے، پوری ملت اسلامیہ کے لیے بھی تڑپتے رہے۔ اپنی زندگی کے آخری دن تک وہ عوام الناس کی فلاحیابی کے لیے کوشاں رہے۔ اسی لیے انھیں ہندوستان بھر میں پذیرائی حاصل ہوئی،لوگوں نے بھی انھیں اپنے دل میں جگہ دی۔انھیں دوبار اپنے علاقے سے ایم پی منتخب کیا۔جب مولانا کا وقت آن پہنچااور وہ اس دنیا سے چلے گئے تو پورے ملک میں کہرام مچ گیا،ہر شہر اور ہر بستی کے مسلمان بے چین ہوگئے، خاص طورسے سیمانچل اور کشن گنج کے عوام کے غم کا توکوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ ان کے دفن میں لاکھوں لوگوں نے دور دراز سے آکر شرکت کی۔آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کی یاد ابھی ہمارے سینوں میں زندہ ہے، ان کے ذریعے کیے گئے کام اب بھی بول رہے ہیں۔ان کی قائم کی ہوئی نشانیاں مدتوں تک ان کی یاد دلاتی رہیں گی۔
انہوں نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد سے ہی اپنے آپ کو ملی وسماجی خدمت کے شعبے سے وابستہ کرلیاتھا اور مدرسہ بدرالعلوم بیگوسرائے میں تدریسی مصروفیات کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ وہ مختلف موقعوں پر مسلمانوں کی سماجی و رفاہی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔اس عرصے میں مختلف قدرتی آفات اور حادثات کے موقعوں پر انہوں نے بڑھ چڑھ کر متاثرین کی خدمت کی۔مولانا کے جذبہ¿ خدمت اور ملی کازسے مضبوط وابستگی کودیکھتے ہوئے فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ نے انہیں مسلمانوں کی نمائندہ ملی تنظیم جمعیة علماءہند سے جڑنے کی دعوت دی اور اس کے بعد مولانانے جمعیة کے پلیٹ فارم سے پورے ملک کے دورے کیے،جہاں بھی فسادات،سیلاب یا قدرتی آفت آئی وہاں پہنچے اور متاثرین کی امداد و بازآبادکاری کا سامان کیا۔اس کے علاوہ جمعیة میں قیام کے دوران انھوں نے مختلف علمی و دینی موضوعات پر لگ بھگ ایک درجن کتابیں اور رسائل تحریر کیے،جمعیة کے مقاصد اور کارناموں کو پورے ملک میں متعارف کروایا۔تقریباً تیس سال آپ جمعیة علماءسے وابستہ رہے اوراس دوران سکریٹری،جنرل سکریٹری اور ہفت روزہ الجمعیة کی ادارت کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا۔ان کی شخصیت پوری طرح ملت کے لیے وقف ہوچکی تھی اور وہ ہمیشہ مسلمانوں کے مفاد میں سوچتے اور ہرممکن ان کے مسائل کے حل کی تدبیر کرتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ بعض ناگزیر حالات کی وجہ سے جمعیة سے علیحدہ ہونے کے بعد فقیہ العصر حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒ و دیگر کے ساتھ مل کر آپ نے آل انڈیا ملی کونسل قائم کیا اوراس کے پلیٹ فارم سے ملی و سماجی کام کرتے رہے۔
انہوں نے مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کی تحریک پیدا کرنے کا عزم کیااور اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے انہوں نے مئی 2000ءمیں آل انڈیا تعلیمی وملی فانڈیشن قائم کیا اور اس کے تحت غیر تعلیم یافتہ علاقوں میں مکاتب و مدارس کے قیام کا سلسلہ شروع کیا۔اللہ کے فضل سے اس وقت فاونڈیشن کے زیر اہتمام چار اقامتی مدرسے اور 105مکاتب بحسن وخوبی علوم دینیہ کی اشاعت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
حضرت مولانا کو علاقے کی مسلم بچیوں اور خواتین کی تعلیم کی بھی بہت زیادہ فکر تھی،کشن گنج اور گرد و پیش کے علاقے میں عام طورپر مسلمان بچیوں میں نہ تو دینی تعلیم کا رواج تھا اور نہ ہی جدید تعلیم کا رواج تھا،اس اندوہناک صورت حال کو دیکھتے ہوئے مولانا نے ہمت کرکے ایک اسکول کے قیام کا فیصلہ کیا اور 2002میں مسلم بچیوں کی دینی ماحول میں عصری تعلیم کے لیے ایک معیاری ادارہ ملی گرلز اسکول کی شکل میں قائم کیا،الحمدللہ آج یہ اسکول سی بی ایس ای بورڈ سے ملحق ہے اور یہاں ہاسٹل کے ساتھ بارہویں تک کی معیاری اور مثالی تعلیم کانظم ہے اوراس اسکول میں صرف سیمانچل ہی نہیں بہار کے دوسرے دوردراز کے اضلاع کی بچیاں بھی بڑی تعداد میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔اسی طرح وہ معاشرہ میں خواتین کے تئیں پائی جانے والی کمزوریوں پر بھی خاص توجہ دیتے تھے اور علاقے کے مختلف گاوں میں جلسوں کے دوران وہ جہاں دین کے دوسرے پہلووں پر توجہ دلاتے تھے وہیں بیوی،بیٹی اور ماں کے حقوق پر بھی خاص طورپر گفتگو کرتے تھے،اس کا نتیجہ یہ تھا کہ عورتوں کے دلوں میں آپ کی بہت زیادہ عظمت اور احتر ام کے جذبات پائے جاتے تھے۔ممکن ہے یہ بات بعض قارئین کوعجیب لگے اور شاید بہت سے لوگ یقین بھی نہ کریں،مگر یہ حقیقت تھی کہ الیکشن کے دنوں میں مولانا کی کامیابی کے لئے بے شمار خواتین روزے رکھاکرتی تھیں اور ان کی بے مثال عقیدت کا اظہار مولاناکی وفات کے دن بھی اس طورپر سامنے آیاکہ ہزاروں خواتین آخری بار مولاناکی زیارت کے لئے اکٹھاہوئی تھیں۔اس سال بہار کے اسمبلی انتخابات کے دوران بھی مولانا کی مقبولیت کے اثرات میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ٹھاکر گنج سے حضرت کے صاحبزادہ مولانا سعود ازہری ندوی امیدوار تھے تو وہ جس پنچایت اور گاو¿ں میں بھی انتخابی مہم کے لیے جاتے تو وہاں کی خواتین اور بڑی عمر کے لوگ حضرت مولانا کے تئیں غیر معمولی محبت اور دلی تعلق کا اظہار کر رہے تھے اور یہی وجہ ہے کہ مولانا سعود صاحب کو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔اس کی وجہ جہاں یہ ہے کہ وہ ایک عالم دین اور باصلاحیت ہیں وہیں ان کے والد محترم حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی کی عوامی مقبولیت اور ان کے اخلاص کا بھی دخل تھا۔
کشن گنج میں اے ایم یوسینٹر قائم کروانے میں بھی مولانا مرحوم کاکردار بے مثال ہے،آزادی کے بعد ہندوستان میں پہلی مرتبہ مولانا اسرارالحق قاسمی کی قیادت میں لاکھوں مسلمانوں نے بہار اور دہلی میں ایک تعلیمی ادارہ کے قیام کے لئے زبردست مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔مولانانے ایک طرف بہار کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا تو دوسری طرف خود اپنی پارٹی کی حکومت کے خلاف بھی مظاہرے کئے اور آخر کار کشن گنج میں اے ایم سینٹر قائم کرواکر دم لیا۔تعلیمی میدان میں ایک بڑا کارنامہ مولانا کایہ بھی ہے کہ کشن گنج حلقے میں 233سرکاری مدرسوں کی تعمیر و تزئین کاکام کروایا، ان اداروں کو ہر قسم کی سہولیات سے آراستہ کیااور وہاں کے تعلیمی نظام کو بھی بہتر کروایاتاکہ غریب مسلم بچے اور بچیاں ان مدرسوں میں سہولت نہ ہونے کی وجہ سے حصول علم سے محروم نہ رہ جائیں۔اس سے پہلے ان مدرسوں کی حالت نہایت خستہ تھی اور وہاں بنیادی سہولیات جیسے استنجاخانہ اور کلاس روم وغیرہ تک نہیں تھے جس کی وجہ سے گارجین حضرات اپنے بچوں کو ان مدرسوں میں نہیں بھیجتے تھے،مولانا کے اس مثالی اقدام کے بعد لوگوں نے ان اداروں میں بھی اپنے بچوں اور بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجنا شروع کردیا۔
اسی طرح مولانا کو غریب و پسماندہ مسلم آبادیوں میں مساجد کے قیام کی بھی بہت فکر تھی،چنانچہ جس گاوں کے بارے میں آپ کو معلوم ہوتاکہ وہاں مسلمانوں کی آبادی ہے لیکن نماز پڑھنے کے لئے مسجدکا انتظام نہیں ہے تو اپنے ذرائع سے وہاں مسجد بنوانے کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے،ساتھ ہی مقامی مسلمانوں پر مساجد کی عظمت کو واضح کرتے ہوئے انہیں نماز کا اہتمام کرنے کی تلقین بھی کرتے۔آپ کی زندگی کی آخری تقریر جوآپ نے اپنی وفات سے محض چند گھنٹے قبل کشن گنج کے ایک ادارے میں کی تھی،اس میں بھی آپ نے مسلمانوں کو یہی تلقین کی کہ وہ مسجداور مدرسے سے اپنا رشتہ مضبوط کریں کیوںکہ مسجد اللہ کاگھر ہے جہاں سے یقین ملتاہے اور مدرسہ رسول اللہ ﷺکاگھر ہے جہاں سے حسنِ اخلاق و کردار ملتاہے۔آپ نے بہار و جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں لگ بھگ تین سومساجد کی تعمیر کروائی۔
انہوں نے اپنی قلمی نگارشات کے ذریعہ مسلمانوں کی دینی،سماجی و سیاسی بیداری کاجوکام کیاوہ بھی سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ان کے قلم سے دو درجن سے زائد کتابیں منظر عام پر آئیں اور ان کی متعددکتابوں کا انگریزی،بنگالی اور گجراتی زبانوں میں ترجمہ بھی شائع ہوا۔حضرت
مولانااسرارالحق قاسمی اپنی محنت،لگن،ایمانداری،دیانت داری اور اخلاص کی بدولت ہر محاذ پر نمایاں رہے۔رات دن کی مصروفیات کے باوجود تصوف سے مضبوط لگاو¿ رہا اور اپنے معمولات ووظائف پر پابندی سے عمل کرتے تھے۔ان کی شخصیت اور زندگی میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اور مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی جھلک نظر آتی تھی اور وہ علما اور نئی نسل کی تعمیر و حوصلہ افزائی میں نہایت فراخدلی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اسی طرح سیاست میں رہنے کے باوجود ان کی ذات ہر قسم کے داغ سے محفوظ تھی۔ اپنے سیاسی مخالفین سے انتقام کا جذبہ نہیں رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ جو لوگ ان پر بے جا الزام لگاتے تھے ان کا وہ مثبت جواب ہی دیتے تھے۔ اپنی مجلسوں میں وہ غیبت سے بھی سختی سے پرہیز کرتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔وہ ذاتی زندگی میں بے پناہ عجز و انکساری والے تھے اور ان کے دل میں خلوص و استغنابھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا،اسی وجہ سے ہندوستانی عوام کی نظروں میں انہیں ایک ہردلعزیز قائد و رہنما کی حیثیت حاصل تھی۔ہماری دعاءہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے۔(آمین)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔