لوجہاد اور مذہب اسلام

محمد ناظم القادری الجامعی دیناجپوری

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام کی پو پھٹتے ہی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا تسلسل جاری ہوگیا تھا اور دامنِ اسلام کو داغدار کرنے کےلئے اب بھی اسکیمیں چلائی جارہی ہیں۔ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کےلئے شر پسند عناصر بالخصوص مخالفین اسلام مسلمانوں کو بدنام کرنے کےلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف قابلِ اعتراض اور نفرت انگیز باتیں پھیلارہے ہیں. جسے مکروہ پروپیگنڈہ کہا جاسکتا ہے ،عالم اسلام ہر طرف سازشوں کے بھنور میں گھر چکا ہے۔ یہودیوں کی مکروہ اور ہلاکت خیز سازشوں کا شکار ہوکر کراہ رہا ہے۔ ان کے زخموں سے عالم اسلام اس حد تک جاں بلب ہوچکا ہے کہ وہ اب اپنی آنکھوں کے سامنے سازشیں رچتے ہوئے بھی دیکھتا ہے لیکن آہ بھر نے کےلئے لب بھی نہیں کھول سکتا۔مسلمانوں کے تباہ وبرباد کرنے کا نصب العین مخالفین اسلام کےلئے ہمیشہ سے اہمیت کا حامل رہا ہے لیکن اس کے حصول کے حوالے سے تدابیر اور طریق ہائے کار میں اس کے ہاں وقتا فوقتا تبدیلی ہوتی رہتی ہے. اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو سازشیں رچی جارہی ہیں، انہی منصوبہ بند سازشوں میں سے ایک انسانی دماغ کا اختراع "لو جہاد”بھی ہے.جو ایک طرف اسلام کی مقدس اصطلاح "جہاد”کی عظمتوں اور فضیلتوں پر حرف ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، تو دوسری طرف فساد کارروائیوں کو "لو جہاد”کا نام دے کر اسلام سے جوڑ نے کی ناپاک کوشیشں کی جارہی ہیں تاکہ مذہبی منافرت پھیلا کر سیاسی مقاصد حاصل ہو اور اسلام اورقوانین اسلام پر انگشت نمائی کا موقع فراہم ہو. حالانکہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، اسلام امن وشانتی کا پیغام دیتا ہے۔
لو جہاد کیا ہے؟تو بتایا جاتا ہے کہ مسلم لڑکے اپنے نام مخفی رکھ کر غیر مسلم لڑکیوں سے شادی رچا کر ان غیر مسلم لڑکیوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرتے ہیں. اگر لو جہاد کی یہی حقیقت ہے تو بنیادی طور پر کئی وجوہ سے یہ غیر انسانی اور مذموم حرکت کا مذہب اسلام کی انسانیت نواز تعلیمات سے کوئی سروکار نہیں ہے.
پہلی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں جبر وزبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے. ارشاد ربانی:”دین میں کوئی زبر دستی نہیں "(البقرہ، ۲۵۶)مذہب اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے، اسلام میں کسی فرد کو جبرا مسلمان بنانا حرام ہے، اگر اسلام میں جبر کرنا روا ہوتا تو فتح مکہ کے دن آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروانوں کو حکم دیتے کہ تمام مخالف اسلام قبائل پر دباو¿ ڈالا جائے کہ اسلام قبول کر لیں، اس وقت ہر مشرک کو یہ خوف لاحق تھا کہ آج مسلمانوں نے ترقی کی منزلوں پر اپنی کمندیں ڈال دی ہیں، چوں کہ وہ فاتح مکہ بن کر آرہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ ہم پر ظلم وستم ڈھائیں، یا پھر ہمارے ساتھ جبر زبردستی کا برتاو¿ کریں، لیکن ان اندیشوں اور خطرات کے بالکل برعکس رحمت عالم صلی علیہ وسلم نے نہ صرف معافی کا پروانہ عطا فرمایا بلکہ فرمایا:”آج جو کٹر اسلام مخالف مسلمان کے گھر میں بھی پناہ لے گا تو اسے بھی امن کی نوید جانفزا سنائی جاتی ہے، اس عفو ودرگزر کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ہی عرصہ میں مشرکین اپنی خطاو¿ں اور سیاہ کاریوں سے تائب ہوکر دولت ایمان سے مالا مال ہوگئے. یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جبر وزبردستی سے انسان کے جسم پر حکومت تو کی جا سکتی ہے لیکن دل کی دنیا محض اخلاق حسنہ ہی سے بدلی جاسکتی ہے، جبر کرنا اخلاق حسنہ کی ضد ہے اور اور ایمان اخلاق حسنہ ہی کا دوسرا نام ہے، اب سوال ہے کہ جو قوم حاکم ہوکر جبر وتشدد کو روا نہ رکھے وہ محکوم ہوکر جبر کیسے کرسکتی ہے؟
دوسری وجہ یہ ہے کہ انعقاد نکاح کےلئے اسلام نے بنیادی شرط رکھی ہے کہ ایسی خواتین سے نکاح کرو، جو پسند آئے۔ قرآن کریم میں لفظ ”طاب“استعمال ہوا ہے جس میں دو صفتیں ہوا کرتی ہیں (۱)حلت (۲)مرغوبیت یعنی ایسی چیزسے طبیعت نفرت کرے نہ شریعت میں کراہت ہو، اگر کسی چیز میں سے مرغوبیت یاحلت کاعنصر نکل جائے تو وہ طیب برقرار نہیں رہتی ہے. مثال کے طور پر طلاق حلال تو ہے لیکن مرغوب نہیں ہے اسی لیے اسلام نے اسے ”ابغض المباحات“قرار دیا ہے، اسی طرح شراب مرغوب تو ہے لیکن صفت حلت کا فقدان طیب کے زمرے میں آنے سے مانع ہے۔ اس وضاحت کی تائید صاحب قاموس کی مندرجہ ذیل تحریر سے ہوتی ہے:”کھانے کی جائز ہونے کی دو شرطیں ہیں:ایک حلال ہونایعنی اس میں دوسرے کا حق نہ ہو اور دوسری شرط دلچسپ اور طبیعت پسند۔قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ طیب خواتین سے نکاح کریں،اور مشرکہ عورت طیب کے زمرے میں شامل نہیں، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:نکاح نہ کرو مشرکہ عورتوں کے ساتھ یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں (بقرہ) پھر دوسرے مقام پر یوں ارشاد ہے، مسلمہ باندی بہتر ہے مشرکہ آزاد عورت سے۔
اسلام کی تعلیمات تو یہ ہے کہ قبل نکاح مشرکہ عورت دولت ایمان سے سرفراز ہو تو نکاح کرو ورنہ مسلمہ باندی بہتر ہے۔ جب کہ آج کی تاریخ میں ہندو شدت پسند تنظیمیں یہ الزام لگا رہی ہیں کہ اپنی گردنوں پر اسلام کا قلادہ ڈالنے والے مسلم نوجوان محبت کی آڑ میں ہندو لڑکیوں کو دھوکہ دے کر، ورغلا کر اور بعض اوقات بالجبر مذہب تبدیل کرواتے ہیں، اور یہ تنظیمیں اسے لو جہاد کے اسم سے موسوم کرتی ہیں، حالانکہ ایسے واقعات بھی درپیش ہوتے ہیں جس میں ہندو لڑکے مسلمان لڑکیوں کو فریب کی جال پھانس کر شادیاں کرکے دنیا وآخرت دونوں کو تباہی کے دلدل میں ڈال دیتے ہیںلیکن شدت پسند عناصر اورگودی میڈیا تعصب کے سمندر میں اتنا غرق ہوچکے ہیں کہ ان کی توجہ غیر مسلم لڑکوں کے واقعات پر مرکوز نہیں ہوتی ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ شرپسند عناصر”لوجہاد“کی جو تعریف کررہے ہیں، اس کے مطابق اس طرح سے شادی رچانا تو سراسر دھوکہ دینا ہے، دھوکہ دہی اور فریب سازی مومن کا عشوہ ہرگز نہیں ،کیونکہ فریب سازی کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”تین اشخاص جنت میں داخل نہیں ہونگے (۱)فریبی (۲)بخیل (۳)اور احسان جتلانے والا “(ترمذی)
ان حالات میں امت مسلمہ اور اپنے سینوں میں اسلام کا درد رکھنے والوں کو دامن اسلام کو داغدار کرنے والی ان سازشوں کے تدارک کی مقدور بھر کوشش کرنی چاہئے ۔مولیٰ تعالیٰ اسلام اور امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے. امین! بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔
٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔