برصغیر کے معروف ادیب اور معالج ڈاکٹر حنیف ترین کا سرینگر کشمیر میں انتقال

برصغیر کے معروف ادیب اور معالج ڈاکٹر حنیف ترین کا سرینگر کشمیر میں انتقال نماز جنازہ میں بھاری تعداد میں کئی لوگوں نے عالمی اردو مجلس کی بنیاد ڈالی تھی

سرینگر 3 دسمبر (منظور ظہور شاہ چشتی) برصغیر ر ہند پاک معالج ادیب اور عالمی اردو مجلس کے بانی و سربراہ جناب ڈاکٹر حنیف ترین آج صبح راول پور سری نگر کشمیر میں مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے مرحوم کا نماز جنازہ صبح3 بجے انجام دیا گیا جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا مرحوم کے جنازے میں کووڈ کے احتیاطی اقدامات کے باوجود سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی ڈاکٹر حنیف ترین اگرچہ سنبھل اتر پردیش کے رہنے والے تھے تھے ڈاکٹر ی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بعد عرب ممالک میں میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے رہے ہیں علم و ادب سے دلچسپی انہیں وراثت میں ملی تھی اور دہلی واپس آئے اور بٹلہ ہاؤس میں پریکٹس کر رہے تھے کرتے، ڈاکٹر ترین نہایت ہی غریب پرور تھے کشمیریوں سے بہت زیادہ لگاؤ تھا اور کشمیر کے ادبی سماجی مذہبی اور خانقاہی حلقوں میں بھی کافی مقبول تھے
عالمی اردو مجلس کے نائب صدر اور وادی کشمیر کے معروف شاعر بشیر چراغ نے یہ اطلاع دی
انہوں نے بتایا کہ وہ کشمیریوں سے جنون کی حد تک لگاؤ اور اردو ادب کے لئے ان کا والہانہ جزبہ دیکھ کر ہی میں نے ان کا ہاتھ تھاما تھا، ڈاکٹر حنیف ترین نہایت ہی مہذب، غریب پرور، ملنسار، با اخلاق، مدبر، باہوش اور سنجیدہ فکر اور مذہبی خیالات کے انسان تھے، ڈاکٹر حنیف ترین اپنے پیچھے ایک بیوہ، بیٹی اور دو بیٹے چھوڑ گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔