مسلمانوں کی نئی نسل کے مستقبل کی فکر ضروری

اخلاقیات سے عاری مادہ پرست نسل کی افزائش مسلمانوں کا مقصد کبھی نہیں ہوسکتا، سرسید کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں سائنس کا فلسفہ آج بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے، جتنا قیام علی گڑھ کے وقت تھا، ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو اگر ایسی نسل کی فراہمی نہ ہوسکی، جن کی ذہنی نشو و نما اور ابتدائی تعلیم ہماری تہذیبی اور ثقافتی فضا میں ہوئی ہو تو من حیث القوم مسلمانوں کے لئے اپنا نظریاتی وجود برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ کیونکہ ایسے ماحول میں جو نسل پروان چڑھے گی وہ اپنے لئے شاید روزگار کے بہترین مواقع تلاش کرلے لیکن ملت کی اجتماعی بہتری کے لئے اس میں سے ہمارے لئے خیر کا کوئی سامان پیدا ہوجائے اس کے امکانات بہت کم ہیں۔
تعلیم کے میدان میں جو مسلم تنظیمیں اس وقت کام کر رہی ہیں، انہیں چاہیے کہ تعلیم کے ماہرین کی مدد سے ایک ایسے نصاب تعلیم کی تکمیل کریں جو مروجہ نصاب میں معمولی اضافہ سے اس کی افادیت کو ہمارے تہذیب و تمدن سے ہم آہنگ کر دے جو عصری تقاضوں کو اپنی پوری شدت سے پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری زبان اور تہذیب کی بقا کی ضمانت بن جائے۔یاد رکھیے! ہندوستان ایک زبردست معاشی اور سماجی انقلاب کی زد میں ہے، ایسے میں اگر بروقت ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور معاشی ناہمواریوں کو ختم کرکے اپنے بچوں کو تعلیم کے خاطر خواہ مواقع فراہم نہ کئے تو آنے والے وقتوں میں ملک و قوم کا سرمایہ ہونے کے بجائے یہ ملکی معیشت پر بوجھ بنتے جائیں گے اور ۱۲ویں صدی کا مادہ پرست معاشرہ ہمارا بوجھ ڈھونے کا متحمل نہیں ہوگا۔
آج سے ۸۲ سال بعد جب ہندوستان کی آزادی کی صد سالہ تقریب منائی جارہی ہوگی، ہم میں سے بہت سے لوگ اس دنیا میں موجود نہیں ہوں گے اور ایک نئی پیڑھی ہماری جگہ لے لے گی۔ اُس وقت ملک کی حقیقی تصویر کیا ہوگی یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا، اتنی امید ضرور ہے کہ ہندوستان اقوام عالم کی صفوں میں ایک باعزت مقام حاصل کر لے گا اور اس کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ہورہا ہوگا۔ لیکن تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر مسلمانوں نے فوری طور پر اپنے حالات کی بہتری کے لئے ٹھوس قدم نہ اٹھائے تو ہماری نئی نسل شدید احساس کمتری اور ندامت کا شکار ہوگی۔ مسلمان دنیا کے لئے نشان عبرت ہوں گے۔ جدید ہندوستان کی تاریخ اُن کی حالت زار پر ماتم کر رہی ہوگی۔
اگر ہم میں سے کچھ سادہ لوح لوگ حکومت کے اعلانات پر عمل درآمد کے انتظار میں ہیں تو ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ اِس سراب سے اپنا پیچھا چھڑالیں، اعلانات بیدار قوموں کی تقدیریں نہیں بدلتیں، یہ سب تو حکمرانوں کی ساحری ہے جو خواب غفلت سے بیدار ہوتی ہوئی قوموں کو دوبارہ غفلت میں سلانے کے لئے ہوتی ہیں۔ آزادی کی ۲۷ سالہ تاریخ میں سبق لینے والوں کے لئے بہت کچھ ہے۔ کاش کہ ہم سبق لیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔