مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ  خصوصی عدالت نے سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت تمام ملزمین کو عدالت میں طلب کیا گواہوں کو عدالت میں پیش کیئے جانے کا حکم، اگلی سماعت تین دسمبر کو

 ممبئی1 دسمبر:  مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں آج یہاں خصوصی این آئی اے جج نے اس معاملے کے کلیدی ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت تمام ملزمین کو عدالت میں طلب کیا ہے اور ان کے وکلاء کو بھی حکم دیا کہ وہ ملزمین کو عدالت میں حاضر رہنے کے لیئے مطلع کریں۔ خصوصی جج نے اس مقدمہ کا سامنا کررہے ملزمین پرگیا سنگھ ٹھاکر، رمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، اجئے راہیکر، کرنل پرساد پروہیت، سدھاکر دھر دویدی اور سدھاکر چترویدی کو عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیتے ہوئے تین دسمبر تک معاملے کی سماعت ملتوی کردی۔ اس سے قبل بم دھماکہ مثاثرین کی جانب سے خصوصی این آئی عدالت میں مقدمہ کی سماعت جلد از جلد دوبارہ شروع کیئے جانے کی درخواست داخل کی گئی تھی جس پر آج این آئی اے نے اپنا جواب داخل کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ این آئی اے مقدمہ کی روز بہ روز سماعت کیئے جانے کے حق میں ہے لیکن بم دھماکہ متاثرین ایسی درخواستیں داخل کرکے مشکلیں پیدا کررہے ہیں جسے عدالت کو مسترد کردینا چاہئے۔ مالیگاؤں 2008بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے خصوصی این آئی اے جج پی آر سٹرے کو بتایا کہ گذشتہ 12 سالوں سے بم دھماکہ متاثرین انصاف کے منتظر ہیں اور قومی تفتیشی ایجنسی NIA گواہوں کو بلانے میں دلچسپی نہیں لے رہی ہے جس پر عدالت نے وکیل استغاثہ اویناس رسال کو کہا کہ عدالت اس مقدمہ کی سماعت روز بہ روز کی بنیاد پر کریگی اورا نہیں گواہوں کو عدالت میں پیش کرنے کے لیئے اقدامات کرنا ہوگا۔ ایڈوکیٹ اویناس رسال نے عدالت کو بتایا کہ وہ گواہوں کو عدالت میں پیش کرنے کے لیئے کوشش کررہے ہیں لیکن کرونا وباء کی وجہ سے گواہوں کو بیرون ممبئی سے خصوصی عدالت میں حاضر ہونے کے لیئے مسائل درپیش ہیں۔ خصوصی جج نے سرکاری وکیل کو کہا کہ وہ تین دسمبر کو گواہوں کو عدالت میں پیش کرنے کے تعلق سے تحریر ی رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے فریقین کو صاف لفظوں میں حکم  دیا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق اس مقدمہ کی سماعت روز بہ روز کی بنیاد پر کی جائے گی جس میں تمام لوگوں کو تعاون کرنا ہوگا۔ آج کی عدالتی کارروائی پر بم دھماکہ متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ ہماری کوشش ہیکہ جلداز جلد معاملے کی سماعت شروع ہوسکے،اس معاملے میں ابتک 140 سرکاری گواہوں کے بیانات قلمبند کیئے جاچکے ہیں لیکن کرونا وبا ء کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت رک گئی تھی لیکن اب جبکہ حالات سازگار ہورہے خصوصی جج نے ملزمین کی عدالت میں حاضری اور گواہوں کو عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کیئے مقدمہ کی سماعت دوبارہ شروع ہونے کی امید روشن ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ  29/ ستمبر 2008 کو ہونے والے بم دھماکہ معاملے میں 6/ مسلم نوجوان شہید جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے تھے، مقدمہ کی ابتدائی تفتیش انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس) نے آنجہانی ہیمنت کرکرے کی سربراہی میں کی تھی اور پہلی بار بھگواء دہشت گردی پر پڑے پردے کو بے نقاب کیا تھا لیکن مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد سے اس معاملے کی تازہ تحقیقات کرنے والی قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے بھگواء ملزمین کو فائدہ پہنچانے کا کام شروع کردیا اور اضافی فرد جرم داخل کرتے ہوئے سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر بھگواء ملزمین کلین چٹ دی تھی۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔