سوبھیندو ادھیکاری کی ترنمول سے بغاوت لیکن ترنمول کی مقبولیت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا

مغربی بنگال کے وزیر ٹرانسپورٹ اور آبپاشی سوبھیندو ادھیکاری نے بالآخر جمعہ کو ممتا بنرجی کی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو لکھے گئے اپنے خط میں ادھیکاری نے کہاکہ ان کا استعفیٰ فوری طور سے قبول کرلیا جائے۔ انھوں نے علی پور کا اپنا سرکاری فلیٹ بھی چھوڑ دیا اور زیڈ کٹیگری کی سیکوریٹی سے بھی دستبردار ہوگئے۔ باغی ترنمول رہنما ہلدیہ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی چیئر مین شپ سے بھی دستکش ہوگئے، تاہم انھوں نے ابھی تک اسمبلی اور پارٹی کو خیرباد نہیں کہا ہے۔ استعفیٰ دینے کے بعد ادھیکاری نے کہاکہ ترنمول کانگریس ایک شخص کی پارٹی ہے جس میں اپنے طور سے کام نہیں کرسکا۔ اس لئے ایسی پارٹی میں رہنے کا کوئی مطلب نہیں۔ بہرحال ترنمول قیادت اس بات سے مطمئن ہے کہ ادھیکاری نے پارٹی سے اپنا ناطہ نہیں توڑا ہے۔ ترنمول کے سینئر لیڈر سوگت رائے انھیں منانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اپنا مشن جاری رکھیں گے۔ جمعہ کی سہ پہر کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس مسئلہ پر اپنے وزراءپارتھو چٹرجی، فرہاد حکیم، اروپ بسواس اور پارٹی ایم پی سبرتو بخشی اور ابھیشک بنرجی سے بات چیت کی۔ میٹنگ کے بعد انھوںنے فون پر گورنر جگدیپ دھنکر سے گفتگو کی جنھوں نے فوری طور سے ادھیکاری کا استعفیٰ منظور کرلیا۔ وزیر اعلیٰ نے سوبھیندو ادھیکاری کے تینوں محکموں کا چارج خود سنبھال لیا ہے۔
بی جے پی اور کانگریس دونوں نے سوبھیندو ادھیکاری کو رجھانا شروع کر دیا ہے۔ بی جے پی کے مرکزی جنرل سکریٹری وجئے ورگیہ، ریاستی صدر دلیپ گھوش اور بی جے پی رہنما مکل رائے سمیت متعدد بی جے پی لیڈروں نے ادھیکاری کو بی جے پی میں شامل ہونے کی مسلسل دعوت دی ہے۔ مغربی بنگال کانگریس کے صدر ادھیر رنجن چودھری بھی بانہیں پسارے ادھیکاری کے استقبال کیلئے تیار ہیں۔ اس وقت ساری نگاہیں ادھیکاری خاندان پر لگی ہوئی ہیں۔ واضح ہوکہ سوبھیندو ادھیکاری کے باپ سیسر ادھیکاری کونٹائی سے ترنمول کے ممبر پارلیمنٹ ہیں جبکہ سوبھیندو کے دو بھائی دیبندو ادھیکاری ار سومندو ادھیکاری بھی ترنمول کے ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ موجودہ حالات میں سوبھیندو ادھیکاری کے سامنے چار آپشن ہیں: زیادہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں وہ ترنمول کانگریس ہی میں رہیں، ایک نئی سیاسی پارٹی بنائیں، کانگریس میں شرکت کریں یا بی جے پی میں شامل ہوجائیں۔ ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ سوبھیندو ادھیکاری بی جے پی کا دامن تھامیں گے۔
بہر حال سوبھیندو کی راہ میں دشواریاں بھی ہیں۔ وہ نندی گرام سے ایم ایل اے ہیں جو مسلمانوں کے غلبہ والا حلقہ ہے۔ اگر انھوں نے بی جے پی میں شرکت کی تو یہ حلقہ ان سے ناراض ہوجائے گا اور ادھیکاری کے پاو¿ں کے نیچے سے زمین نکل جائے گی۔ ان حالات میں ممکن ہے کہ ادھیکاری کوئی نئی سیاسی پارٹی بنائیں۔ قابل ذکر امر ہے کہ خود ادھیکاری کے حامی یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر انھوں نے نئی پارٹی بنائی تو اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں ملے گی کیونکہ مغربی بنگال کی سیاست میں ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان راست مقابلہ ہے جس کا چہرہ ممتا بنرجی اور نریندر مودی ہیں۔ اگر ادھیکاری نے نئی پارٹی بنائی تو اسے آئندہ اسمبلی انتخابات میں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے کانگریس یا بی جے پی میں سے کسی ایک کا ساتھ دینا ہوگا۔ کانگریس کے ساتھ بھی ادھیکاری کی نہیں بنے گی کیونکہ کانگریس نے بایاں بازو کی پارٹیوں سے اتحاد قائم کرلیا ہے جبکہ سیسر ادھیکاری اور ان کے دو ایم پی بیٹے بایاں بازو کے سخت مخالف ہیں۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو سوبھیندو ادھیکاری کےلئے مغربی بنگال میں سیاسی زمین بہت مشکل ہے۔ سوبھیندو کی بغاوت سے مدنا پور ضلع میں ترنمول کو کچھ سیٹ بیک ہوسکتا ہے لیکن اس کا اثر محض جزوی ہوگا۔ ترنمول کانگریس کی پیش رفت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی اور 2021ءکا اسمبلی الیکشن ترنمول کانگریس ہی جیتے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔