مسلم لڑکیوں میں بے راہ روی کیوں؟

ریاض فردوسی۔
2020   ء میں ممبئی کے تھانے بھونڈی ممبرا سے کورٹ میرج کے لئے کورٹ میرج رجسٹرار کے آفس میں 140 مسلم لڑکیوں نے ہندو لڑکوں سے شادی کرنے کی درخواست دی ہے۔
مسلمان خواتین گھر سے بھاگ رہی ہیں اور غیر مسلم لڑکوں سے شادی کر رہی ہیں اور ہم مسلمان گڑبڑ میں ہیں!
چنئی -,5180  کوئمبٹور    1224 تروچی -1470 مدورائی -2430 سالم۔740 حیدرآباد۔3500 گجرات۔2500 مہاراشٹر۔ 6000 بی اسٹیٹ سے زیادہ جہاں 500،غازی آباد 1980،بنگال میں 12090، باگپت سے 1270،میرٹھ سے,970   کانپور سے 3890، پچھلے 3 سالوں میں مجموعی طور پر,50000 1سے زیادہ مسلم لڑکیوں نے غیر مسلم مردوں سے شادی کی ہے۔یہ سلسلہ دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔
اس کے چند وجوہات ہیں!
1- غیر اسلامی طریقے سے اپنے بچے کی پرورش کرنا۔بچپن سے ہی مغربی تہذیب کا لبادا پہنادینا۔
2-بچیوں کے درمیان شروع میں ہی شرم و حیا کو ختم کر دیناہے۔کانوینٹ کے اسکول ڈریس میں فحاشی اور جنسی لذت کا سامان موجودہوتا ہے۔
3-اسلام کی تربیت بالکل بھی نہ دینا۔صرف دنیاوی تربیت دینا، بچہ دوسرے مذاہب کے رسم ورواج کو اچھا سمجھنے لگتا ہے اور اسلامی شعار سے بیزاری اور کڑھن محسوس کرتا ہے۔بچے کو بہت زیادہ لاڈ کرنا ہر خواہش کو پورا کرنا۔
4- بغیر شرط کے ان کو بہت مہنگے مہنگے موبائل دینا۔انہیں دور دراز کے شہروں میں کالج بھیجنا یا ایسے کالجوں میں بھیجنا جہاں لڑکے لڑکیاں ساتھ پڑھتے ہیں۔
5- بیٹی کی شادی میں تاخیر،اور خود کفیل بنانے کے نام پر ان کی خواہشات کو پورانہ کرنا۔
6- بیٹی کے دوست کو نہیں جانتے، جہاں وہ کس سے ملنے جا رہی ہے۔
7 – اپنی جوان بیٹی پر بہت زیادہ اعتماد ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گی! ان لوگوں کو یاد رکھیں جنہوں نے ان کے والدین کے ذریعہ بھی بچوں کو پسپا کردیا تھا۔
8-کہیں آنے اور یہ کہنے میں کوئی پابندی نہیں ہے کہ ہم نئے لوگ ہیں، ہم نے اپنی لڑکی کو آزادانہ آزادی دی ہے، وہ خود ہی خود فیصلہ لے سکتی ہے۔ پھر ایک وقت اس کا کسی کے ساتھ بھاگنے کو آتا ہے تو وہ خود فیصلہ بھی کرتی ہے۔
9۔ فحش ڈرامہ، ٹی وی، شو، آن لائن، فیس بک، چیٹنگ میسنجر نے بھی ہماری نسلوں کو حائی میں دھکیل دیا ہے۔سرکار تین طلاق پر تو قانوں لاکر عورتوں کی حمایت کا دعویٰ کرتی ہے لیکن فحش ساٗیٹس،زنا پر قانون نہیں لانا چاہتی ہے۔
10۔ مسلماں لڑکے جلد ہی اپنی تعلیم بیچ میں چھوڑ کر کاروبار میں لگ جاتے ہیں،وہی ہماری بچیوں میں تعلیم مکمل کرنے کے لئے بہت زیادہ سنجیدگی رہتی ہے،اس لئے اسکولوں،کالجوں اورمختلف ٹیوشن سینٹروں میں ان کی ملاقات ہندو لڑکوں اور لڑکیوں سے ہوتی ہے اور وہی لوگ ان کا دماغ خراب کرتے ہیں۔عشق اور دوستی کے سبزباغ دکھا کر ان کی عزتوں کو نیلام کرتے ہیں۔
11۔ ہمارے بچے اور بچیوں کے ذہنوں میں ڈاڑھی،کرتا،پیجامہ اور ٹوپی کے مناسبت یہ بات پیوست کرائی جاتی ہے کہ اس شکل اور لباس میں ملبوس لوگ گندے،کم عقل اور ناسمجھ لوگ ہوتے ہیں۔جن کو دنیااور مافیھا کی کوئی خبر نہیں رہتی ہے،اور ہمارے کچھ جاہل علماء اس کو اپنی ناسمجھی سے سچ کر دیتے ہیں۔
12۔سب سے بڑے ذمے دار ہمارے وہ علماء اکرام ہیں جو نیوز چینلوں پہ آآکر اسلام کی سہی تعلیمات پیش نہیں کر پاتے،اور اپنے نوجوانوں کے ذہن میں اپنی ذلیل تصویر قائم کر دیتے ہیں،اس سے ان کا نقصان کم مذہب اسلام کازیادہ نقصان ہوتا ہے،کیوں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ڈاڑھی اور ٹوپی اسلامی نشانات میں طاغوتی نظام نے شامل کر دیا ہے۔ایسا نہیں ہے کیوں کہ ڈاڑھی یہودی،ہندوسادھو،سکھ لوگ اور دیگر عیسائی بھی رکھتے ہیں،اور اب ویسے بھی ڈاڑھی فیشن میں شامل ہے۔wwe کے بعض fighter  بھی ڈاڑھی رکھتے ہیں،بعض اداکار بھی ڈاڑھی رکھتے ہیں۔
13۔عام مسلمان جو ٹیبل ٹاک (TABLE TALK)کے ذریعے چائے کی چسکی لیتے ہوئے مسجد کے ائمہ کی برائی،ٹیوشن پڑھانے والے حفاظ اور مولویوں کی غیبتیں،امارت شریعہ،ادارہ شریعہ،جماعت اسلامی،تبلیغی جماعت،جمیعت اہل حدیث،جمیعت علماء ہند،رویت ہلال کمیٹی دیگر اسلامی جماعتوں کے متعلق جو برائیاں بیان کر تے ہیں اس کا ہم اور آپ قطعاََاندازہ نہیں لگاسکتے ہیں کہ اس کاخراب اثر ہمارے ان بچوں اور بچیوں کے ذہنوں پرہو رہا ہے جو اسلامی تعلیمات سے پہلے سے ناواقف ہیں۔ جن کے سامنے پہلے سے ہی مذہبی شعار کے بارے میں غلط فہمیاں کفر نے پیوست کردی ہے۔جس کو صحیح کرنے کی،اپنے نوجوان نسل کو بچانے کے لئے،نہ کسی مسلک کے عالم صاحب نے،نہ ہی کسی برادری کے ٹھیکیدار صاحب نے ذرا سی بھی کوشش کی،اور تو اور ہمارے ذمہ داران حضرات نے بھی ان بچوں اور بچیوں کوکفر کے حوالے چھوڑدیا۔
کیا اس کے لئے ہم اللہ کے سامنے جواب دہ نہیں ہے؟کیا ہم نے اور ہمارے ذمہ داران حضرات نے کبھی سوچا ہے کہ اس کے لئے ہم اپنے نبیﷺ کو قیامت کے دن کون سا منھ دکھائیں گے؟کیا ہم نے سوچا کہ تاریخ ہمیں ہمارے اس لاپرواہی کے لئے کبھی معاف کر سکے گی؟
ایسا نہ ہو کہ آنے والی نسل ہمیں خراب اور فحش الفاظوں سے نوازے۔ ہماری لاپرواہی سے اسلام کے دشمنوں کا کام آسان ہوجاتا ہے اور ہماری بہنیں ان کے جال میں پھنس جاتی ہیں۔ اس کا صرف ایک ہی علاج ہے۔18 اور 19 سال کی شروعات میں لڑکی کی شادی ہوجائے پھر شادی کے بعد دونوں چاہیں تو اپنی تعلیم پوری کریں چاہے تو کام کریں۔اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہماری بیٹیاں،بہنیں،عشق وعاشقی کے نام پر اپنا مذہب تبدیل کرکے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ فرار ہوکر دنیا وآخرت کی ساری ذلت ورسوائی حاصل کریں گی اور آخر میں عذاب آخرت انکا مقدر بن جائے گا۔(معاذاللہ صد بارمعاذاللہ)
پہلے چاہت پھر نگاہوں سے اتاری جاؤ گی
آبرو بھی جائے گی اور تم بھی ماری جاؤ گی
تم پھروگی در بدر رسوائیوں و ذلت کے ساتھ
بیٹیوں جب چھوڑ کر نسبت ہماری جاؤ گی
یہ تو ایک سازش ہے ورنہ تم نہیں ان کو قبو ل
کل وہی نفرت کریں گے آج پیاری جاؤ گی
جس گھڑی دل بھر گیا کوٹھے پہ بیچیں گے تمہیں
زخمی عزت کر کے چھوڑیں گے کنواری جاؤ گی
جس کے دم پر گھر سے نکلی کل وہ جب دیگا فریب
سوچ لو کس سمت پھر تم پاؤں بھاری جاؤ گی
عزت و عظمت گنوا کر منھ دکھاؤ گی کسے
کرتے کرتے تم جہاں سے آہ و زاری جاؤ گی
اترے گا تھوڑے دنوں میں ہی جوانی کا نشہ
ظلم کی آغوش میں جب باری باری جاؤ گی
آر ایس ایس کے نوجوان تنظیم کے لوگ(جس میں لڑکے لڑکیاں دونوں شامل ہیں) منصوبہ بند طریقے سے کالج وہاسٹل میں بھولی بھالی مسلم لڑکیوں کو بڑے پیار سے، محبت کی جھوٹی قسمیں کھا کھا کر پھانس رہیں ہیں،کورٹ میرج رجسٹرار کے دفاتر میں بڑی تعداد میں مسلم لڑکیوں کی ہندو لڑکوں کے ساتھ شادی اور تبدیل مذہب کی درخواستیں رجسٹرڈ ہوئی ہیں،جن میں بھیونڈی ممبراممبئی،مالئیگاؤں،حیدرآباد،دہلی،لکھنؤ،آلہ آباد(موجودہ نام پریاگ راج) اعظم گڑھ اور کئی مسلم اکثریت شہری  اور دیہی علاقے ہیں۔ہمارے چند اسکالر کو بہت بڑا صدمہ ہے کہ ہم نے ہندو بھائیوں کے ساتھ مساوات اور تعلقات نہیں بڑھائیں،وہ طبقہ ذرا بھی غم نہ کرے کیوں کہ ہماری بہن،بہٹیاں،پارکوں میں،مال میں،سنیما گھروں میں،اسکول اور کالجوں میں،ٹیوشن سینٹروں میں،ہندؤوں سے مساوات قائم کر رہی ہیں۔خوب سیکولر کی مثال پیش کر رہی ہیں۔اگر اپنی بہنوں،بیٹیوں کی عزتوں کو گنوا کر،عصمتوں کو نیلام کر کے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سیکولر ہیں تو یہ ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔