اپنے ماضی کو نہ بھولنے والے کبھی ناکام و نامراد نہیں ہوا کرتے

۔           نقاش نائطی
۔     +966504960485
18 ہزار کروڑ روپیہ کی عالمی سوفٹ ویر کمپنی ذوھو  کارپوریشن کیلیفورنیا ، امریکہ  کے چیرمین، ٹامل ناڈو آئی آئی ٹی کے انجنیئر سری دھر نے اپنی سوفٹ تجارت امریکہ کی مکمل کامیابی کے بعد گذشتہ سال اکتوبر 2019 اپنی عالمی کمپنی ذوھو سافٹ ویر کارپوریشن  کو ٹامل ناڈو ضلع ٹینگسی  کیوں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا؟
کئی  ہزار عالمی اعلی تعلیم یافتگان کو جو انکی ذوھو سافٹ ویر کارپوریشن کے ملازم ہیں، اپنے آبائی گاؤں ٹمل ناڈو منتقل کرنے کا اصل مقصد، اپنے پیدائشی گاؤں دیہات و قرب و جوار کے غریبوں کو اعلی تعلیم کے ساتھ ہی ساتھ اعلی  تعلیمی ماحول مہیا کرواتے ہوئے، اپنے پیدائشی تمام علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اور یقینا فی زمانہ اپنوں کو اعلی تعلیمی زیور سے آراستہ پیوستہ کرنا ہی پورے معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
 ہم مسلم امہ اپنے آل اولاد سے زیادہ اپنے نبی آخرالزماں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کا ہمہ وقت دم بھرنے والے، ہم مسلمان، بیسیوں ایسے کئی سو ہزار کروڑ کے مالک دھنوان اپنے میں پاتے ہیں، کیا ان میں سے کسی نے اپنے نبی آخرالزماں محمد مصطفی صلی اللہ وعلیہ وسلم، جو کہ ایک معلم اور استاد بھی تھے اور جن کا فرمان، اس اونٹ و گھڑ سواری والے ماحول میں،علم کے حصول کے لئے، ہزاروں کلومیٹر دور چائینا تک سفر کرنے کی ہدایت کرنے والے کے فرمان مطابق اور جنگ بدر بعد، معشیتی ضرورت باوجود، تمام اسیران جنگ بدر کفار و مشرکین کو تاوان جنگ مال و دولت لئے، انہیں آزاد کرنے کے بجائے، ان کفار و مشرکین میں،اس وقت موجود علم و ہنر و حرب مسلمانوں میں منتقل کر قید سے آزادی حاصل کرنے کا عملی اقدام سجھانے والے کے امتی، ہم مسلمانوں  نے اپنی قوم و ملت کو اعلی تعلیمی ڈگر پر رواں دواں کرنے پر کتنے ہزار کروڑ خرچ کئے ہیں؟
بند و پاک بنگلہ دیش اور عالم کے اور حصوں میں پائے جانے والے ہزاروں لاکھوں ملیینائر بلینائر میں سے، کچھ ارب پتی بھی اپنی قوم مسلم کو اعلی عصری تعلیم دلوانے کے مشن محمدی صلی اللہ وعلیہ وسلم  پر عمل پیرا پائے جائیں تو چند سالوں بعد ہی ہم اپنے میں، سلف و صالحین قرون اولی والے مسلم سائینس دان و ریاضی  دان و  مختلف موضوعات کے ماہرین کی ایک لامتناہی اعلی تعلیم یافتہ فوج کو،اپنے میں پاتے ہوئے ، مستقبل قریب میں امامت عالم کے دعویدار، ہم مسلم امہ کو ایک مرتبہ پھر آگے بہت آگے یہود و ہنود و نصاری سے آگے پاسکتے ہیں۔ یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ قوم یہود کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام لکڑہاڑے یا کارپینٹر تھے اور قوم مسیح کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام چرواہے یا شیفرڈ تھے  اور ہم مسلمانوں کو یہ فخر حاصل ہے کہ ہمارے نبی آخرالزماں  محمد مصطفی صلی اللہ و علیہ وسلم؛ امی مشہور تھے لیکن مالک دو جہاں کے حکم سے ،انکے معزز و مقرب فرشتہ حضرت جبریل آمین علیہ السلام کے، ہنر تعلیم آرضی و آخروی پڑھائے، اعلی تعلیم یافتہ استاد یا معلم تھے اور انکی امت ہم مسلمان فی زمانہ دنیا کی سب سے پسماندہ،غیر تعلیم یافتہ اقوام میں سے ایک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔