اویسی پرووٹ کٹوےکاالزام اورموجودہ سیاسی منظرنامے کامقتضی!

     انوارالحق قاسمی
   ڈائریکٹر:نیپال اسلامک اکیڈمی
  رابطہ نمبر:9779811107682+
    اس میں کوئی شک نہیں ہے، کہ موجودہ دور میں اگر کوئی ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح قیادت و سیادت کر سکتا ہے، تووہ شیر ہند بیرسٹر محترم جناب اسد الدین اویسی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی ذات گرامی ہیں۔
   اور یہ بات بھی یاد رہے کہ کسی بھی قوم کی سچی رہنمائی درحقیقت وہی شخص کر سکتا ہے جس کے دل اور سینے میں قوم کا حقیقی درد موجزن ہو اور وہ اپنی قوم کو ہر طرح کی ترقیات کی راہ پر گامزن کرنے کی صلاحیت بھی  رکھتا ہو اور ظاہری اسباب کے طور پر قوم  کی تائید و نصرت بھی ان کے ساتھ ہمہ وقت شامل حال ہو، ایسے تو اصل نصرت و تائید خدائے آفاق کی نصرت و حمایت ہے؛ کیوں کہ تائیدایزدی کے بغیر دنیا کا بڑا سے بڑا انسان بھی اپنے معمولی سے معمولی مقصد میں کامیاب و کامران نہیں ہوسکتا ہے، اس کے بالمقابل اگر معمولی سے معمولی ذرے کو بھی تائیدربانی  حاصل ہوجائے ،تو وہ بڑے سے بڑے کارناموں کو چٹکیوں میں بحسن خوبی انجام دے سکتا ہے، الغرض نصرت خداوندی کے بغیر بڑا سے بڑا انسان بھی ادنی سےادنی کارنامے کو انجام نہیں دے سکتا ہے، اور تائیدایزدی کے ساتھ چھوٹا سا چھوٹا انسان بھی بے شمار اور ان گنت بڑے بڑے کارناموں کو معمولی وقت میں اور معمولی محنت کےساتھ بحس خوبی  انجام دے سکتا ہے،شعر: دے ولولہ شوق جسے لذت پرواز *کرسکتا ہے وہ ذرہ  مہ و مہر کو تاراج (اقبال)ترجمہ: جس ذرّے کو عشق کا جوش و جذبہ اڑنے کی لذت عطا کر دے ،وہ چاند اور سورج کو تاراج یعنی مسخرکرلیتا ہے، یعنی اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک عام انسان بھی عشق حقیقی کے جذبوں سے سرشار ہو جائے، تو اس میں ایسی قوت پیدا ہوجاتی ہے، جس سےوہ پوری کائنات کو مسخر اور اپنی بقا کا سامان کر لیتا ہے۔
   شعر ثانی : مشکل نہیں یاران چمن معرکہ باز* پر سوز اگر ہو نفس سینہ دراز (اقبال) ترجمہ: اے چمن کے دوستو! باز کے معرکے میں فتح مند و کامیاب ہونا مشکل نہیں ہے، بشرطےکہ تیتر کے سینے میں اگر پرسوز سانس ہو، یعنی کمزور انسان بھی اگر جذبہ عشق سے سرشار ہو، تو وہ بڑے بڑے طاقتوروں اور بڑی بڑی باطل طاقتوں پر غالب آسکتا ہے۔
    بیرسٹر  محترم جناب اسد الدین اویسی صاحب اور ان کی پارٹی” مجلس اتحاد المسلمین” گرچہ دیگر سیکولر پارٹیوں کے مقابلے میں ان کے حامین  کے نزدیک معمولی شخص اور معمولی پارٹی ہیں ؛ مگر ان کے ساتھ تائید ربانی ہمہ وقت  شامل حال ہیں، اور ان پر مسلمانوں کی نظرعنایات بھی ہیں، اور خود ان کا دل بھی عشق خداوندی اور عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معمور ہے، نیز ان کے قلب و دماغ میں امت مسلمہ کا درد بھی ہے، تو آج گرچہ ان کی پارٹی "مجلس اتحاد المسلمین "کو حالیہ بہار انتخابات میں بیس  سیٹوں میں سے صرف پانچ سیٹوں پر نمایاں کامیابی ملی ہے؛ مگر ان شاء اللہ العزیز آنے والے وقتوں میں "مجلس اتحاد المسلمین "ہندوستان کی سب سے بڑی دو پارٹی(1)بی جےپی (2)کانگریس کےمقابل اورٹکر میں ہوجائےگی، اور پھر پورے ملک میں مسلمانوں کی ترجمانی کرے گی، یہی تو وجہ ہے کہ ان پارٹیوں کے حامین کے پیٹوں میں "مجلس اتحاد المسلمین” کی کامیابی و ظفر پر مروڑپیدا ہونے لگتی ہے اور بے جا کسی کی شکست وہزیمت پر اس کی شکست کا سارا قصور” مجلس اتحاد المسلمین” کے کاندھے پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ ایسا ہی معاملہ حالیہ بہار انتخابات میں بھی  پیش آیا ہے۔
     یہ ایک حقیقت ہے کہ "مجلس اتحاد المسلمین” کے سربراہ اور رکن پارلیمان محترم جناب اسد الدین اویسی صاحب کوئی مجرم نہیں ہیں، لیکن انہیں مجرموں کے کٹگھرے میں کھڑا کرکےایک محاذ کھول دیا گیا ہے ۔اوریہ تاثردینےکی سعی پیہم کی جارہی ہے کہ بہارمیں مہاگٹھ بندھن کی حکومت نہ آنے میں اگر کسی کاقصور ہے،تووہ صرف اور صرف بیرسٹر محترم جناب اسدالدین اویسی اور ان کی پارٹی ” مجلس اتحاد المسلمین” کا قصور ہے۔
    جب کہ میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی ہندوستانی کو مہاگٹھ بندھن کی ہار کا قصوروار بیرسٹر محترم جناب اسد الدین اویسی صاحب یا ان کی پارٹی "مجلس اتحاد مسلمین” کو قرار دینا انتہائی بےعقلی ہے؛ کیوں کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ،یہاں کے ہر ایک باشندے کو سیاست سے جڑنے اور سیاست کرنے کا مکمل حق ہے اور کامیاب یا ناکام بنانا، یہ تو عوام کا کام ہے ؛مگر کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا ہے، کہ وہ کسی کو ہدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہے: کہ فلاں سیاست سے کیوں جڑ گیا؟ اسے سیاست کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے؟ یا ان کی وجہ سے فلاں  پارٹی کی شکست ہوگئی ہے، اگر وہ نہیں ہوتے تو فلاں پارٹی جیت جاتی، اس طرح کی ہفوات بکنے کا آپ کو کس نے اختیار دے دیا ہے ،آپ کو بھی اگر سیاست سے مربوط ہوناہے ،تو آپ بھی مربوط ہوجائیں ؛مگر خدارا !کسی کی ذاتی یا کسی کی پارٹی پر بےجا انگشت نمائی کر کے اپنے اوقات  غالیہ کو یوں ہی لایعنی امور میں ہرگز ہرگز ضائع  نہ کیجئے، اسی میں خیر ہے۔
      اب رہی بات محترم جناب اسد الدین اویسی صاحب یا ان کی پارٹی” مجلس اتحاد المسلمین” کی ،تو یہ بات سبھوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ بیرسٹر جناب اسد الدین اویسی صاحب ایک ہندوستانی ناگرک ہیں،جب اسدالدین اویسی  صاحب ایک ہندوستانی ناگرک ہیں، تو انہیں بھی ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں سیاست سے منسلک ہونےاو سیاست کرنے اور اپنی سیاسی پارٹی بنانے کا مکمل حق رکھتےہیں ۔
    حالیہ بہار انتخابات میں بہار کی عوام نے ان کی پارٹی "مجلس اتحاد المسلمین” کو پانچ سیٹوں پر نمایاں فتح اور زبردست جیت عطا کی ہے، تو اس سےہر ہندوستانی کو خوش ہونے کی ضرورت ہے،نہ یہ کہ  بجائے خوش ہونے کے مطعون گرداننے کی؛کیوں کہ یہ مقام،مقام مسرت ہے ،نہ کہ مقام لعن وطعن ۔
      اچھاچلیےجب آپ حضرات  یہی کہتے ہیں: کہ بیرسٹر محترم جناب اسد الدین اویسی صاحب اور ان کی پارٹی "مجلس اتحاد المسلمین” ووٹ کٹوا ہیں اور ان کی وجہ سے مہاگٹھ بندھن ہار گئی ہے، تو اس کی بھی تحقیق کر ہی لیتے ہیں، کہ کیا واقعی محترم جناب اسد الدین اویسی اور ان کی پارٹی” مجلس اتحاد مسلمین "ووٹ  کٹواہیں؟ اور اس کی وجہ سے بہار انتخابات میں مہاگٹھ بندھن ہار گئی ہے؟ یااویسی صاحب اور ان کی پارٹی پر یہ سراسر الزام ہے، جس کا حقیقت سے کوئی دور تک کابھی واسطہ نہیں ہے۔
   اس سلسلے میں معروف و مشہور قلم کار اور سینئر تجزیہ نگار محترم جناب شکیل رشید صاحب لکھتے ہیں :کہ ایم آئی ایم ان پر مقابلے میں تھی ہی نہیں ۔ جو اعداد و شمار حاصل ہوئے ہیں ان کے مطابق تین سیٹوں پر ایم آئی ایم کو تین ہزار سے بھی کم ووٹ حاصل ہوئے اور دو سیٹوں پر چھ ہزار سے کم ووٹ ملے ۔ ان پر این ڈی اے کا سیدھا مقابلہ مہا گٹھ بندھن سے تھا ۔ تین سیٹوں پر این ڈی اے نے 15000 سے زائد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی، یعنی اگر ایم آئی ایم کے امیدواروں کے ووٹ بھی مہا گٹھ بندھن کے حصے میں آ جائیں تو بھی وہ جیت سے بہت دور ہے ۔ ایم آئی ایم کی غیر حاضری سے بھی اسے فائدہ نہیں پہنچتا ۔ دو سیٹوں میں سے ایک سیٹ رانی گنج میں این ڈی اے امیدوار کی جیت 2304 ووٹوں سے ہوئی، مجلس کی روشن دیوی نے 2412 ووٹ حاصل کیے، یہ سیٹ جدیو کو حاصل ہوئی اس سیٹ کے لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر روشن دیوی کے ووٹوں میں سے 108 یا 109 ووٹ مہا گٹھ بندھن کے کھاتے میں آتے تو یہ سیٹ این ڈی اے کو نہ جاتی ۔ پران پور کی سیٹ پر مجلس کے امیدوار کو صرف 508 ووٹ ملے جبکہ کانگریس کے توقیر عالم 2972 ووٹوں سے ہارے، اگر اس میں 508 ووٹ ملا بھی دیے جائیں تو بھی توقیر عالم جیت نہیں پاتے ۔ گویا یہ کہ مجلس اگر این ڈی اے کے کھاتے میں سیٹ پھینکنے کی ذمہ دار ہے تو صرف ایک سیٹ کے۔
     ایم آئی ایم کے مقابل کانگریس کو دیکھیں !تو ان کو 70/سیٹیں ملی تھیں، ان میں سے کانگریس صرف اور صرف 19/ سیٹوں پر ہی کامیابی حاصل کی ہے اور باقی 51/ سیٹوں پر غیر معمولی ووٹوں  سے ناکامی درج کی ہے ،یعنی صاف لفظوں میں یہ کہیں : کہ 51/سیٹیں این ڈی اے کے حوالے کر دی ہے، تو اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ ووٹ کٹوا ایم آئی ایم ہوئی ؟یا کانگریس؟اور جب ووٹ کٹوا کانگریس  ہوئی،توپھر  آئی ایم آئی ایم پر ووٹ کٹوا کا الزام کیوں؟ اس کا جواب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایم آئی ایم مسلمانوں کی پارٹی ہے؛ اس لیے اس پرووٹ کٹوا کا الزام عائد کیا گیا ہے ،یہی اگر آج ہندوؤں کی پارٹی ہوتی ،تو لوگ کا فی تعریف وتوصیف کرتیں، اور کانگریس چوں کہ ہندوؤں کی پارٹی ہے، اس لئے  لوگوں نے اس پر ووٹ کٹوا کا الزام عائد نہیں کیا ہے،بل کہ اس کی ہارپر ماتم منا رہے ہیں اور اس کی ہار کا سارا قصورایم آئی ایم پر ڈال رہے ہیں، یہ ہیں  اصل صورت حال۔
   ہندوستانی مسلمانوں! ہندوستان کاموجودہ سیاسی منظر نامہ اس بات کامقتضی ہے کہ کسی اچھے اورسچےمسلمان کواپنامقتدااورپیشواتسلیم کیاجائے،مع اس کے ایک سیاسی پارٹی بھی تشکیل دی جائے،جومسلمانوں کی آواز کوبروقت اٹھاسکے اورمسلمانوں پرہورہےغیرمنقطع السلسلہ مظالم کاخاتمہ کرسکے۔
    اس کےلیے  میں سمجھتاہوں کہ بتوفیق خداوندی دونوں ہی چیزیں،یعنی ایک اچھااور سچامسلم لیڈر بیرسٹر محترم جناب اسدالدین اویسی کی شکل میں اور ایک اچھی پارٹی "مجلس اتحادالمسلمین ” کی شکل میں موجود ہیں ،بس ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان بیرسٹر محترم جناب اسدالدین اویسی صاحب کاہرممکن تعاون کریں اور”مجلس اتحاد المسلمین” کی خوب حمایت کریں اور اسے ایک بڑی پارٹی بنانے کی سعی پیہم کریں ،اللہ محنتوں کورائیگاں نہیں کرتے ہیں ،نتیجتا”مجلس اتحاد المسلمین”آنے والے وقتوں میں ایک بڑی پارٹی بن کرابھرےگی اور پھرہمہ وقت ،یعنی حسب ضرورت مسلمانوں کی آواز بلندکرےگی اورمسلمانوں پرہورہےمظالم کاخاتمہ کرےگی۔
   اگر مسلمانوں نے ایسانہیں کیاتوپھرآنے والے وقتوں میں ہندوستان میں  ہندوستانی مسلمانوں  کےمسائل مزیدپیچیدہ ہوسکتےہیں ؛اس لیےمسلمانوں کچھ توسوچنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔