آزادی متحدہ ھند و پاک  کے اولین ھیرو حضرت ٹیپو سلطان شہید علی الرحمہ

۔        نقاش نائطی
حضرت ٹیپو سلطان شہید کی روشن زندگی کا حسین باب، موجودہ نسل انسانی پر ظاہر نہیں ہے، اس لئے انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے کہ، اس وقت جب پورے بھارت میں، راجے، مہاراجے، نواب، سلطان وغیرہم، جس کی لاٹھی اس کی بھینس، اصول پر، مذہب ملت سے اوپر اٹھ کر، اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر، اپنی مملکت کی سرحدیں بڑھانے میں مصروف تھے ۔ ہرنواب، سلطان، راجہ، ومہاراجہ کو، اپنے پڑوسی راجوں سے، جنگ لڑنے اور اس کی مملکت پر قبضہ جمانے کی فکریں لگی رہتی تھیں۔ وہیں پر اپنے والد سلطان  حیدر علی کی وفات کے بعد،میسور کی سلطانی،گدی وراثت میں ملی، تو اور نوابوں اور راجوں کے مقابلہ انہیں ایک اور دشمن انگریز سے بھی نبزد آزما ہونے کی فکر دامن گیر تھی۔
انگریز اپنی مکاری سے آپس میں لڑتے، راجوں، مہاراجوں،  نوابوں، کو اپنی فوجی مدد کے بہانے، اپنا دائمی غلام بناتے ہوئے، ہندستان کے بڑے حصہ پر قابض ہوتے چلے جارہے تھے۔ اس وقت حیدر آباد نواب اور مراٹھا راجہ  شیواجی سمیت،  بڑے بڑے نواب و راجہ، انگریزوں سے ٹکرانے کے بجائے،ان کا حلیف بن، اپنی سلطنت بچانے کی تگ و دو میں مصروف تھے۔ وہیں پر حضرت ٹیپو نے انگریزوں کی، ہندستان کو غلام بنانے کی،ان کی سازش کو قبل از وقت بھانپ کر انگریزوں سے، جنگ لڑتے ہوئے، انہیں ہندستان سے باہر کدھیڑنے کو اپنا مشن بنایا تھا۔ اگر سلطان ٹیپو چاہتے تو حیدر آباد نواب و مراٹھا راجہ شیواجی کی طرز پر، انگریزوں سے امن معاہدہ کر، اپنی حکومت کو بچا سکتے تھے، لیکن انہوں نے اس ملک بھارت کو، انگریز مکت کرنے کے لئے، اپنے دور اقتدارمیں، انگریزوں سے تین جنگیں لڑیں۔ اور آخری جنگ میں مراٹھا و نواب حیدر آباد کی مشترکہ انگریز  افواج سے بہادری سے لڑتے ہوئے، اپنے ہی غدار وزیر خزانہ مملکت میسور، پورنیہ اور میر صادق کی غداری کے سبب، شہادت نوش کرنا بہتر جانا۔  جب غداروں کی سازشوں کے نتیجہ میں انگریز قلعہ میں گھسنے لگے، تو ان کے وفادار ساتھیوں نے، میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ جانے یا انگریزوں کے آگے ہتھیار  ڈال کر، اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا تھا، تو اس وقت شہادت سے قبل سلطان کے کہے جملے، آج دو سو آیکیس سال بعد بھی، شان مسلمانی کے لئے تمغہ بہادری بن جانے والے بن گئے ہیں، آپ نے اس وقت کہا تھا "گیڈر کی سو سالہ غلامی کی زندگی سے ایک دن کی بہادری کی زندگی کو وہ پسند کرتے ہیں اور غلاموں  والی لمبی زندگی جینے پر لڑتے لڑتے اپنے مادر وطن کے لئے، شہید ہوجانا  پسند کرتے ہیں”
اب سوال یہ ہے کیا ٹیپو سلطان نے اپنے مملکت میسور کو بچانے کے لئے انگریزوں سے ذاتی جنگیں لڑی تھیں؟ کیا وہ مرہٹہ راجہ شیواجی، اور نواب حیدر آباد کے طرز پر ، انگریزوں سے ہاتھ ملا کر اپنی حکومت بچا نہیں سکتے تھے؟  اور زندگی بھر عیش و عشرت کی زندگی بسر نہیں کرسکتے تھے؟ اور کیا سلطان ٹیپو ایک ہندو مخالف راجہ تھے؟ جیسا کہ متعصب ہندو شدت پسند تنظیمیں آپ پر الزام لگاتی ہیں؟  یقینا اگر ٹیپو چاہتے تو وہ  سب کچھ کرسکتے تھے جو مراٹھا راجہ شیواجی نے اور نواب حیدر آباد نے کیا تھا۔  لیکن چونکہ وہ ایک سچے پکے دین پر چلنے والے، خوف خدا رکھنے والے، مسلمان حکمراں تھے دشمنوں اور دوستوں کی پہچان رکھتے تھے۔ انہیں دوستی کی آڑ میں، مادر وطن ہند کو، انگریزوں کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑتے،  بھانپ لیا تھا، اس لئے انہوں نے اپنی جان بچانے کے بجائے اور انگریزوں کی غلامی والی زندگی جینے پر، اپنی شہادت کی موت کو ترجیح دی تھی۔ رہی بات کیا ٹیپو سلطان ہندو مخالف راجہ تھے؟ ہمارےکرناٹک کے سابق چیف منسٹر شری سدی رامیہ جی کی، ٹیپو جینتی کے موقع پر کی گئی تقریر کے وہ جملہ ہی حضرت ٹیپو کو ہندو دوست ایک سیکیولر مسلم راجہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ یہ ہم نہیں اس کرناٹک راجیہ کا ہندو چیف منسٹر، ہزاروں کے مجمع میں، اس ملک کی آزاد میڈیا کے سامنے کہہ رہا ہے۔ کہ ٹیپو سلطان ایک سیکیولر ہندو دوست مسلم راجہ تھے ۔ ٹیپو سلطان نے اپنے دور اقتدار میں، شرنگیری شاردا مٹھ چکمنگلور ، رنگناتھ سوامی مٹھ، سری رنگا پٹنم، شری کانتیشور سوامی مندر ننجانگونڈ کے بشمول کرناٹک راجیہ کے 156 بڑے مندروں کو بہت زیادہ مالی مدد دی تھی۔
"سب کا ساتھ سب کا وکاس” اور "پروگرسیو انڈیا” کا نعرہ دے کر ہندستان کی عام جنتا کو بےوقوف بناتے ہوئے، دہلی کی گدی پر براجمان، دستوری اعتبار سے سیکیولر اس ملک ہندستان کے پردھامنتری نے، اپنے دور اقتدار کے ان چھ سالوں میں، اس ملک کی سب سے بڑی بیس فیصد والی مسلم اقلیت کو معشیتی مدد و نصرت دینے کی دور، وندے ماترم ، سوریہ نمسکار، یوگا، گو رکھشہ اور اب یکساں سول کوڈ کے بہانہ کتنا ذلیل ورسوا کرنے کی ناکام کوشش کی ہے یہ سب ہندستان کےاسی فیصد ہندو بھائیوں کے سامنے ہے۔ان ایام میں بادشاہ وقت کے ڈر اور خوف کے سامنے کسی کو منھ کھولنے تک کی آزادی نہ تھی، ایک مذہبی کٹر پسند مسلم راجہ، حضرت ٹیپو سلطان نے، اپنے راجیہ کی ہندو عوام پر بہانہ بہانہ سے ظلم و ستم ڈھانے کے بجائے، اپنے مسلم راجیہ میں یکسانیت سے آزادی کے ساتھ، اپنے اپنے مذہب کی عبادت کرتے ہوئے، اس دیش میسور کو؟معاشی طور آگے لیجانے کی، نہ صرف کھلی آزادی دے رکھی تھی، بلکہ 156 بڑے اور نام چین مندروں کو مالی مدد و نصرت دیکر، اپنے سیکولر ہونے کا، ہر لحاظ سے ثبوت بھی پیش کیا تھا۔
آزادی ہند کے فورا بعد سے ہی، آزادی ہند کے سب سے پہلے، انگریزوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان اس ملک ہند پر قربان کرنے والے شیر میسور حضرت ٹیپو علیہ الرحمہ کو، بحیثیت آزادی ہند کے ہیرو کے طور تسلیم کیا  جانا چاہئیے تھا، لیکن چونکہ حضرت ٹیپو سلطان مسلمان راجہ تھے اور بعد آزادی ہند، مسلمانوں کے لئے پاکستان بنائے جانے کے بعد،  ہند واسی مسلمانوں کو کس نظریہ سے دیکھتے تھے یہ بات بھی کسی سے چھپی نہیں رہ گئی ہے۔
اب رہی بات شدت پسند آرایس ایس والوں نے ٹیپو جینتی کی مخالفت کیوں کی؟ اس کا سب سے پہلا جواب یہی ہے کہ جس  آرایس ایس کی بنیاد ہی مسلم دشمنی پر رکھی گئی ہو، اور قبل آزادی ہند جو لوگ اس دیش کے دشمن انگریزوں کے حلیف رہ کر، حضرت ٹیپو کو شہید کیا ہو، وہ کیوں کر، حضرت ٹیپو سلطان شہید علیہ الرحمہ کو، آزادی ہند کے ہیرو  کے طور پر، برداشت کر سکتے ہیں؟ دوسری سب سے اہم وجہ آزادی ہند کے بعد، ان پچاس ساٹھ سالوں میں آرایس ایس، شیو سینا کے بشمول دیگر بھارت کی ھندو مذہبی پارٹیوں نے، مراٹھا لیڈر شیواجی مہاراج اور مہارانہ پرتاپ سنگھ کو آزادی ہند کے ہیرو کے طور منوانے کے، بڑے جتن کئے ہیں۔اب اگر کسی نہ کسی سب، شیر میسور کی قربانیوں کو آزادی ہند سے جوڑتے ہوئے، انہیں آزادی ہند کے ہیرو کے طور تسلیم کرتے ہیں تو انگریزوں کے حلیف و ساتھی بن کر، حضرت ٹیپو علیہ الرحمہ کو شہید کرنے والے مراٹھا لیڈروں کو ، انگریزوں کے ساتھی اور وطن کے غدار تسلیم کرنا پڑے گا، اسلئے حضرت ٹیپو ہی کو آزادی ہند کا ہیرو بننے نہ دیا جائے تو مراٹھا راجہ، شیواجی مہاراج کی لاج بھی بچی رہ جاتی ہے۔ تیسری اہم وجہ گیروی شدت پسند ہندو پارٹیوں کو مذہبی منافرت پھیلا کر ووٹ بنک کی سیاست کرنے کے علاوہ اور اچھے کام کرنا آتا کہاں ہے؟
اللہ کا  بڑا فضل و کرم ہے کرناٹک کے مسلم لیڈران کی ان تھک کوشش کے بعد، کرناٹک کے سابق چیف منسٹر شری سدا رامیا نے 10 نومبر کو کنڑا دیوس اور حضرت ٹیپو علیہ الرحمہ کی جینی دیوس کے طور منانے کاسرکاری اعلان کردیا ہے اس لئے ھندو شدت پسند پارٹیاں، مرکز کی موجودہ مسلم دشمن سرکار کی مدد کے بھروسہ، حضرت ٹیپو کی دشمنی کے بہانہ، کرناٹک کی فضا کو منافرت والے ماحول میں تبدیل کر، اپنے لئے سیاسی ماحول تیار کرنے کی ناپاک کوشش میں مگن  ہیں۔
دراصل یہ ہم مسلم ادیبوں کا قصور ہے کہ وہ شیر میسورحضرت ٹیپو سلطان علیہ الرحمہ کے سیکیولر کردار کو برادران وطن کے سامنے مناسب انداز رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ یہ ہمارا کام تھا انہیں تاریخ کی کتابوں کے حوالہ سے بتانا کہ ان ہندوؤں کے ویر سمراٹ مراٹھا ہندو راجا نے کئی مرتبہ میسور پر چڑھائی کی تھی اور شیر میسور سے جنگ ہار کر بھاگ لوٹتے وقت ، خود ہندو رہتے، راستہ میں پڑنے والے میسور راجیہ کے ہندو مندروں کو لوٹ کر نہ صرف مال و دولت لوٹ لے جاتے تھے، بلکہ راستہ میں پڑنے والی ہندو بستیوں کو  لوٹ کر ویران کر جاتے تھے۔ اور ان ہندو رعایا کی گوہاڑ پر مسلمان راجہ ٹیپو سلطان نہ صرف ان ہندو بستیوں کو دوبارہ آباد کردیا کرتا تھا بلکہ ہندو مندروں کو بھی دوبارہ تعمیر کردیا کرتا تھا۔ شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان علیہ الرحمہ جیسے تہجد گزار، مابعد لڑکپن جوانی سے لیکر بڑھاپے تک بغیر تکبیر اولی نماز نہ چھوڑے، پنجگانہ نماز ادا کرنے والے،خداترس شخصیت نے، اپنی ہندو رعایا سے اپنی محبت کو درشانے کے لئے، اپنے محل کے عین سامنے ایک طرف عالیشان مسجد ،جہاں تعمیر کی تھی، وہیں پر ہندو مسلم اخوت و محبت کی نشانی کے طور اپنے  محل کے عین سامنے سب سے بڑا رنگناتھ سوامی مندر بھی تعمیر کیا تھا جو آج بھی حضرت ٹیپو کے سیکیولر امیج کو درشاتا، میسور سری رنگا پٹنم کی دھرتی پر، شان سے سر اٹھائے کھڑا ہے۔
کرناٹک کی ہندو عوام تک حضرت ٹیپو سلطان علیہ الرحمہ کے،سیکیولر چہرے کو نمایاں انداز سے پیش کرنے میں ہم اگر ناکام ہیں تو یہ ہمار قصورہے۔اب چونکہ ہندو  شدت پسند تنظیموں نے، حضرت ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش کو منانے کے کرناٹک سرکار کے فیصلہ کو چیلنچ کیا ہے اور ان جیسی  لائق احترام  شخصیت کو مسلمانوں کا راجہ کہہ کر، داغدار بنانے کی سعی کی ہے، تو اب یہ ہم مسلمانوں  کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے طور، ریاستی حکومت کے فیصلہ کے عین مطابق حضرت ٹیپو سلطان علیہ الرحمہ کے جنم دیوس 10 نومبر کو، نہ صرف دھوم دھام سے منائیں، بلکہ ایسے مواقع پر اسکولوں کالجوں اور پبلک سطح پر پروگرامات، ڈبیٹ، ثقافتی ڈرامہ و تقاریری و مضمون نویسی مقابلہ آرائی کے پروگرامات منعقد کرتے ہوئے، شیر میسورحضرت ٹیپو سلطان علیہ الرحمہ کے سیکولر اوصاف اور میسور راجیہ کے اس وقت کے ترقیاتی منصوبوں کی تفاصیل، برادران  وطن کے سامنے، کچھ اس بہترین  اور موثر طریقہ پر، رکھنے کی سعی پیہم کرتے رہیں، کہ آئیندہ چند سالوں بعد، کرناٹک راجیہ کا ہر ہندو بھائی،  شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان علیہ الرحمہ کو،  بڑے ہی فخر کے ساتھ ، آزادی ہند کا ہیرو کہہ سکے۔
خصوصا ہم بھٹکل کے اہل عرب  آل نائط قوم  کی یہ ذمہ داری ہے کہ حضرت ٹیپو سلطان کی والدہ ماجدہ کا تعلق آل نائط سے جو بتایا جاتا ہے، اس لئے حضرت ٹیپو سلطان، ننھیال سے ہمارے آل نائط بھائی بھی ہیں اور چونکہ سلطان نے اپنے مذہب اسلام پر مکمل عمل پیرا ہوکر رہتے ہوئے، ایک مثالی سیکیولر نڈر راجہ کی زندگی بیتاتے بیتاتے، اس مادر وطن ہندستان کو انگریزوں کی غلامی میں نہ جانے دینے کےلئے، انگریز مرہٹہ افواج سے لڑتےلڑتےاپنی جان آفرین اس دیش میسورکرناٹک اور اس ملک بھارت کے لئے قربان کی تھیں اس لئے شہر بھٹکل میں شاندار انداز سے حضرت ٹیپو سلطان یوم پیدائش منایا جانا چاہئیے۔ ویسے بھی ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام، لیکن ٹیپو جنم دیوس بڑے پیمانے پر مناکر حکومت کرناٹک کے ٹیپو جنم دیوس منانے کے سرکاری پروگرام کو کامیاب بنانے کی تمام تر ذمہ داری اس علاقہ کے سب سے بڑے اور باآثر ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کی ہے۔ اس لئے مجلس اصلاح  تنظیم کو چاہئے وہ شر پسندوں کی پرواہ کئے بنا حکومتی پروگرام کی مدد و نصرت کرنے ہی کے بہانے حضرت ٹیپو سلطان یوم پیدائش شاندار طور مناکر ریکارڈ قائم کریں
یہاں شیر میسور حضرت ٹیپوسلطان علیہ الرحمہ کے تمام اوصاف حمیدہ اور میسور راجیہ کے ترقیاتی منصوبوں کو احاطہ کرنے بیٹھیں تو ایک زخیم کتاب معرض وجود میں آسکتی ہے۔ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے بعض نکات کی طرف توجہہ مبذول نہ کروائی جائے تو حضرت ٹیپو سلطان پر لکھے اس مقالہ کے ساتھ انصاف نہ ہوگا۔
میسور راجیہ جو آج ہندستان کی سب سے زرخیز جنگلاتی ریاست ہے،اس کی شادابی، یقینا سوا دو سو سال قبل کے حضرت ٹیپو سلطان کی دور اندیشی کا نتیجہ ہے۔ حضرت ٹیپو سلطان نے اس وقت اس بنجر زمین کو کاشت کے لائق بنانے کے لئے جونسخہ کیمیا دیا تھا، اس پر، پاونے دوسو سال بعد، اس دیش کی وزیر اعظم، شری متی اندرا گاندھی نے عمل کرکے پوری دنیا میں واہ واہی حاصل کی تھی۔ حضرت ٹیپو سلطان نے اس وقت یہ فرمان جاری کیا تھا کہ ریاست کی بنجر زمین جو اپنی محنت و مشقت سے لائق کاشت بنائے گا، اس زمین کے مالکانہ حقوق،اسے تفویض کئے جائیں گے
پوری دنیا میں میسور سلک ساڑیاں جو آج مشہور ہیں حضرت ٹیپو سلطان نے میسور کے جنگلوں میں پائے جانے والے ریشمی کیڑوں سے ،ریشمی کپڑا کشید  کرنے کی فیکٹری دو ڈھائی سو سال قبل ہی اپنے راجیہ میسور میں لگائی تھی۔
چونکہ وہ زمانہ عالم حرب کے نام سے مشہور تھا ہند بھر کے مختلف راجے مہاراجے نواب و سلطان اپنے اپنے مملکت کی وسعت کے لئے کسی نہ کسی بہانہ جنگ لڑتے رہا کرتے تھے اس لئے ہتھیاروں کی ضرورت پڑتی رہتی تھی۔ اس لئے جنگ میں استعمال ہونے والے اس وقت کے تمام پیتل و لوہے چاندی کے  ہتھیار بنانےکی فیکٹریاں اپنے علاقہ میں ہی قائم کی تھیں
کاویری ندی پر بعد کے دنوں میں میسور کے راجہ کرشنا راج وڈیر کی طرف سے ڈیم کی سنگ بنیاد رکھتے وقت، سنگ بنیاد کےلئےکھدائی کرنے کی جگہ پر ہی، حضرت ٹیپو سلطان کے، اسی جگہ پر دو سو سال قبل ڈیم تعمیر کرنے لئے رکھے گئے، فارسی زبان کے کتبہ کے ملنے نے، یہ ثابت کردیا تھا، کہ اگر غداران ملک کی سازشوں کی وجہ سے انگریزوں کی گولیوں کا نشانہ بن، حضرت ٹیپو سلطان  شہید نہیں ہوئے ہوتے تو، حضرت ٹیپو سلطان آج سے دو ڈھائ سو سال قبل ہی، کرناٹک میں کاویری ندی پر ہندستان  کا اولین ڈیم تعمیر کرتے ہوئے ، اس کرناٹک کو پتہ نہیں ترقی کی کن اونچائیوں تک پہنچا چکے ہوتے؟
علوم و فنون و سامان حرب سازی کی جدت پسندی کو برقرار رکھنے کے لئے، اور اپنے دشمنوں سے دو قدم ہمیشہ آگے رہنے کے لئے، فی زمانہ معروف شعبہ آر اینڈ ڈی، ریسرچ  اینڈ ڈیولپمنٹ، آج سے دو ڈھائی سو سال قبل ہی حضرت ٹیپو نے اپنی راجیہ میں قائم کی ہوئی تھی۔ اس زمانہ میں جنگیں عموما دو بدو آمنے سامنے تلواروں نیزوں سے لڑی جاتی تھیں۔ تیر بازی اور دور تک مار کرنے والی غلیلیں اور توپیں تھیں۔ لیکن دور دراز کے  دشمن کے علاقوں میں موجود اھداف مار کرنے اور دور سے ہی دشمنوں کے خیموں میں تباہی مچانے والے فی زمانہ میزائل سسٹم کا خاکہ اس وقت شیر میسور کے ذہن میں تھا اس پر تحقیق و جستجو کرتے ہوئے میزائل سسٹم کو ایجاد کرنے کی ذمہ داری اس وقت کی  آر اینڈ ڈی شعبہ پر تھی اسی وقت حضرت ٹیپو سلطان نے میزائل ٹیکنولوجی کو حاصل کرلیا تھا۔ لیکن میر صادق و پورنیہ کی غداری نے اور نواب حیدر آباد اور مراٹھوڑہ راجہ شیواجی کی مشترکہ انگریزی  افواج  کے ہاتھوں حضرت ٹیپو کی شہادت نے اسی وقت اس میزائل ٹیکنولوجی کو تاریخ کی گرداپ میں دفن کردیا تھا ورنہ کیا پتہ اگر اس وقت غداران ملک کی وجہ، حضرت ٹیپو  سلطان شہید نہ کئے گئے ہوتے، تو آج سے دو سال قبل ہی ہندستان میزائل ٹیکنولوجی تیار کرنے والا پہلا ملک ہوتا اور اس میزائل ٹیکنولوجی کی وجہ سے دنیا کا سپر پاور ہند ہی ہوگیا ہوتا۔ دوسو سال قبل ہی ہند کو انگریزوں سے کدھیڑنے کے لئے اس وقت کی انگریزون سے ٹکر لینے والی فرانسیسی افواج سے ٹیپو سلطان نے ساز باز کر لی تھی۔ لیکن قدرت نے ہند کی انگریزوں کے ہاتھوں غلامی لکھی ہوئی تھی اس لئے غداروں کی غداری سے یہ ملک ہندستان، انگریزوں سے لوہا لینے والے ایک جرنیل سے محروم رہ گیا۔ شاید اسی لئے حضرت ٹیپو کی شہادت کی خبر ملنے پر آنگریز سپہ سالار نے ہزاروں کے مجمع میں فرط مسرت سے چیخ کر کہاتھا کہ آج سے ہندستان ہمارا ہے۔ یہ تو اچھا ہوا ہند کے میزائل سسٹم کا باوا آدم، میزائل مین سابق صدر ہند ابولکلام نے ایک موقع پر انہیں میزائل ٹیکنولوجی کی سوچ بوجھ، حضرت  ٹیپو سلطان سے ملنے کی بات کہہ کر، حضرت ٹیپو سلطان  کے بانی میزایل ٹیکنولوجی ہونے کا اعتراف اس ماڈرن دنیا کے سامنے کیا تھا۔اگر یہ بات بابائےمیزائل ہند ابولکلام کے علاوہ اور کوئی کہتا تو شاید دنیا کبھی حضرت ٹیپو کو بانی میزائل کے طور قبول نہ کرتی۔
امریکہ کے اسپیس ریسرچ ایجنسی ناسا نے، اپنے ناسا کی بلڈنگ کے استقبالیہ ھال میں ڈھائی سو سال قبل کے راکٹ و  میزائل و ٹیکنولوجی سے دنیا کو متعارف کروانے والے عظیم جنگجو شہنشاء میسور حضرت ٹیپو سلطان شہید علیہ الرحمہ کی حالت جنگ میں، اس راکٹ و میزائل سسٹم کو استعمال کرتی پینٹنگ کروا کر،انکے راکٹ و میزائل ٹیکنولوجی کو دریافت کرنے کا برملا اعتراف کیا ہے بلکہ حضرت ٹیپو سلطان شہید کی اس وقت دریافت کردہ میزائل راکٹ ٹیکنولوجی صرف جنگ و حرب کی تباہ کاری کے لئے ہی استعمال نہیں ہوتی ہے بلکہ اس راکٹ سازی ٹیکنولوجی کی ترقی پزیری، جدت پسند راکٹ لانچننگ سسٹم یا ٹیکنیک کے ذریعہ انسان خلاء و سیارات تک کمندیں ڈالتے ہوئے، سائینس و ٹیکنولوجی کو، دنیا کے معراج تک پہنچانے میں مدد کی ہے یہی وہ  حضرت ٹیپو سلطان والی راکٹ لانچنگ  ٹیکنولوجی ہے جس کے دم پر حضرت انسان نے آسمانوں کی بلندیوں پر پہنچتے ہوئے نہ صرف سیارات کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہوئے،بلکہ خلاء سے زمین کے اندر جھانکتے ہوئے، زیر زمین معدنیات کے قدرتی خزانوں تک رسائی حاصل کی ہوئی ہے۔
  20 نومبر 1750 یوم پیدائش اور 4 مئی 1799 یوم شہادت ٹیپو سلطان علیہ الرحمہ  270 ویں یوم پیدائش کے موقع پر ہم امید کرتے ہیں مسلمان ادارے و تنظمیں، جو ٹیپو سلطان کے نام کے ڈنکے بجاکر، سستی شہرت بٹورنے میں منہمک ہیں، حضرت ٹیپو سلطان کے سیکیولر  امیچ کو اور کرناٹک راجیہ کے ترقیاتی منصوبوں کو برادران وطن کے سامنے مناسب انداز میں، رکھنے کےلئے انٹر اسکول و انٹر کالج لیول، تقریری اور مضمون نویسی کے مقابلوں کا انعقاد کریں۔ حضرت ٹیپو سلطان پر ریسرچ کر، مقالہ لکھنے اور یونیورسٹیوں سے ڈاکٹری کرنے والوں کی ہمت افزائی کریں
حضرت ٹیپو سلطان شہید علیہ الرحمہ پر میسور کرناٹک سے ہزاروں میل دور ،بھارتیہ سرحد کے اس پار سر زمیں پاکستان میں بیٹھ کر، مشہور پاکستانی ناول نگار نسیم حجازی نے، کرناٹک کے مختلف گاؤں دیہات علاقہ جات کہ تفصیل کے ساتھ، جس خوبصورتی کے ساتھ اپنا مشہور ناول "اور تلوار ٹوٹ گئی” لکھا ہے یقینا نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ آئیندہ آنے والے ہم مسلمین کی نسل نؤ کو اپنے جہادی جذبات اپنے میں زندگی بھر کروٹ لیتے رہنے کے لئے، شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہید علیہ الرحمہ کی مجاہدانہ زندگی کو ایک مرتبہ ضرور پڑھنا چاہئیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔