لمحوں کی خطا

فیصل نذیر

 ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی۔

             ہم دونوں ہم درس تھے، اور پڑوسی بھی، گریجویشن کا دوسرا سال چل رہا تھا، ہم دونوں میں فون پر اکثر باتیں ہوا کرتی، اور ہر رات دس بجے ایک دوسرے کے میسیجز کا انتطار کرتے تھے، میں نے نبیلہ سے بارہا کہا کہ رات میں کبھی ملاقات کرتے ہیں مگر اس نے سختی سے منع کر دیا اور بتایا کہ اس کے والد صاحب بہت ہی سخت مزاج اور اَنا پرست ہیں، اگر انہیں بھنک بھی لگ گئی تو زندہ در گور کر دیں گے۔

اور یہ باتیں بچپن سے میں بھی دیکھتا آرہا تھا کہ ہمارے گاؤں میں ہر شخص خود کو برتر اور اعلی سمجھتا تھا اور ہمارے گاؤں کے سارے لوگ خود کومغل نسل سے بتاتے تھے اور شادیاں صرف آپس میں ہی ہوا کرتی تھی، کوئی بھی معاملہ حل کرنے کے لئے جمع کی نماز کے بعد بیٹھک لگتی تھی، اسی میں بھی فیصلے کئے جاتے تھے، کوئی فیصلے سے انحراف نہیں کر سکتا تھا، ایک دفعہ ایک شخص نے پنچایت کے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا تو سارے گاؤں کے لوگ اس کے خلاف گواہی دینے لگے اور معاملہ اس شخص کے لئے الٹا پڑ گیا۔

نبیلہ کے والد ایک دن سخت غصے میں گھر میں آئے اور زور زور سے چلانے لگے، میں وہیں موجود تھا، وہ غصے میں آگ بگولہ تھے، اور گالی دیتے ہوئے کہہ رہے تھے اس کی یہ مجال کہ جو کھیت ہمارے پروجو سے ہمارے پاس ہے اس پر کھیتی کرنےسے ہمیں روکے گا، اس کو ایسا سبق سکھاتا ہوں کہ باپ جنم یاد رکھے گا کہ کس سے پالا پڑا ہے، اور غصے میں سرخ وہ اپنی بندوق ہاتھ میں لئے تھے اور نبیلہ کی امی انہیں روکنے کی کوشش کر رہی تھیں اور غصے کے انجام سے ڈرا رہی تھی مگر نخوت اور رعونت میں مست انہیں بس اپنی انا اور انتقام کا خبط سوار تھا، نبیلہ بھی انہیں روکنے کی ناکام کوشش میں ابّا ابّا چلائے جا رہی تھی مگر سعئ لا حاصل۔

کچھ دیر بعد ایک عورت چلاتے ہوئے آئی کہ مرزا صاحب کا کل جس سے جھگڑا ہوا تھا اس کے گھر کے باہر ہی اس کے دونوں بیٹوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔

گھر میں کہرام مچ گیا ،میں بے بسی میں نبیلہ کو دیکھتا رہا جو روئے جارہی تھی ، اس کو دو اور چھوٹے بھائی تھے جو اسکول میں زیرِ تعلیم تھے، اور معاش کا ذریعہ کھیتی باڑی ہی تھا۔

ہفتوں گذر گئے اور نبیلہ کے والد کی تلاش زوروں سے جاری تھی کیونکہ ان کے ملنے کے بعد ہی پنچایت کوئی فیصلہ سنائے گی۔

بالآخر انہیں پٹنہ کے ایک ہوٹل سے پکڑ کر لایا گیا، اور جمعہ کے روز سب پورے جوش و خروش کے ساتھ جمع ہوئے، عورتوں کی بھی تعداد بہت زیادہ تھی، پورے گاؤں کے لوگوں میں ایک تجسس تھا کی آج کیا فیصلہ ہونے والا ہے، اور لوگ مقتول کے والد صاحب سے اظہارِ ہمدردی کر رہے تھے کیونکہ ان کے پاس دو ہی اولاد تھیں اور ان کی پوری نسل کو مرزا صاحب کے غصے نے ختم کر دی ہے۔

میں ڈرا سہمہ اور نبیلہ کے لئے فکر مندتھا، رات اس سے جب گفتگو ہوئی تو وہ قدرے مطئن نظر آرہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ کل اللہ خیر کرے، نہ جانے کتنے روپیوں کا ہرجانہ اور جرمانہ دینا پڑے گا! امی کہہ رہی تھی کہ شاید کھیت بھی بیچنا پڑ جائے، جو بھی ہو جلدی سے فیصلہ ہو، ہم سب کی جان اٹکی ہوئی ہے، کالج گئے بھی ہفتوں ہوگئے۔

میں نے اسے تسلی دی، لیکن میرے دل میں ا یک عجیب سا خوف تھا کیونکہ جس طرح کی گفتگو چوک چوراہوں پر ہو رہی تھی اس سے مجھے آثار اچھے نظر نہیں آرہے تھے۔

سب لوگ جمع ہوگئے اور میں بھی ایسی جگہ بیٹھ گیا جہاں سے مجھے نبیلہ نظر آئے تاکہ میں اسے تسلی دے سکوں۔

نبیلہ کے والد صاحب کو حاضر کیا گیا، ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، اور وہ شخص جو کل تک کبر ، غرور، خاندانی اور نسلی برتری سے چور ہوا کرتا تھا سراپا مجبور و بے بس سب کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا، ان کے وقتی عُجب کو ندامت نے بھلا دیا تھا۔

سر پنچوں میں گھنٹوں بحث چلتی رہی، اور بالآخر ان کا اجتماعی فیصلہ لوگوں کو سنایا گیا ۔۔۔

قاتل کو مقتول کے اہلِ خانہ کو وہ کھیت دینا ہوگا جس پر تنازع ہے،اور ساتھ میں تین لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے، اور چونکہ مقتول کے والد کی دیکھ بھال کرنے کے لئے کوئی نہیں بچا، لہذا مرزا صاحب کو اپنی بیٹی نبیلہ کا نکاح ان سے کروانا ہوگا۔ اور نکاح اتوار کی شام کو ہوگا جب سب لوگ بڑے بازار سے آچکے ہوں گے۔

پنچایت برخاست ہوگئی، لوگ کہنے لگے ،بہت خوب فیصلہ ہے اور چونکہ ان کے سارے بچے قتل کر دئے گئے اور پچھلے سال ان کی بیوی بھی انتقال کر گئی تھی اس کے حساب سے فیصلہ بالکل درست ہے۔

میں نے پلٹ کر نبیلہ کی طرف دیکھا وہ فیصلہ سنتے ہی اپنی امی کو پکڑ کر رونے لگی، اس امی پر بھی بار بار بے ہوشی طاری ہونے لگی، اس کے والد کی رسی کھول دی گئی اور پیسہ جمع کرنے کے لئے کچھ مہلت دی گئی، وہ سراپا حیرت و ندامت کا مجسمہ بنے ہوئے تھے، غصے میں لئے گئے ایک فیصلے نے کئی زندگیاں خراب کر دی، اور وہ سماج رشتہ دار اور خود اپنی بیٹی کی نظر میں ہمیشہ کے لئے ملعون ہوگئے۔

مجمع چَھٹ گیا، بھیڑ رخصت ہوگئی اور میں کبیدہ خاطر یہی سوچ رہا تھا کہ آخر یہ کیا ظلمِ عظیم ہے کہ جرم کسی نے کیا اور سزاوار کوئی اور ٹھہرا، آخر دنیا کی یہ ظالمانہ رسم کب بند ہوگی کہ مرد کے کرموں کی سزا ہمیشہ عورتوں کو جھیلنی پڑتی ہے۔

میں دکھ، غم، ناکامی، بغاوت اور شکست کے ملے جلے جذبات میں ڈوبا ہوا تھا کہ میرے فون کی گھنٹی بجی، نبیلہ کا فون تھا، میں نے ریسیو کئے بغیر Delete Permanently کا بٹن دبایا اور کھلیان کی طرف چل دیا ۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔