آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا

*
الطاف الرحمن تاج الدین السلفی
موت….!! زندگی کی سب سے تلخ اور سب سے کڑوی حقیقت، موت نے ہمیشہ صرف سوالات ہی پیدا کیے مگر اس کا جواب کچھ بھی نہیں، دنیا نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کرنے کا ہنر سیکھا ، رات کی تاریکی کو اپنے حساب سے جب چاہا روشن کرنے کا فارمولہ ایجاد کیا، زمین پر رینگتے رینگتے انسان چاند اور سورج تک اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوا، ہر روز ایسی ایسی ایجادات کہ جس کا تصور آج سے ایک صدی قبل محال تھا مگر اب کچھ بھی نامکمن نہیں رہا، اتنی ترقی اور اتنی سہولت کے باوجود جب دنیا کا سامنا موت جیسے سوال سے ہوتا ہے تو اسکے ہاتھ کھڑے ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ ایسا معمہ ہے جس کا حل دنیا کی کوئی ایجاد پیش نہیں کر سکتی، دنیا کے تمام مذاہب، تمام مشینری اسکے آگے ہیچ ہیں اسے سلجھاتے سلجھاتے انسان لقمہ اجل بن کر دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے اور سوال وہی کا وہی ہوتا ہے،
کچھ مہینوں سے بے شمار اموات کی خبروں نے ہمیں بے چین و مضطرب کر رکھا ہے، ایک موت کا زخم ابھی مندمل ہوا چاہتا ہے کہ پھر کسی عبقری اور نابغہ روزگار شخصیت کی موت ہمارے اوپر مسلط ہو جاتی ہے،پھر بھی ہم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا.
شیخ عبد المنان صاحب سلفی رحمہ اللہ کی وفات کو ہفتہ سے زیادہ کا وقت گذر چکا ہے، لیکن آج بھی دل زخموں سے ہرا بھرا ہے، دل ودماغ آج بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ شیخ ہمارے درمیان نہیں رہے، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے اس کو رب کے فرمان *(كل نفس ذائقة الموت)* کے تحت اس دار فانی سے کوچ کرنا ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی کے چلے جانے سے دنیا کا نظام ساکت نہیں ہوتا، لیکن کچھ ہر دلعزیز شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کے چلے جانے سے صرف کئی گھر نہیں بلکہ پوری امت متاثر ہوجاتی ہے، علماء کا ایک ایک کر کے رخصت ہوجانا ہمارے لیے افسوس کا باعث ہے کیونکہ اس وقت حقیقی معنوں میں یہی ہمارے قائد اور رہبر تھے، جنکی موجودگی قوم وملت اور سماج کو وزن دار بناتی تھی، جنکی زندگی ملت کی سربلندی کا ثبوت ہوا کرتی تھی، جو قوم وملت پر اٹھنے والے ہر سوال کادنداں شکن جواب دیتے تھے، جو مصائب میں ڈھال بن کر اپنوں کے آگے کھڑے ہو جاتے اور پوری قوم کو اپنے کندھوں پر سوار کرکے پوری دنیا میں ان کی نمائندگی کرتے تھے
شیخ عبد المنان صاحب سلفی رحمہ اللہ کی شخصیت انہیں میں سے ایک تھی….!!!
*رکـے تو چــاند چلـے تو ہواوں جیســــــا تھـــا*
*یہ شخص دھوپ میں دیکھو تو چھاوں جیسا تھا*
علماء کی موت سے ہماری ذمہ داریاں بڑھتی جارہی ہیں اور ہم کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں، چند مہینوں میں جس کثرت سے علماء کی وفات ہوئی ہے یہ ہمارے لیے بڑا ہی دردناک وقت ہے اور آنے والا وقت شاید ہمیں احساس دلا کر رہے کہ ہم نے کن لوگوں کو کھویا ہے،
*بلندیوں کی ڈھـلانیں اتر رہے ہیــں ہــم*
*سمٹ رہی ہیں دشائیں بکھر رہے ہیں ہم*
یوں تو گھر پہ ۲۲ اگست ۲۰۲۰ بروز سنیچر صبح ہی سے افرا تفری تھی کیونکہ شیخ رحمہ اللہ کی طبیعت یکایک زیادہ خراب ہونے کی خبر مل رہی تھی، والد صاحب (مولانا تاج الدین سراجی حفظه اللہ ومتعنا الله طول حياته المباركة) صبح ہی سے کافی پریشان تھے، ادھر ادھر فون لگا رہے تھے، عالمی وباء کورونا کے سبب ملک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کہیں آنا جانا بھی کافی مشکل تھا اور آج بھی ہے، لہذا خیر وعافیت معلوم کرنے کے لئے فون ہی ایک سہارا تھا، لیکن یکایک بعد نماز ظہر والد صاحب یہ کہتے ہوئے گھر سے نکل جاتے ہیں کہ میں جھنڈا نگر جارہا ہوں بھیا (شیخ عبد المنان صاحب سلفی رحمہ اللہ ) کی طبیعت کافی ناساز ہے، والد محترم کے شیخ رحمہ اللہ سے کافی گہرے تعلقات ومراسم تھے، وہ آپ رحمہ اللہ کو بھیا ہی کہتے تھے، شیخ رحمہ اللہ بھی والد محترم سے ایک بڑے بھائی کی طرح نہایت ہی شفقت ومحبت سے پیش آتے، ہر خوشی و غم میں برابر شریک رہتے ، والد محترم اپنے ہر مسئلہ میں آپ سے ضرور مشورہ لیتے ، میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے تب سے آپ کو جانتا ہوں،بہت قریب سے میں نے آپ کو دیکھا اورسمجھا ہے اس لیے زندگی میں جب بھی اتار چڑھاؤ کی کیفیت ہوئی یا کوئی مسئلہ درپیش ہوا تو آپ کی طرف رجوع کیا اور آپ نے ہمیشہ مفید مشوروں سے نوازا ، اور مجھ سے جب بھی ملاقات ہوتی محنت اور آگے بڑھنے کی تلقین کرتے، جھنڈا نگر پہنچنے کے بعد والد محترم آپ رحمہ اللہ کے صاحبزادے برادران سعود اختر سلفی حفظہ اللہ و حماد منان سلمہ اللہ اور کچھ لوگوں کے ساتھ شیخ رحمہ اللہ کے علاج کی غرض سے جھنڈا نگر سے نکلتے ہیں، پہلے بہادر گنج پھر چنروٹہ اسپتال میں زیرِ علاج رکھا، لیکن جب کچھ خاص افاقہ نہ ہوا تو بٹول لے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے اور گاڑی سے ڈاکٹر کی گائڈ کے مطابق ضروری لوازمات جیسے آکسیجن وضروری دواؤں کے ساتھ بٹول کے لئے نکل جاتے ہیں، والد صاحب حفظہ اللہ ان سب باتوں کی جانکاری فون کے ذریعہ ہم سب کو دیتے رہتے ہیں، انسان جتنا بھی کوشش کرلے لیکن ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے، اور یہاں بھی قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ بٹول شہر پہنچنے سے کچھ ہی پہلے وکیل الجامعہ مسندِ درس و تدریس کا علمبردار ، منبر و محراب کا یہ روشن چراغ بھی بجھ گیا، آپ کی روح پرواز کر گئی، *إنا لله وإنا إليه راجعون۔*
۲۳ اگست ۱۲ بج کر ۳۱ منٹ پر والد محترم نے بذریعہ فون یہ اندوہناک خبر دی کہ بھیا یعنی عبد المنان صاحب سلفی اب ہمارے درمیان نہیں رہے، *رحمه الله رحمة واسعة*، یہ خبر سننا تھا کہ دل کی دھڑکن نے زور پکڑ لیا، دنیا کی ہر شئی بے کیف سی لگنے لگی،
اپنے آپ پر قابو پانا محال سا ہونے لگا، بے ساختہ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے…..!!
*آنکھیں بھگو کے دل کو ہلا کر چلے گـئے*
*ایسے گئے کہ سب کو رلا کر چلے گئے*
گھر پہ خبر دی، تو سب کی آنکھیں چھلک پڑیں، سب کے سب حیرت اور افسوس میں ڈوب گئے، کس کو سمجھائیں اور کس کو سنبھالیں فیصلہ کرنا مشکل، ایسا کیوں نہ ہوتا آپ رحمہ اللہ ہم سب بھائی بہنوں کو بہت ہی عزیز رکھتے تھے، اور ہم سب انہیں بڑے ابو ہی کہا کرتے تھے، میں جب بھی چھٹیوں میں گھر آتا اور اگر کچھ دنوں تک گھریلو مصروفیات کی وجہ سے آپ سے ملاقات کرنے میں تاخیر ہوتی تو خود فون کرکے ملاقات کے لئے بلاتے یا والد محترم سے کہلوا بھیجتے۔
بہر کیف دعاء استغفار کرتے کرتے صبح ہوئی بذریعہ موٹرسائیکل گھر سے جھنڈا نگر کے لئے نکلا جوں جوں مسافت گھٹتی تکلیف کی شدت بڑھتی جاتی، آنکھیں مسلسل نیل کے مانند بہتی رہیں، ایسا لگتا کہ کلیجہ منہ کو آجائے گا، راستے بھر عجیب وغریب کیفیت رہی، بہرحال اللہ اللہ اور دعاء مغفرت کرتے راستہ طے کیا، پہنچنے کے بعد آپ کے چہرے کو دیکھا وہی بلا کا نور ، دل کہہ رہا تھا کہ اے کاش کوئی کہہ دے کہ شیخ سوئے ہوئے ہیں ابھی اٹھیں گے، لیکن حقیقت کچھ اور تھی، وہ تو ہمیشہ ہمیش کے لئے سو گئے تھے۔ *رحمة الله رحمة واسعة سقي الله ثراه وجعل الجنة مثواه.*
مولانا کی ذات عبقری شخصیتوں میں سے ایک تھی آپ نے کبھی بھی اپنی شخصیت کو منوانے کی کوشش نہیں کی، اپنے آپ کو سامنے والوں کیطرف پیش کرنے کے لیے جس چرب زبانی کا بہت سے لوگ استعمال کرتے ہیں وہ آپ کے اندر بالکل بھی نہیں تھا بلکہ نہایت ہی سنجیدگی اور متانت کے ساتھ اپنی بات رکھتے اور اپنی بات ختم کرنے کے بعد جنگ جیتنے جیسا رویہ کھبی بھی آپ کا نہ تھا، سامعین خود آپ کے محاسن ومحامد کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جایا کرتے تھے، آپ کی باتیں مستند اور دلائل کی روشنی میں ہوا کرتی تھیں۔
عام لوگوں کے درمیان اپنا لوہا منوانا بہت ہی آسان کام ہے، مگر علمی حلقوں میں اپنی شخصیت کو نمایاں رکھنا بہت بڑی بات ہے اور یہ امتیاز مولانا رحمہ اللہ کو حاصل تھا، صاحبِ علم وفن بخوبی جانتے ہیں کی آپ کی شخیصت کتنی اہم، کتنی کار آمد اور معتبر تھی، آپ کو سننے والا آپ کی شخصیت کا اعتراف کیے بنا نہیں رہ سکتا تھا
آپ ملک وبیرون ملک میں کافی معروف تھے، آپ کو اللہ رب العالمین نے بہت سی خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا، آپ ایک فعال ومتحرک شخص تھے، بیک وقت آپ کئی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کا حوصلہ رکھتے تھے ،یہی وجہ ہے کہ آپ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر نیپال کے وکیل الجامعہ، دعاۃ لجنہ کے مشرف، ماہنامہ السراج کے ایڈیٹر، صوبائی جمعیت اہل حدیث یوپی کے نائب ناظم، اور ضلعی جمیعت اہل حدیث سدھارتھ نگر کے ناظم، بہترین استاد ومربی، منجھے ہوئے قلم کار، مصنف ومؤلف، ادیب و انشاء پرداز، بیان وخطابت کے عظیم شہشوار، دور اندیش، اخلاص واعلی اخلاق کے پیکر، اور شخصیت ساز تھے، ان تمام ذمہ داریوں کے علاوہ ملک وبیرون ملک کے کسی بھی خطے سے آپ کو دعوت دی جاتی تو آپ تمام مفاد سے بے نیاز دعوت الی اللہ کے لیے ہر آواز پر لبیک کہنے کو تیار رہتے، اپنی ہر ذمہ داری آپ نے بڑی ہی خوبی اور خوش اسلوبی کے ساتھ ہمیشہ ادا کیا، آپ کا خطاب قرآن و حدیث سے مزین ہوا کرتا تھا، لوگ دور دور سے آپ کے بیانات وخطابات کو سننے کے لئے آتے ، آپ نے کئی عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی، اپنے خطابات ومقالات کو پیش کیا جن سے امت مسلمہ آج بھی فائدہ اٹھا رہی ہے، آپ منکسر المزاج تھے یہی وجہ تھی کہ ہر دلعزیز تھے، اتنے ملنسار کہ جو بھی آپ سے ملتا اس کو یہی لگتا کہ شیخ اس سے ہی سب سے زیادہ قریب ہیں، اور اس قدر مہمان نواز کہ میں بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں اب تک آپ سے بڑا مہمان نواز نہیں پایا۔ گویا آپ کا وجود علم دوستی، قدر شناسی اور خرد نوازی کا بین ثبوت تھا۔
دعا ہے کہ اللہ رب العالمین امت مسلمہ اور جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر کو آپ کا نعم البدل عطاء کرے، آپ کے حسنات کو قبول کرے،آپ کے بشری لغزشوں کو درگزر فرمائے، اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے۔ *إن القلب ليحزن وإن العين لتدمع ولا نقول إلا ما يرضي ربنا وإنا على فراقك يا شيخنا لمحزونون اللهم ارض عنه واغفر له وارحمه واجعل قبره روضة من رياض الجنة واجعله في الفردوس الأعلى من الجنة. آمين*

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔