فرق، تنگ دستی و تونگری

   .             نقاش نائطی
           +966504960485
انکے انتقال کو آج 40 دن پورے ہوگئے اس کا اسے احساس ہی نہ ہوا۔ ویسے بھی اسی کے دیے سے، خلیج کے باد بہاراں پیٹرو ڈالر آمد کے بعد سے ہی، ایشین ممالک کے، ان مسلم اکثریتی دیہات، گاؤں،بستیوں، شہروں میں، وہ پہلے والی خرافات، مرنے والے کے گھر تیسرا، تیرھواں اور چالیسواں دن منانے کا رواج،مدھم سا پڑنے لگا ہے، لیکن ڈھیر سارے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں،نواسے نواسیوں  والی ہونے کے باوجود،چالیس  لمبے سال، ساتھ جینے والے اپنے رخ ثانی سے جدائی کا غم،اپنی جگہ ہوتا ہی ہے اور اوپر سے اسلامی شعار  بیوہ کے لئے تنہائی و ایکسوئی والے عدت کے ایام، ویسےبھی کاٹنے مشکل تر ہوا کرتے ہیں۔ لیکن اسکے شوہر نامدار  کے، صاحب حیثیت کہ مال و ثرورت سے  تونگر ہونے کی وجہ سے، انکی ایسی ایسی خوبیوں کا تذکرہ کرتے آئے تعزیتی پیغامات و واٹس آپ رسائل نے،ان کے ساتھ چالیس لمبے سال بتانے کے باوجود، اسے ان خوبیوں کا ادراک نہ ہو پایا تھا اور تو اور بعد انکی موت، گھر میں رشتہ داروں کا جو ہجوم جمع ہونا شروع ہوا تھا، آج چالیس واں دن ہونے کی خبر، کسی بچے کے شور نے،اسے اچانک احساس دلادیا تھا کہ پتہ ہی نہ چلا  ان کے فراغ پر چالیس لمبے دن کیسے  بیت گئے؟ ان کی محبت چاہت اور ہمہ وقت ساتھ رہنے کی وجہ سے، اس  سانحہ  انتقال والے دن، اس نے سوچا تھا کہ ان کے بغیر، یہ قید تنہائی والے دن کیسے بیتیں گے؟ شروع ایام رشتہ داروں کے گھر جمع ہونے سے ذکر و اذکار، قرآن خوانی سے جو ایک الگ سا روحانی سماں سا بندھا تھا، دھیرے دھیرے، بآواز بلند قرآن تلاوت ، و الا اللہ کی مجالیس نے، بیکار بحث و تمحیص غیبت و بہتان تراشی والی محافل میں کیسے اور کب تبدیل اختیار کرلیں اس کا اسے احساس ہی نہ رہا
 مرنے والے کے گھر، کم از کم ایک سے تین دن چولھا نہیں جلایا جاتا، رشتہ دار واعزہ ہی، پکا پکایا کھانا بھیج کر، کم از کم کچھ وقتی انہیں خانگی امور سے ماورا ، اپنے مالک حقیقی سے لو لگائے، مرنے والے کے لئے قبر و محشر کی سرخ روہی کے لئے دعا مانگنے کی فرصت دیا کرتے ہیں۔ لیکن صاحب ثروت ہونے کا یہ فائدہ کہ آج ان کے وصال پر چالیس دن بیت گئے، انکے گھر سوائے چائے پانی کے، گھر میں جمع اتنی ساری بھیڑ کے لئے، پکوان کی فکر و احساس تک انہیں نہ رہا، یہ اسلئے کہ مرحوم کے اور اپنے رشتہ دار بارہا منع کرنے کے باوجود مختلف  انواع اقسام کے ناشتہ کھانے پکوا، روزانہ انکے گھر بھیج دیا کرتے تھے۔ یا ساتھ لئے، انکے گھر آیا کرتے تھے۔نت نئے سنگھار کے ساتھ، بیش بہا قیمتی ملبوسات زیب تن کئے، تعزیت ہی کے بہانے آنے والی انکی اپنی رشتہ دار بہنیں بھاوجیں، اپنےساتھ ون ڈش پارٹی کی یاددلاتی، کچھ نہ کچھ نت نئے اقسام کی مرغن غذائیں  پکوا ،ساتھ لایا کرتیں تھیں۔ گویا مرنے والے کے گھر یاد الہی کے لئے جمع ہونا مقصود نہ ہو، اس چھ ماہی کورونا قہر کہرام دوران،  مقفل  ہوٹلوں کی وجہ سے، اپنی اپنی آل اولاد کے لئے،ایک وقت ناشتہ دو وقت کھانے پکاتے، اپنے اپنے گھر آنگن قید تنہائی یا  کہ  قید بامشقت والی زندگی بتانے کے بعد، اپنی کوفت مٹانے کا انہیں یہ انتہائی سنہرا موقع جو ہاتھ آیا ہو،چھ ماہ گھروں میں قید، وقت گزاری سے آزادی کا بھرپور مزہ لینے کی کوشش شاید کی جارہی ہو۔ انہیں کیا پتہ چالیس  دن قبل تعزیتی ملاقات و ذکر واذکار تلاوت قرآنی کی محافل سجاتی شروع کی ہوئی یہ محفلیں، آج اپنے قیمتی ڈریسز و انمول زیورات کی نمائش کرتی، فیشن شو یا نساء کی ون ڈش کٹی پارٹی میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ شروع کے ایام ذکر واذکار تلاوت آیات قرآنی سے جتنا کچھ ثواب حاصل بھی ہوا تھا، بعد کے دنوں والی ون ڈش کٹی پارٹی میں چاہی کہ ان چاہی غیبت و بہتان تراشی والی محافل سے، پتہ نہیں کتنے گناہ کا بوجھ ان شرکاء محفل نے، اپنے نامہ اعمال میں جمع کرلئے ہیں
گذشتہ چالیس دنوں سے اس ماتم کدہ میں، ہر روز ایک نئے انداز سے سجتی محافل، انواع اقسام کے جمع ہونے والے کھانے اور کسی دن لائے گئے کھانے کم پڑنے کی صورت، صاحب ثروت ہونے کی بنا پر،ہوٹلوں سے منگوائے جانے والی کوئی چٹ پٹی ڈش، سر شام رخصتی سے پہلے والی محفل طعام کی رونقیں جہاں دوبالا کرتی تھیں، وہیں پر واٹس آپ میڈیا پر، کسی مفلس کے گھر ،ان کے کسی اپنے بڑے بوڑھے بیمار شخص کے مرنے کے بعد،کئی دن کے بھوکے گھر والوں کےلئے،  پاس پڑوس سے آئے مرغن کھانے،تین دن تک کھانے کے بعد، گھر کی چھوٹی بچی کا اپنے توتلے انداز اپنی امی سے پوچھا یہ سوال کہ،”پیٹ بھر اچھا کھانے کے لئے، اب گھر میں کون مریگا امی جان؟” انسانیت کو شرمسار کرنے کے لئے کافی ہونا چاہئیے۔ ایک طرف فقراء و مساکین کا یہ حال کہ ان کے کسی لاڈلے کی موت پر بھی،جنازے کے ساتھ قبرستان تک چلنے، پاس پڑوس کے ہمسایہ بھی بہانے بنا، ادھر ادھر ہوجاتے ہیں، لیکن امراء کے گھر، کسی کے مرنے کے چالیس روز تک، تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا ہی رہتا ہے
پاکستانی شاعر یونس اعجاز  نے اس موضوع پر اپنے جذبات کی بہت خوبصورت انداز ترجمانی کی ہے
بادل ہیں گھر گھر کے دریا ہی پہ برسے
صحراء ہیں کہ بوند بوند پانی کو ترسے
وما علینا الا البلاغ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔