حکومت اپنے تکبرانہ رویہ میں تبدیلی لائے:مایاوتی

لکھنؤ:05ستمبر بہوج سماج پارٹی(بی ایس پی)سپریمو مایاوتی نے اترپردیش حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی حکومت اپنا تکبرانہ اور تاناشاہی رویہ تبدیلی کرے اور متاثرہ کنبے کو جلد از جلد انصاف دلانے میں اپنا موثر کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہاتھرس عصمت دری معاملے کے بعد بی ایس پی وفد سب سے پہلے ستمبر کو متاثرہ کنبے سے ملاقات کے ساتھ ہی حقائق کی جانکاری کے لئے بول گڑھ گاؤں گیا تھا۔کنبے کے لوگوں کو اس دوران تھانہ میں بلا کر ہی ان سے بات چیت کرائی گئی تھی۔
محترمہ مایاوتی نے پیر کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا’ہاتھرس عصمت دری معاملے کے بعد سب سے پہلے متاثرہ کنبے سے ملنے و صحیح حقائا کی جانکاری کے لئے وہاں 28ستمبر کو بی ایس پی کا وفد گیا تھا۔ جن کی تھانے میں ہی بلا کر ان کی بات کرائی گی تھی۔بات چیت کے بعد ملی روپرٹ کافی تکلیف دہ تھی۔جس نے مجھے میڈیا میں جانے کے لئے مجبور کردیا۔
انہوں نے کہا کہ’اس کے بعد وہاں میڈیا کے جانے پر بھی ان کے ساتھ ہوئی بدسلوکی اور کل و پرسوں اپوزیشن لیڈروں و لوگوں کے ساتھ پولیس نے جو لاٹھی چارج کیا وغیرہ وہ کافی تکلیف دہ اور قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ حکومت کو اپنے اس تکبرانہ اور تاناشاہی والے رویہ کو تبدیل کرنا چاہئے۔ورنہ اس سے جمہوریت کی جڑیں کمزور ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔