دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگرکھُلا

محمدشارب ضیاءرحمانی
بہارسرکارنے الیکشن کی تاریخوں کے اعلان سے عین قبل اردومترجم،معاون مترجم اورراج بھاشامعاون کے عہدوں کے امتحانات کی مجوزہ تاریخوں کاپھرنوٹیفکیشن جاری کیاہے۔ 13،20اور27دسمبرکا’امکان‘ بتایاگیاہے۔یعنی جب تک الیکشن کی ساری کارروائیاں پوری ہوچکی ہوں گی اورنئی سرکاربن چکی ہوگی۔یہ ’مجوزہ‘تاریخیں تیسری بارآئی ہیں۔اپریل کی تاریخیں لاک ڈاﺅن کی نذرہوگئیں،اگست میں امتحانات کااعلان ہوا،ساری تاریخیں نکل گئیں۔بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن نے یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی کہ ’مجوزہ‘ تاریخ حتمی تاریخ میں کب بدلے گی؟اورنہ ملتوی ہونے کااعلان آیا،جب مختلف حلقوں سے سوال اٹھنے لگے توایک ماہ بعد زبان بندکرنے اورالیکشنی جھانسہ دینے کے لیے جب کہ دوچاردنوں میں انتخابی بگل بجنے والاہے،حتمی کی بجائے ’مجوزہ ‘تاریخوں کااعلان کردیاگیااورپھروہی پراناراگ الاپاگیاکہ ویب سائٹ چیک کرتے رہیں۔جب کورونادورمیں الیکشن ہوسکتاہے،NEET,JEEاورNETسمیت سارے امتحانات ہوسکتے ہیں تویہ امتحان اس لیے نہیں ہوگاکیوں کہ یہ اردوکامسئلہ ہے؟پریشانی صرف اسی لیے ہے؟توٹھیک ہے ،پھردسمبرکے بعدکسی اورالیکشن میں ووٹ لے لیجیے گا۔اگرپہلے ووٹ چاہیے توپہلے امتحانات اوربحالی ہونی چاہیے۔جس وقت ان اسامیوں کااعلان ہواتھاتوجدیوکے ’مسلم‘ چہرے چیخ چیخ کرنتیش کمارکے’ اردوپریمی‘ اور’سیکولر‘ہونے کاسرٹیفیکٹ بانٹتے ہوئے(اورآج بھی اردوکی لازمیت ختم کرکے اردوشمنی کاثبوت پیش کرنے کے باوجودمحب اردوبتارہے ہیںاورسی اے اے پاس کرانے والے کوسیکولرقراردینے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے) باورکرارہے تھے کہ گویاالیکشن سے قبل جوائننگ لیٹرہاتھ میں مل جائیں گے۔اب ان کی بولتی بندہے ۔سوال کاجواب نہیں ہے ۔سال بھرتک جھانسہ دیاجاتارہا۔حکومت کی نیت صاف ہوتی توابھی بھی اکتوبر،نومبرمیں امتحانات ہوسکتے تھے۔جیسے بہارمیں بھی اس وقت نیٹ کاامتحان ہوگا۔بات یہ ہے کہ کرناکچھ نہیں ہے،جملوں کابازارگرم ہے،مسلم قوم کوجھانسہ دیتے رہو،اشتہاری نوکراپنی ذمے داریاں اداکرہی رہے ہیں۔نیت میں کھوٹ ہے،مزاج اردودشمنی کاہے جس کاجیتاجاگتاثبوت اردوکی لازمیت ختم کرناہے جہاں اردودوسری سرکارزبان ہے ۔وزیرتعلیم سے محبان اردو مل رہے ہیں۔حیرت ہے کہ لیکن کانوں پرجوں تک نہیں رینگ رہی ہے،نیانوٹیفیکیشن لاکردھوکہ دیاجارہاہے،بات گھماکروہی کہی جارہی ہے۔کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ تک بات پہونچے گی تو’محب اردو‘نتیش کمارضرورایکشن لیں گے۔ کیایہ ماننے والی بات ہے کہ وزیراعلیٰ کے علم کے بغیروزارت تعلیم نے اتناخطرناک نوٹیفکیشن نکال دیا؟جب مسلسل آوازیں اٹھ رہی ہیں توکیاوزیراعلیٰ کے کانوں تک بات نہیں پہونچی ہے؟یہاں تک کہ ان سے ملاقات کرکے ان مسائل پربات کرنے کی درخواست دی گئی توبہارکے مسلم ووٹوں پرحق جمانے والے کے پاس درخواست دیکھنے کی بھی فرصت نہیں ہے؟ کبھی کبھی اس طرح کاایشوکھڑاکیاجاتاہے تاکہ دوسرے مسائل کے حل کی بجائے الیکشن سے قبل اس ایشوپریوٹرن لے کرہمدردی بٹوری جاسکے،مسلمان نئے مسائل میں الجھے رہےں ،پھرپرانے کی طرف دیکھنے کاموقعہ نہیں ملے گا۔پھربھی جدیوسرکارکے لیے بہتریہی ہوگاکہ وہ فوری طورپرلازمیت ختم کرنے والانوٹیفکیشن واپس لے کروضاحت جاری کرے۔
بہارکے مسلمانوں میں نتیش کمارکے اردومخالف اقدام کی وجہ سے سخت غصہ ہے۔ویسے بھی سی اے اے پرووٹنگ نے ان کے سیکولرزم کی قلعی کھول دی ہے۔ایوان میں بل پاس کرانے کے بعدجب ہواکارخ دیکھاتواسی طرح این آرسی اوراین پی آرپراسمبلی میں تجویزمنظورکراکرغصہ ٹھنڈاکرنے کی کوشش کی جیسے کسان ترمیمی بل پرسرکارکاساتھ دینے کے بعدزمینی کھسکتی دیکھ کراب یوٹرن لے رہے ہیں۔تجویزمنظوراسی لیے کرائی گئی تاکہ کرائے کے ترجمان ،خانقاہ،خانقاہ اورمدرسہ مدرسہ، محلہ محلہ گھوم کربتاتے پھریں کہ نتیش کمارواحداین ڈے اے وزیراعلیٰ ہیں جنھوں نے اسمبلی میں تجویزمنظورکرائی۔یادرہے کہ وہ تجویزسراسردھوکہ ہے۔جدیوکے ’مسلم نمائندے‘کبھی اس سوال کاجواب نہیں دے سکتے کہ اگرمرکزنے این آرسی لاگوکی توکیابہارحکومت یاکوئی بھی ریاست مرکزکے فیصلے کونافذنہ کرنے کااختیاررکھتی ہے؟لازماََجب این آرسی ہوگی توبہارحکومت کوبھی لاگوکرناہوگا۔جوپارٹی ایوان میں شہریت ترمیمی بل پرووٹنگ اورطلاق بل پرپارلیمنٹ سے بھاگنے پرمجبورہونے کاجوازاس لیے بیان کرتی ہے کہ این ڈی اے میں رہ کرہم مخالفت نہیں کرسکتے تھے،(شرومنی اکالی دل کی ہرسمرت کورسے سیکھناچاہیے کہ سیاسی مفادکے لیے ہی سہی، وزارت چھوڑدی اورجدیواین ڈی اے میں رہنے کی مجبوری بتارہی ہے)اس پارٹی سے کیسے امیدکی جاسکتی ہے کہ مرکزکی مجوزہ این آرسی کولاگونہیں کرے گی؟سیدھی سی بات ہے کہ جھاں جدیوکواختیارتھاکہ ووٹ نہ دے کرایوان میں بل پاس نہ ہونے دے،تووہاں اس نے اپنے اختیارکااستعمال نہیں کیا،تواین آرسی لاگوکرنے سے منع کرنے کاجب اختیارنہیں ہے تو غیراختیاری چیزپرتجویزمنظورکررہے ہیں؟یہ دھوکہ نہیں ہے؟اسی طرح این پی آر2010والاہویا2020والا،دونوں شہریت ایکٹ 2003سے جڑے ہوئے ہیں،جس کے ساتھ این آرسی ہے۔باقی’کورونالوجی‘ توسمجھاہی دی گئی ہے ۔ آنکھ میں دھول جھونکی جارہی ہے کہ نتیش کمارکاسیکولرزم دیکھوکہ پرانے این پی آرکی وکالت کی ۔اگربہارسرکارمخلص ہوتی تواسے شہریت ترمیمی ایکٹ2003سے نہ کرانے کے لیے مرکزپرزوردیتی،یااس ایکٹ میں ترمیم کراتی،یاپھر2019کے شہریت ایکٹ (سی اے اے) میں متنازعہ چیزیں نکالنے کے لیے دباﺅبناتی َاوراس کی تجویزاسمبلی سے منظورکراتی لیکن کیاآپ نے اس پرایک بیان بھی سناہے؟پارٹی کے ’مسلم وفاداروں‘ کے جھانسے اوربہکانے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے،وہ طرح طرح سمجھائیں گے لیکن ووٹ دیتے وقت اپنے ضمیرکی آوازسننے کی ضرورت ہے اورسینے پرہاتھ رکھ کرخودسے پوچھناہوگاکہ جب آپ کاووٹ لے کرنتیش کمار2017میں بی جے پی کی گودمیں بیٹھ گئے توآپ نے خودکوکیساٹھگاہوامحسوس کیاتھا؟اس وقت ذرااس کااحساس کرلیجےے گااورجس وقت ان کی پارٹی، ایوان میں چیخ چیخ کرسی اے بی پرووٹ کرنے جارہی تھی توآپ ہزیمت کے شکارہوئے تھے؟پارٹی کے وفاداروں سے بھی سوشل میڈیاپراورجب وہ آپ کے علاقے میں آئیں تویہ سوالات پوچھیے۔
اخیرمیں ایک دل چسپ سوال کروں؟تیجسوی یادوکی جس مبینہ بدعنوانی کابہانہ بناکربی جے پی کے ساتھ گئے تھے،تین برس ہوگئے،ا س بدعنوانی پرکیاکارروائی ہوئی ؟اب تک توانھیں جیل بھیج دیناچاہیے تھاپھربہارمیں کوئی اپوزیشن ہی نہیں رہتا۔چلتے چلتے ایک بات اوریادآگئی۔بہارکے خصوصی ریاست کے درجے کاکیاہوا؟ بی جے پی کے ساتھ جاکروہ کیوں بھول جاتے ہیں،اوہو،یادآیا،اپنی مادرعلمی کوسنٹرل یونیورسیٹی کادرجہ نہیں دلاسکے،(سب کویادہوگاکہ کیسامذاق بناتھا)بہارکے اسپیشل اسٹیٹس کی بات ہی چھوڑدیجیے۔اچھا،سیلاب پرکتناخصوصی پیکیج ملا؟مرکزکی ٹیم نے معائنہ بھی کیایانہیں؟جی ایس ٹی بقائے کی کتنی ادائیگی ہوئی ؟کوروناپرناکامی چھوڑہی دیجیے ۔جیسے جیسے الیکشن قریب آرہے ہیں،بہارمیں کوروناکے کیسزکم ہورہے ہیں۔رزلٹ آنے دیجیے ،پھراُچھال دیکھیے گا(جس طرح پٹرول ڈیزل کے دام گھٹ رہے ہیں،نتائج کے اعلان کے ساتھ بڑھتی شرحوں کاتماشادیکھنے لائق ہوگا)ویسے ان کی’ دوست پارٹی‘ کے بنگال سربراہ نے بتادیاہے کہ کوروناختم ہوگیاہے ۔دراصل پیدل چل کرآنے والے مزدروں کی ناراضگی،(مزدروں،طلبہ کی گھرواپسی کی سب سے زیادہ مخالفت نتیش سرکارنے کی تھی)پھران کوچھے مہینے سے صرف لالی پاپ(اب وہ جملوں سے عاجزہوکرپھربڑے شہروں کی طرف واپس ہورہے ہیں)اوراب کسانوں کے احتجاج کے بعد(دل چسپ ہے کہ اس بل کی افادیت ،مرکزکی وزیرہرسمرت کورکوسمجھ میں نہیں آسکی)جدیوکی پریشانی بڑھی ہوئی ہے۔بہلانے کے اورمسلم ووٹوں پرڈورے ڈالنے کے ہرحربے اپنائے جارہے ہیں، کیوں کہ ان کومعلوم ہے کہ اگرسوفی صدمسلم ووٹ چھٹک گیاتوان کی حیثیت نہیں ہے کہ(بی جے پی کے ووٹ بینک کے علاوہ)دس سیٹیں بھی جیت سکیں کیوں کہ ان کی اب کوئی سیاسی زمین نہیں ہے۔’وکاس پرش‘کی شبیہ،سیمانچل اورمتھلانچل کے سیلاب میں بہہ چکی ہے،وہاں کی سڑکیں، کھیت کانظارہ پیش کررہی ہے،’اسمارٹ سیٹی‘ پٹنہ کی بارش میں’وکاس‘پڑوسیوں کوچھوڑکرسڑک پربھاگتانظرآیاہے اورآئے دن غنڈہ گردی،ریاست بھرمیں فرقہ پرستی،ماب لنچنگ اورنظم ونسق کی بدحالی نے ’سوشاشن بابو‘کی ہوانکال دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔