نظم

شہاب الدین کے جیسا نہ تھا کوئی زمانے میں
کریں گے فخر ہم اس بات کو سب سے بتانے میں

وہ مظلوموں کے رہبر تھے غریبوں کے مسیحا تھے
وہ ہم سب کے دلوں کا خوبصورت سا حدیقہ تھے

وہ پردہ کر گئے ہم سے وبا کے اس بہانے میں
شہاب الدین کے جیسا نہ تھا کوئی زمانے میں

بہادر تھے شجاعت کے دھنی شیرِ جلی تھے وہ
کسی بھی خوف کا دھڑکا نہ تھا ایسے جری تھے وہ

مری آنکھوں سے آنسو گر رہے ہیں یہ بتانے میں
شہاب الدین کے جیسا نہ تھا کوئی زمانے میں

انہیں بے موت مارا ہے یہ شازش ہے حکومت کی
خلافِ ظلم لڑنا ہی سبب ہے موت کے ان کی

قفس بھی چیختا پھرتا ہے سب کو یہ بتانے میں
شہاب الدین کے جیسا نہ تھا کوئی زمانے میں

وہ دنیا سے ہوئے رخصت یتیمی آگئی ہم پر
زمیں میں چھپ گئی حجت یتیمی آگئی ہم پر

لگے ہیں ہم بھی اے ارؔشد لحد انکی سجانے میں
شہاب الدین کے جیسا نہ تھا کوئی زمانے میں

ارؔشد دیوان برہمپوری
9264161866