اردو کے نامور ادبا کے سانحہ ارتحال پر غالب انسٹی ٹیوٹ کا اظہار تعزیت

نئی دہلی،22اپریلکووڈ 19 کے بڑھتے اثر کے سبب جہاں پورے ملک پر خوف کا سایہ منڈلا رہا ہے وہیں اردو کے کئی نامور ادبا بھی اس دوران ہم سے جدا ہو گئے جن میں مشرف عالم ذوقی، ان کی اہلیہ تبسم فاطمہ، شوکت حیات، مولا بخش اور شاہد علی خاں کے نام سر فہرست ہیں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سیکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اس دوران رخصت ہونے والی ان تمام شخصیات کے لیے شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔
پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا کہ یہ وبا ہم سے نہ جانے کس قسم کا امتحان چاہتی ہے۔ ملک کی کئی اہم شخصیات اس دوران ہم سے جدا ہوگئیں۔ اس کے علاوہ عام افراد بھی سخت آزمائش کا سامنا کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک کی صورتحال دن بدن تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ مشرف عالم ذوقی، تبسم فاطمہ، شوکت حیات، مولا بخش، اور شاہد علی خاں ایسے افراد تھے جن سے ہم اردو والوں کو بڑی تقویت حاصل تھی۔ خصوصاََ مولابخش سے تو مستقبل میں بڑی امیدیں تھیں۔ خدا ان سب کی اور اس دوران مرحوم ہوئے تمام افراد کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید رضا حیدر نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام ادبا کا ایسے وقت میں رخصت ہو جانا جب روز کسی نہ کسی کی خبر موت ہمیں ہراساں کئے ہوئے ہے ہمارے غم کو دوبالا کر دیتا ہے۔ ان سب میں بخش نسبتا کم عمر تھے اب ان سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ زیادہ دلجمعی سے علمی خدمت انجام دیں گے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میں اپنی جانب سے اور ادارے کے تمام افراد کی جانب سے مرحومین کے پسماندگان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اس وبا کا جلد از جلد خاتمہ ہو۔

(یو این آئی)