یادوں کے چراغ : مولانا سید شاہ حسن مانی ندوی رح

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھارکھنڈ
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی مجلس شوریٰ کے رکن، خانقاہ پیر دمڑیا خلیفہ باغ بھاگل پور کے چودہویں سجادہ نشیں، بافیض نامور عالم دین، تصوف و سلوک کے مرد میداں، قومی یک جہتی کے علمبردار، غریبوں اور مفلسوں کے درد مند، اکابر امارت شرعیہ، علماء و فضلاء کے قدر داں مولانا سید شاہ حسن مانی ندوی  بن سید علی احمد شاہ شرف عالم ندوی (م٣/جون ٢٠٠٥ء)بن سید شاہ فخر عالم (م١٩٧٦ء) بن شاہ فتح عالم عرف منظور حسن(م ١٩٢٩ء) بن اسعد اللہ (م ١٩٠٢ء) بن عنایت حسین (م ١٨٨٢ء) کا انتقال سنیچر دن گزار کراتوار کی شب ١٨/ اپریل ٢٠٢١ء مطابق ٥/رمضان المبارک ١٤٤٢ھ کو بھاگل پور میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوگیا، وہ ادھر چند روز سے بیمار چل رہے تھے، ان کی عمر اٹھترسال تھی، پس ماندگان میں اہلیہ دو صاحب زادے اور چار صاحب زادیوں کو چھوڑا ،  نماز جنازہ بعد نماز عشاء خلیفہ باغ شاہ مارکیٹ میں ادا کی گئی، ان کے صاحب زادہ سید شاہ فخر عالم حسن ثانی نے جو خانقاہ پیر دمڑیا کے پندرہویں سجادہ نشیں بھی ہیں جنازہ کی نماز پڑھائی اور تدفین شاہی مسجد کے قریب آبائی قبرستان میں ہوئی، کورونا کی گائیڈ لائن کے باوجود بڑی تعداد میں مسلمانوں نے ان کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کی۔
مولانا سید شاہ حسن مانی نے ابتدائی تعلیم اپنے خانقاہی مکتب و مدرسہ بھاگل پور میں پائی پھر وہاں سے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ تشریف لے گئے اور علوم متداولہ کی تکمیل  وہیں سے کی، دوران درس حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رح کی تحریک پیام انسانیت سے متأثر ہوئے اور پوری زندگی اسی نہج پر کام کرتے رہے، وہ ہندو مسلم یک جہتی کے بڑے داعی تھے اور ہندوستان میں فرقہ وارانہ تشدد اور مذہبی منافرت کو دور کرنے کے لئے اس ہم آہنگی کوشاہ کلید سمجھتے تھے، مولانا سید سلمان الحسینی ندوی سے دور طالب علمی سے قربت تھی؛ چنانچہ جب مولانا نے جمعیت شباب اسلام کو متحرک کیا تو وہ اس کے دست و بازو بن گئےاورمولانا سید سلمان الحسینی ندوی کے ساتھ ملک کے بہت سارے علاقوں کا دورہ کیا، بعد میں اس قربت نے رشتے کی شکل اختیار کر لی اور وہ مولانا سلمان الحسینی ندوی کے سمدھی بن گئے، ان کے بڑے صاحب زادہ مولانا حسن ثانی ندوی سے مولانا سلمان صاحب کی بڑی لڑکی کا رشتہ ہوگیا، اس طرح دونوں خاندانوں میں اور مضبوطی پیدا ہوگئی، مولانا سید سلمان الحسینی ندوی کی تفسیر آخری وحی طبع ہوئی اور متعدد جگہوں پر اہل علم نے اعترضات کئے تو مولانا سید شاہ حسن مانی ندوی رح ان کے دفاع میں پیش پیش تھے، بعد کے دنوں میں مولانا سلمان صاحب کے جن خیالات پر بات بہت بڑھ گئی اس میں ان کا موقف سکوت کا رہا، ابھی حال ہی میں مولانا حسن مانی صاحب رح نے صوفیا کانفرنس بلائی تھی اور پندرہویں سجادہ نشیں کی حیثیت سے اپنے بڑے صاحب زادہ کی دستاربندی کرکے تمام سلاسل میں اجازت عطا فرمائی تھی، اس موقع سے دیگر سجادہ نشینوں کے ساتھ مولانا سید سلمان الحسینی ندوی بھی تشریف فرما تھے اور انہوں نے اپنے سلسلے کی بھی اجازت اپنے دامادکو بخش دی تھی، یہ تقریب بہت ہی باوقار اور بافیض تھی۔
مولانا سید شاہ حسن مانی رح بہت ہی منکسر المزاج، خوب رو اور لباس کے معاملہ میں بہت نستعلیق واقع ہوئے تھے، وہ تصوف کی لائن کے شاہ تھے، علم و عمل، زہد و ورع، خود شناشی اور خدا شناشی میں اپنے معاصرین میں ممتاز تھے، ذکر الٰہی کا جمال ان کے چہرے سے ظاہر ہوتا تھا اور ان کا باطن عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے منور تھا، وہ اسلاف کی روایات کے امین اور پاسدارتھے، ٢٠٠٥ء میں اپنے والد کے انتقال کے بعد  خانقاہ پیر دمڑیا کے سجادہ نشیں اور عنایت حسین وقف اسٹیٹ کے متولی بنے تھے، اس وقت سے پوری زندگی وقف اسٹیٹ کو بارآور کرکے غرباء کی مدد کرنے میں لگائی، بہت ساری مساجد تعمیر کرائیں اور مسلمانوں کی ایمان و یقین کے ساتھ زندگی گزارنے کی تربیت کی، کہنا چاہیے کہ انھوں نے اچھی زندگی گذاری اور خوش گوار موت پائی۔
حضرت مولانا سید شاہ حسن مانی رح سے میری ملاقات کوئی سینتیس(٣٧) سال پرانی تھی، میں نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد تذکرہ مسلم مشاہیر ویشالی پر کام شروع کیا تھا، حاجی پور میں بھی خانقاہ پیر دمڑیا کی ایک شاخ موجود ہے، سید شاہ احمد پیر دمڑیا (م ٩٧٢ء) کے مزار و مدرسہ کے کھنڈرات آج بھی وہاں موجود ہیں، خواہش اس سلسلے کےدیگر اکابر کے جاننے کی ہوئی چنانچہ میں نے اس سلسلے کے بزرگوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے حسن پورہ عشری ضلع سیوان کا سفر کیا ڈاکٹر غلام مجتبیٰ انصاری نے اس سلسلے کے ایک بزرگ سید قاسم حاجی پوری(م ١٠١٣ھ)کے فارسی کلام کی تدوین کا کام کیا تھا، ان کے ماخذ سے میری رسائی خلیفہ باغ بھاگل پور کے کتب خانے تک ہوئی؛ چنانچہ میں وہاں جا پہونچا، اس زمانہ میں ان کے والد مولانا سید شاہ شرف عالم ندوی خانقاہ کے سجادہ نشیں تھے، مولانا حسن مانی رح کی حیثیت ولی عہد کی تھی، گو اس کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا تھا، خانقاہ کی لائبریری کے ذمہ دار مولانا مانی کے چچا جناب سید شاہ منظر حسین تھے، مطالعہ بڑا گہرا تھا اور باتیں بڑی دلچسپ کیا کرتے تھے، انھوں نے قرآن کریم کے مختلف تراجم کو  ایک ساتھ جمع کرنے کا کام شروع کیا تھا، مجھے انھوں نے وہ نسخہ دکھایا بھی تھا گوکام ابھی ابتدائی مرحلہ میں تھا، خانقاہ میں حاضری کا یہ واقعہ میں نے ایک دوسرے مضمون میں لکھا ہے، جس کا ایک اقتباس یہ ہے ” حاضری نیاز مندانہ نہیں، طالب علمانہ تھی اور ایک ایسے شخص کی تھی جو بساط علم پر نووارد تھا، جس کا نہ کوئی کارنامہ تھا اور نہیں شہرت، اس کے باوجود اس پہلی ملاقات میں ایک طالب علم پر جو شفقت انھوں نے فرمائ اور جس طرح علمی تعاون کیا اس کے اثرات اب تک دل و دماغ پر حاوی ہیں، میں نے اس ملاقات میں ان (شاہ شرف عالم)کی متانت و سنجیدگی، مریدین و متوسلین کی تربیت، تزکیہ اور اصلاح کے لئے ان کی فکر مندی کو قریب سے دیکھا اور متأثر ہوا”۔(یادوں کے چراغ جلد دوم ص ٨٤)
یہ فکر مندی مولانا سید شاہ حسن مانی رح میں والد کی طرف سے منتقل ہوئی اور اس نے خانقاہ پیر دمڑیا کے کاموں کو آگے بڑھانے اور وسعت دینے میں مدد پہنچائی۔مولانا مرحوم سے میری دوسری ملاقات جمعیت شباب اسلام لکھنؤ کے دفتر میں ایک میٹنگ میں ہوئی، یہ دفتر شباب مارکیٹ کے عقب میں دارالعلوم  ندوۃ العلماء لکھنؤ کے قریب واقع تھا، میں ان دنوں جمعیت شباب اسلام بہار کا جنرل سکریٹری تھا، حاضری اسی اعتبار سے ہوئی تھی،یہاں بھی مولانا کی پے پناہ شفقت و محبت مجھے ملی۔
تیسری ملاقات یتیم خانہ بھاگل پور میں ہوئی تھی، اس سفر میں قیام خانقاہ ہی میں تھا، مولانا نے ہرطرح کے آرام و آسائش کا خیال رکھا، یہ سفر  اس اعتبار سے تاریخی رہا  کہ مولانا نے مجھے وہ تمام دستاویزات دکھائیں جو مغل بادشاہوں نے  جاگیر کے وثیقہ کی شکل میں پیش کیا تھا، کئی سلاطین کے دستخط مجھے پہلی بار وہاں دیکھنے کو ملے ، جائیداد سے قطع نظر خود ان دستاویزات کی مالیت لاکھوں میں نہیں آج کڑوڑرں میں ہے۔
اس تعلق کی بنیاد پر مولانا مرحوم نے کئی بار ویشالی کا سفر کیا، ایک موقع سے میں انہیں معھد العلوم الاسلامیہ چک چمیلی، سراۓ ویشالی لے آیا اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو ان کے سامنے کرکے کچھ نصیحت کی درخواست کی، اہل علم جانتے ہیں کہ بچوں کی سطح پر جاکر گفتگو کرنا کس قدر پریشان کن ہوتا ہے؛ لیکن مولانا نے بڑی آسانی سے راہ نکالی، ایک تو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رح کا واقعہ سنا کر بچوں کے ذہن میں سچ کی اہمیت بیٹھائ، دوسرے فرمایاکہ بچو! اگر کوئی تم کو دس روپے دے اور تم اسے نہ لو تو وہ دس روپے کس کے پاس رہ جائیں گے، بچوں نے کہا جس نے دیا تھا، فرمایا کہ  یہی حال گالی کا ہے اگر کوئی تم کو گالی دے اور تم اس کو جواب نہیں دوگے تو وہ گالی اسی کے پاس رہ جائے گی، اس کے بعد دعا فرمائی زارو قطار روۓ اور ہم سب کو رولایا۔
مولانا کا ایک سفر چکنوٹہ ویشالی کا بھی ہوا، وہ مولانا سلمان الحسینی ندوی کے ساتھ تشریف لائے تھے، مولانا کے پہلے ان کا بیان ہوا، زندگی سنوارنے، اللہ سے قریب ہونے اور آخرت سنوارنے کے کئی نسخے انھوں نے بیان کئے، رات کا قیام ان کے بہنوئی کے گھر مظفر پور میں ہوا  اور پھر ہم سب چشمہ فیض ململ کے جلسے کے لئے روانہ ہوگئے تھے۔
اس تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ میں مولانا حسن مانی رح کے ساتھ سفر و حضر میں رہا، میں نے انہیں خوش اخلاق، اچھا رفیق سفر اور سنت پر عامل پایا، وہ خود بڑے تھے اور ان کے تعلقات اور رشتہ دار بڑے تھے؛ لیکن کبر و بڑائ کا کوئی تصور مولانا سید شاہ حسن مانی رح کو چھوکر نہیں گیا تھا۔اس لئے وہ ہر طبقہ میں مقبول اور تمام لوگوں کے محبوب تھے۔
مولانا سے جو تعلق قائم ہوا تھا اس کو نبھانے کے لیے جب بھی میرا بھاگل پور جانا ہوا خانقاہ میں حاضری کو ضروری سمجھتا رہا اور نہ معلوم کئی بار اکابر کے مزار پر فاتحہ خوانی اور خانقاہ میں حاضری ہوئی، مولانا میں کبھی کوئی تبدیلی میں نے محسوس نہیں کی، ان کے صاحب زادہ اور پندرہویں سجادہ نشیں سے بھی تعلقات ہمیشہ استوار رہے ہیں اور توقع کرتا ہوں کہ آئندہ بھی اس تعلق میں کمی نہیں ہوگی۔
دنیا کا کاروبار یوں ہی چلتا رہتا ہے، ہر آدمی اپنی متعینہ عمر جی کر رخت سفر باندھ لیتا ہے اور اپنی جگہ خالی کرجاتا ہے، مولانا کی جگہ بھی کوئی پرنہیں کرسکتا، اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان کے سیات سے درگذر کرے، حسنات کو قبول کرلے، مقامات بلند عطا فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل دے۔آمین