مکہ مدینہ کا خوابی سفر نامہ

مکہ مدینہ کا خوابی سفر نامہ
مےں مکہ سے پہلے مدےنہ جانا چاہتا ہوں کہ خدا سے ملنے کا سلےقہ جان لوں
سب کچھ حب رسول اللہ مےں ہی پوشےدہ ہے ےہاں تک کہ خود خدا بھی

آقا کرےم ﷺ کا مدےنہ زمےن کا وہ انمول حصہ ہے جہاں قدم قدم پر آنکھوں سے رواں آنسو دل دھوتے ہےں ےہا ں تک کہ اللہ کا بسےرا روح کی نگاہوں کو نظر آنے لگتا ہے۔مجھے تو مدےنہ منورہ کی زمےن پر جوتے پہن کر چلنا بھی بے ادبی محسوس ہوتا ہے کےونکہ اس زمےن نے جانے کتنی بار آقا کرےم ﷺ کے مبارک قدموں کے بوسے لے لے کر اپنا سےنہ ٹھنڈا کےا ہواہے ۔اس زمےن کی عظمت کو مدنظر رکھتے ہوئے دےوانوں مےں اپنی پلکوں سے جھاڑو لگانے کی تمنا مچلتی ہے ۔آپ نے انٹرنےٹ پر دےکھا سنا ہوگا کہ کعبہ شرےف کے اندر کئی اسلامی ممالک کے سربراہان کو سعودی حکومت کی جانب سے نفل پڑھوانے کا اہتمام کرواےا جاتا ہے جبکہ کعبہ شرےف دنےا کے سارے مسلمانوں کا سانجھا ہے امےر ہوں ےا غرےب ہوں سارے اسی کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے ہےں قبلے اور طواف مےں سب کا اور اندر داخلے مےں صرف صاحب اقتدارلوگوںکا۔ےوں کعبہ شرےف کو دوطبقوں مےں تقسےم کرنے والی سعودی حکومت اللہ کے عاشقوں کو کہاں پرکھ سکتی ہے وہ تو تحت نشےنوں کو دےکھتی ہے مگر کس غرےب کا دل تخت خداا ہے ےہ دےکھنے والی آنکھوں سے محروم ہے حکمرانوں کی کعبہ شرےف کے اندر آمد کروانے پر کعبہ کا مےزبان رب ےہ منظرنظرانداز کرکے نہ اپنے گھر کے دروازے بند رکھنے کا فرشتوں کا حکم دےتا ہے نہ ان حکمرانوں کو باہر نکال پھےنکنے کا۔ جبکہ وہ خوب جانتا ہے ان مےں سے کئی حکمران اسلامی نظام خلافت کی بجائے جمہورےت کے نام پر اللہ کی مسلمان مخلوق اورقانون اسلام کا تقدس پامال کرنے کے جرم مےں مبتلا ہےں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ اپنے گھر بےت اللہ مےں ہر اچھے برے انسان کو قبول کر لےتا ہے۔مگر آپ نے کبھی ےہ نہےں سنا اور دےکھا ہوگا کہ آقا کرےم ﷺ کے روضہ مبارک کے اندر کسی کو داخلہ ملا ہو بڑے سے بڑے حکمران بھی روضہ رسول کی جالےوں کے پاس ہی کھڑے ہوتے ہےں پتا ہے کےوں؟کےونکہ روضے کے اندر جانے کے لےے حضرت ابوبکر صدےق ؓ اور حضرت عمر فاروقؓ جےسے عاشقوں اور خادمےن اسلام کے کردار کامعےارہونااولےن شرط ہے۔اسی لےے مصنوعی خدمت اور عزت تخلےق کروانے والوں کے روضہ رسول اللہ کے اندر جانے پر خود خدا نے پابندی لگا رکھی ہے ےعنی داخلے کے لےے صحابہ جےسا عملی مقام ہونا شرط خداوندی ہے ۔روضہ رسول اللہ کے اندر بڑی سے بڑی دنےاوی طاقت کے حامل انسان کو جانے کی اجازت نہےںمگر جب کوئی حضرت بلال حبشی ؓ کی طرح چاہنے والا عشق رسول اللہ ﷺ کے جنون کی سولی چڑتا ہے تو آقا کرےم ﷺ خود اس کے غرےب خانے مےں تشرےف لاتے ہےںچاہے وہ تنکوں سے بنی جھونپڑی مےں ہی کےوں نہ رہتا ہو۔جےسے مصر کے حضرت جلال الدےن سےوطی ؒ کو آقا کرےم ﷺ نے ستر مرتبہ سے زائد حالت بےداری مےں زےارت کا شرف بخشا ہوا ہے تو بادشاہوں کی آخری حد روضے رسول کی جالےوں کے باہر کھڑے ہونے والوں کا مقدر عظےم ہے ےا غرےب غلام جو محبت کے عروج پر پہنچ کر آقا کرےم ﷺ کی مےزبانی کا شرف پائے اس کے مقدر عظےم ہےں؟اگر حاصل تحرےر سمجھ آ جائے تو اپنا مقدر بنانے کی محنت مےں لگ جاﺅ سب کچھ حب رسول اللہ مےں ہی پوشےدہ ہے ےہاں تک کہ خود خدا بھی۔7اپرےل2021بروز بدھ 23شعبان المعظم بعد نماز عشاءکے وقت اس تحرےر کو لکھتے لکھتے جانے کتنی بار آنکھےں نم ہو رہی تھےں بےوی بچے پاس تھے توآنسوروکنے کی کوشش مےں صرف اتنا کامےاب ہو پاےا کہ جو آنسو آنکھوں کے باہر ٹپکنے والے تھے ان کا رُخ اندر کی طرف موڑ پاےا اور اندورنی بھےگی کےفےت مےں مکہ مدےنہ کے تصورات مےں جکڑا سو گےا اس رات مجھ غلےظ پر کرم خداوندی کی ادا تو دےکھے کہ مےری رُوح کو کعبہ شرےف کی حاضری کروائی گئی ےہ اےسے حالات اوراوقات کا پہر تھا کہ کعبہ مےں رش نہےں تھا شاےداےک سو کے لگ بھگ آدمی جن مےں کچھ کعبہ شرےف کے اردگرد بےٹھے تلاوت مےں مشغول تھے اور کچھ چہل قدمی مےںتھے کعبہ شرےف پر پڑا غلاف جو زمےن سے تےن فٹ اوپر ےعنی چھوٹا سادہ سےاہ کپڑے پر سفےد لکےروں کا حلےہ بتا رہا تھا کہ ےہ دور کئی سو سال پہلے کا ہے۔ دو اطراف نزدےک اور دُور سے زےارت کرنے کے بعد مےری نگاہےںروضہ رسول اللہ کی تلاش مےں لگ گئےں مےرے دل و دماغ مےں اےک گمان گھر کےے ہوئے تھا کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ ساتھ ساتھ ہمساےوں کی طرح بستے ہےںخانہ کعبہ سے منسلک باہر جانے والی گلی پر چل پڑا اےک موڑ جسے مڑتے ہی مجھے سامنے روضہ روسول ﷺ نظر آگےاجونہی جھلک دےکھی بے چےن طبےعت کو تسکےن مل گئی ےہ چاندنی رات کے جےسا سماں تھا آسمان روشن ستاروں سے بھرا ہوا مگرروضہ مبارک اےسے نظر آ رہا تھا جےسے دن کے اُجالے مےں آتا ہے کعبہ کی تےن جھلکےں اور روضہ مبارک کی بس اےک ہی جھلک دےکھ کر جےسے جی نہ بھرا ہو وےسی کےفےت محسوس ہوئے جا رہی تھی جبکہ اللہ مےرے دل کے حالات و جذبات سے خوب واقف ہے نہ جانے کےوں مجھے کعبہ شرےف دےکھنے سے پہلے روضہ رسول ﷺ دےکھنے کی حسرت رہتی ہے مےں تو مکہ بھی اس لےے جانا چاہتا ہوں کہ وہاں کی زمےن پر آقاکرےم ﷺ کا روضہ مبارک بستا ہے شاےد اس لےے کہ ہمےں اللہ سے بھی رسول اللہ نے ہی ملواےا ہے مےں کعبہ شرےف سے پہلے روضہ رسول ﷺ کو جاگتی آنکھوں سے دےکھنے کا شےدائی ہوں ۔روضہ رسول ﷺ سے نگاہےں ہٹتے ہی مےں بےدا ر ہو گےا ےہ فجر کے قرےب کا وقت تھا مےں کئی بار کوشش کرتا رہا کہ اس انمول خواب کو جوڑ کر تسلسل چلتے رہنے دوں مگر ناکام رہاپھر بھی اس خواب کے منظروں کو کتنی دےربند آنکھوں مےں دہراتا رہا جو آہستہ آہستہ مدہم ہوتے ہوئے نگاہوں سے اوجل ہو گئے اور فقط احساس چھوڑ گے مےں خاموش رہا مےں نے اپنی بےوی کو بھی فوری نہےں بتاےا جےسے کوئی انمول خزانہ ہاتھ لگ جائے اور چھن جانے کے احساس سے لوگوں سے چھپاتا پھرے اےسا ہی مےں ہوا پڑا تھا۔خےر مےرے دل نے مےری آنکھوں کو اس روحانی خوابی سفر کی مبارکباد پےش کی پھر پورے وجود کے اعضاءنے مل کر رب کو سجدہ شکر پےش کےا جےسے کوئی چوکھٹ پر گر کر پورے وجود کی ترجمانی دو جوڑے ہوئے ہاتھوں سے کرتا ہے کہ اللہ تےرا شکرےہ۔بے شک اس مےں آقا کرےم ﷺ کی محبت ملوث نہ ہوتی تو ےہ نظارے کبھی خواب نہےں بننے تھے مےں سارا دن اس خواب مےں جکڑا طرح طرح کے دل و دماغ مےں گردش کرتے سوالوں کے جواب اپنے ہی اندر سے تلاش کرتارہا کہ مجھے اللہ نے کعبہ شرےف کی زےارت کے دوران مےں ہی روضہ رسول ﷺ کی زےارت کی جلدی کےوں لگائی ہوئی تھی اور جس راستے پر مجھے اپنے سوا کوئی نظر نہےں آےا وہاں چلا کر روضہ رسول ﷺ کی جھلک بھی دےکھا دی جےسے دو ہمساےوں کے گھر ہوتے ہےں اپنے دروازے سے نکلے ساتھ کے ہمسائے کے گھر داخل ہو گے بس اتنا ہی وقت لگا تھا۔ کعبہ دےکھتے ہٹا ہی تھا کہ روضہ رسول ﷺ نظر آ گےاجبکہ مکہ شرےف سے مدےنہ شرےف کا فاصلہ 470کلومےٹر کا ہے ےعنی چھ گھنٹے کا سفری دورانےہ سمےٹ کر اللہ نے مجھے چھ پل مےں ہی طے کروا دےا اسے روحانی پرواز کی بجائے اگر کوئی اور نام دوں تو شاےد اللہ کو آقا کرےم ﷺ کی محبت مےں مےرا رونا دھونا تڑپنا مچلنا پسند آ گےا تھا ۔۔۔خےر ےہ خوشی کے احساسات تھے کہ مےری رُوح نے اللہ اور رسول اللہ ﷺکا گھر اےک ساتھ دےکھ لےا اگر ان مےں سے اےک بھی رہ جاتا تو بےدار ہوتے ہی مےری آنکھوں نے رو رو کر رخساروں سے ٹپکتے آنسوﺅں سے تکےہ بھگونے مےں لگ جانا تھا