مشہور افسانہ نگار ادبی پروگرام کے پروڈیوسر انجم عثمانی کا انتقال۔ نواز دیوبند ی کا ظہار رنج و غم

نئی دہلی، 20 اپریل  مشہور افسانہ نگار، دوردرشن کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر اور ادبی پروگراموں کے پروڈیوسر انجم عثمانی کا آج یہاں مختصر علالت کے بعد ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا۔کئی دنوں سے سخت علیل تھے۔ ان کی عمر تقریباً 69برس تھی۔ پسماندگان میں ایک بیٹا، ایک بیٹی اور اہلیہ ہیں جو بیمار ہیں۔ ان کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق دیوبند میں عملی آئی۔
ان کی جسد خاکی دہلی کے اسپتال سے سیدھے دیوبند کے قبرستان لائی گئی جس میں خاندان کے افراد کے علاوہ کچھ اور شریک ہوئے۔
انجم عثمانی کا تعلق دیوبند کے علمی خانوادے سے تھا۔ ان کے دادا مفتی عزیز الرحمان دیوبند کے پہلے مفتی اعظم تھے۔ ان کے چچیرے دادا مفسر قرآن اور عظیم مجاہد آزادی مولانا شبیر احمد عثمانی تھے۔
ان کی پیدائش ضلع سہارنپور کے دیوبند میں 1952میں ہوئی تھی۔ 1968 میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی تھی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی یو سی کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔دارالعلوم دیوبند اور علی گڑھ میں تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ انہوں نے قیام دہلی کے دوران 1978میں دہلی یونیورسٹی سے امتیاز کے ساتھ اردو میں ایم اے کیا۔
دیوبند میں ادبی صحافتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے اور دیوبند ٹائمز کی ادارت سے بھی وابستہ ہوگئے تھے۔ اسی شوق نے دہلی آنے پر مجبور کردیا۔ آخر تک یہیں رہے۔ دہلی میں دودرشن میں مختلف عہدوں پر جاتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائرکٹر کے عہدے پر پہنچے۔انہوں نے اردو کو دوردرشن کے ذریعہ فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ وہ دوردرشن پر نشر ہونے والے ادبی پروگراموں کے پروڈیوسر بھی رہے۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد وہ کئی میڈیا اداروں سے وابستہ رہے اور اپنے تجربات سے نئی نسل کی آبیاری کرتے رہے۔
مسٹر انجم عثمانی کا پہلا افسانوی مجموعہ ’شب آشنا‘ منظر عام پر آیا۔ اس کے علاوہ ان کے تین اور افسانوی مجموعے ’سفر در سفر‘، ’ٹھہرے ہوئے لوگ‘ اور ’کہیں کچھ کھوگیا ہے‘ شائع ہوا ہے۔
افسانہ نگاری کے علاوہ مسٹر عثمانی کی شہرت کئی حوالے سے ہے۔ برقی نشریات پر ان کی کتاب ’ٹیلی ویژن نشریات‘ اہم کتاب ہے اور یہ کتاب کئی جامعات کے نصاب میں شامل ہے۔ جس میں انہوں نے ٹیلی ویژن کے حوالے سے تمام تفصیلات درج کی ہیں۔ ان کی شہرت افسانہ نگار کے طور پر زیادہ ہے اور ان کا ذکر کئے بغیر فکشن کا ذکر ادھورا ہی رہے گا۔
ان کے انتقال پر اظہار رنج و غم کرتے ہوئے معروف بین الاقوامی شاعر اور یوپی اردو اکیڈمی کے سابق سربراہ نواز دیوبندی نے کہا کہ انجم عثمانی علمی اور عملی شخصیت کے مالک تھے وہ جس شعبہ میں جہاں بھی رہے انھوں نے اپنے علم اور عمل کے بوتے پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور آگے بڑھتے چلے گئے۔ انہوں نے کہاکہ آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن کیندرمیں اعلی منصبوں پر رہ کر اردو کی گراں مایاں خدمات انجام دیں ان کی سرپرستی میں ترتیب دئے گئے پروگرام علمی اور ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
مسٹر نواز دیوبندی نے کہاکہ انہوں نے کبھی معیار سے سمجھوتہ نہیں کیا جس کی وجہ سے کچھ لوگ ان سے ناراض بھی رہتے تھے باصلاحیت تخلیق کاروں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کو آگے بڑھانا ان کا فطری ذوق تھا اسی کے ساتھ ساتھ انجم عثمانی اردو افسانہ کی دنیا میں افسانہ نگار کی حیثیت سے معروف ہی نہیں بلکہ نئی نسل کے لئے قابل تقلید بھی ہیں انجم عثمانی اپنی خاندانی وجاہت اور اپنی وطنی وضعداری کے ہمیشہ پاسدار رہے
انہوں نے کہا کہ مسٹر عثمانی کے انتقال سے دیوبند نے اپنا ہونہار لعل کھودیا ہے۔ اردو افسانے کا ذکر مسٹر عثمانی کے ذکر کے بغیر ادھورا رہے گا۔
ان کے انتٰقال پر حقانی القاسمی نے کہاکہ انجم عثمانی اختصار نویس تھے، وہ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھتے تھے لیکن واقعیت اور معاشرتی صداقت سے گتھی ہوئی ہے۔ اپنے ہم عمروں میں اختصار و اجمال اور کفایت لفظی کے لئے ان کا ذکر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر عثمانی نئے فکشن کا ایسا معتبر نام ہے جس کے بغیر فکشن کی تاریخ ادھوری رہے گی کیوں کہ ان کی کہانیوں میں قصباتی فضا کی بازیافت ہے۔انہوں نے کہاکہ میر تقی میر کی شاعری میں جو سریت ہے وہی سریت ان کی کہانی میں بھی ہے۔

(یو این آئی)