رمضان المبارک کا پیغام ۔

شمشیر عالم مظاہری۔ دربھنگوی۔
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار ۔
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے کسی کے آنے کی آمد عام طور پر خوشگوار ہوتی ہے اور اس کے استقبال کی تیاریاں بھی بڑے زور و شور سے کی جاتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ آنے والا کون ہے اور اس کا استقبال کیسے کیا جائے۔ فی الوقت ہمارے پیش نظر رمضان المبارک ہے جس کی رحمتیں و برکتیں امت مسلمہ نیز ان تمام لوگوں پر سایہ فگن ہو چکی ہیں جو خیر و اصلاح کا مہینہ سمجھتے ہیں رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے تقویٰ، پرہیزگاری، ہمدردی، غم گساری، محبت وخیرخواہی، جذبہ خدمت خلق، راہ خدا میں استقامت، جذبۂ حمیت، اور جذبۂ اتحاد، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا لو لگانے کا مہینہ ہے۔ لہذا اس کے شایانِ شان اس کا استقبال بھی ہونا چاہئے ساتھ ہی ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ وہ تمام صفات سے ہم مزین ہو جائیں جو اس مہینہ کی پہچان ہے ہم جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں قرآن نازل ہوا،روزے فرض ہوئے، جنگ بدر پیش آئی، شب قدر رکھی گئی، فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا، اس کے عشروں کو مخصوص اہمیت دی گئی۔ ساتھ ہی اس ماہ مبارک میں زکوٰۃ،انفاق،اورفطرے کا اہتمام کیا گیا۔ نتیجتاً ماہ رمضان کی عبادات کو خصوصی درجہ حاصل ہوا۔
رمضان المبارک کا مہینہ اللہ جل شانہ کی بڑی عظیم نعمت ہے ہم اس مبارک مہینے کی حقیقت اور اس کی قدر کیسے جان سکتے ہیں کیونکہ ہم لوگ دن رات اپنے دنیاوی کاروبار میں الجھے ہوئے ہیں اور صبح سے شام تک دنیا ہی کی دوڑ دھوپ میں لگے ہوئے ہیں اور مادیت کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں ہم کیا جانیں رمضان کیا چیز ہے؟ اللہ جل شانہٗ جن کو اپنے فضل سے نوازتے ہیں اور اس مبارک مہینے میں اللہ جل شانہ کی طرف سے انواروبرکات کا جو سیلاب آتا ہے اس کو پہچانتے ہیں ایسے حضرات کو اس مہینے کی قدر ہوتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ تجارت کرتے ہیں ان کے کاروباری سیزن آیا کرتے ہیں جس شخص کا سیزن آجائے وہ اپنی محنت بہت زیادہ کر دیتا ہے وہ اپنی مصروفیات ترک کر دیتا ہے وہ دوسروں سے معذرت کرلیتا ہے کہ میرا سیزن ہے اس لئے میں زیادہ وقت فارغ نہیں کر سکتا بلکہ وہ انسان اپنے کھانے پینے کی پرواہ نہیں کرتا رات کو اسے سونے کی فکر نہیں ہوتی اس کو ہر وقت یہ غم ہوتا ہے کہ میں کس طرح اس سیزن میں کمالوں سیزن سے جتنا نفع  اٹھا سکتا ہوں میں اٹھا لوں تاکہ مجھے زیادہ فائدہ ہو وہ سوچتا ہے کہ یہ تھوڑے دن کی جستجو ہے یہ تھوڑے دن کی مشقت ہے اس کے بعد پھر آرام کرلیں گے۔ اسی طرح رمضان المبارک نیکیاں کمانے کا سیزن ہے جو لوگ اپنے گناہوں کو معاف کروانا چاہتے ہیں اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی معیت کے حصول کے لیے بیقرار رہنے والے ہیں ان کے لیے یہ مہینہ ایک سیزن کی مانند ہے انہیں چاہیے کہ جب وہ روزہ رکھیں تو ان کا روزہ محض کھانے پینے سے رکنے تک محدود نہ ہو بلکہ روزہ دار کی آنکھیں بھی روزہ دار ہوں،زبان بھی روزہ دار ہو،کان بھی روزہ دار ہوں،  شرم گاہ بھی روزہ دار ہو،  دل و دماغ بھی روزہ دار ہوں، جب اس طرح ہم سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک روزہ دار بن جائیں گے تو افطار کے وقت جب دامن پھیلائیں گے اللہ رب العزت ہماری دعاؤں کو قبول فرمائیں گے ۔جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے اس کے دل میں رمضان المبارک کا ایک احترام اور اس کا تقدس ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس ماہ مبارک میں اللہ کی عبادت کچھ زیادہ کرے اور کچھ نوافل زیادہ پڑھے جو لوگ عام دنوں میں پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں آنے سے کتراتے ہیں وہ لوگ بھی تراویح جیسی لمبی نماز میں بھی روزانہ شریک ہوتے ہیں یہ سب الحمدللہ اس ماہ کی برکت ہے کہ لوگ عبادت میں، نماز میں، ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن میں مشغول ہوتے ہیں لیکن ان سب نفلی نمازوں نفلی عبادات نفلی ذکر و اذکار اور نفلی تلاوت قرآن کریم سے زیادہ مقدم ایک اور چیز ہے جس کی طرف توجہ نہیں دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس مہینہ کو گناہوں سے پاک کرکے گزارنا کہ اس ماہ میں ہم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو اس مبارک مہینے میں آنکھ نہ بہکے، نظر غلط جگہ پر نہ پڑے، کان غلط چیز نہ سنیں،  زبان سے کوئی غلط کلمہ نہ نکلے اور اللہ تعالی کی معصیت سے مکمل اجتناب ہو یہ مبارک مہینہ اس طرح گزار لیں پھر چاہے ایک نفلی رکعت نہ پڑھی ہو اور تلاوت زیادہ نہ کی ہو اور نہ ذکر و اذکار کیا ہو لیکن گناہوں سے بچتے ہوئے اللہ کی معصیت اور نافرمانی سے بچتے ہوئے یہ مہینہ گزار دیا تو آپ قابلِ مبارک باد ہیں اور یہ مہینہ آپ کے لئے مبارک ہے گیارہ مہینے تک ہر قسم کے کام میں مبتلا رہتے ہیں اور یہ اللہ تعالی کا ایک مہینہ آرہا ہے کم از کم اس کو تو گناہوں سے پاک کر لیں اس میں تو اللہ کی نافرمانی نہ کریں اس میں تو کم از کم جھوٹ نہ بولیں اس میں تو غیبت نہ کریں اس میں تو بد نگاہی کے اندر مبتلا نہ ہوں اس مبارک مہینے میں تو کانوں کو غلط جگہ پر استعمال نہ کریں اس میں تو رشوت نہ کھائیں اس میں سود نہ کھائیں کم از کم یہ ایک مہینہ اس طرح گزار لیں ۔ اس لیے کہ روزے تو ماشاء اللہ بڑے ذوق و شوق سے رکھ رہے ہیں لیکن روزے کے کیا معنی ہیں؟ روزے کے معنی یہ ہیں کہ کھانے سے اجتناب کرنا پینے سے اجتناب اور نفسانی خواہشات کی تکمیل سے اجتناب کرنا روزے میں ان تینوں چیزوں سے اجتناب ضروری ہے ۔ اب یہ دیکھیں کہ یہ تینوں چیزیں ایسی ہیں جو فی نفسہ حلال ہیں کھانا حلال پینا حلال اور جائز طریقے سے زوجین کا نفسانی خواہشات کی تکمیل کرنا حلال اب روزے کے دوران ان حلال چیزوں سے پرہیز کر رہے ہیں نہ کھا رہے ہیں اور نہ پی رہے ہیں لیکن جو چیزیں پہلے سے حرام تھیں مثلاً جھوٹ بولنا غیبت کرنا بدنگاہی کرنا جو ہر حال میں حرام تھیں روزے میں یہ سب چیزیں ہو رہی ہیں اب روزہ رکھا ہوا ہے اور جھوٹ بول رہے ہیں روزہ رکھا ہوا ہے اور غیبت کر رہے ہیں روزہ رکھا ہوا ہے اور بد نگاہی کر رہے ہیں اور روزہ رکھا ہوا ہے لیکن وقت پاس کرنے کے لئے گندی گندی  فلمیں دیکھ رہے ہیں یہ کیا روزہ ہوا کہ حلال چیز تو چھوڑ دی اور حرام چیز نہیں چھوڑی اس لیے حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا نہ چھوڑ ے تو مجھے اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں اس لئے کہ جب جھوٹ بولنا نہیں چھوڑا جو پہلے سے حرام تھا تو کھانا چھوڑ کر اس نے کونسا بڑا عمل کیا ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں اور ایک روایت میں بجائے ابواب جنت کے ابواب رحمت کا لفظ ہے (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے (حجۃاللہ البالغہ)  میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ  اللہ کے صالح اور اطاعت شعار بندے رمضان میں چونکہ طاعات و حسنات میں مشغول و منہمک ہو جاتے ہیں وہ دنوں کو روزہ رکھ کے ذکر و تلاوت میں گزارتے ہیں اور راتوں کا بڑا حصہ تراویح وتہجد اور دعا و استغفار میں بسر کرتے ہیں اور ان کے انوار و برکات سے متاثر ہوکر عوام مومنین کے قلوب بھی رمضان المبارک میں عبادات اور نیکیوں کی طرف زیادہ راغب اور بہت سے گناہوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں تو اسلام اور ایمان کے حلقے میں سعادت اور تقوے کے اس عمومی رجحان اور نیکی اور عبادت کی اس عام فضاء کے پیدا ہوجانے کی وجہ سے وہ تمام طبائع جن میں کچھ بھی صلاحیت ہوتی ہے اللہ کی مرضیات کی جانب مائل اور شر و خباثت سے متنفر ہو جاتی ہیں اور پھر اس ماہ مبارک میں تھوڑے سے عمل خیر کی قیمت بھی اللہ تعالی کی جانب سے دوسرے دنوں کی بہ نسبت بہت زیادہ بڑھا دی جاتی ہے تو ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین ان کو گمراہ کرنے سے عاجز اور بے بس ہو جاتے ہیں اس تشریح کے مطابق ان تینوں باتوں (یعنی جنت و رحمت کے دروازے کھل جانے، دوزخ کے دروازے بند ہو جانے اور شیاطین کے مقید اور بے بس کر دئیے جانے) تعلق صرف ان اہل ایمان سے ہے جو رمضان المبارک میں خیر و سعادت حاصل کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں اور رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں سے مستفید ہونے کے لیے عبادات و طاعات کو اپنا شغل بناتے ہیں۔  باقی رہے وہ کفار اور خدا نا شناس اور وہ خدا فراموش اور غفلت شعار لوگ جو رمضان اورن اس کے احکام و برکات سے کوئی سروکار ہی نہیں رکھتے اور اس کے آنے پر ان کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اس قسم کی بشارتوں کا ان سے کوئی تعلق نہیں انہوں نے جب اپنے آپ کو خود ہی محروم کرلیا ہے اور بارہ مہینے شیطان کی پیروی پر وہ مطمئن ہیں تو پھر اللہ کے یہاں بھی ان کے لئے محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔
رمضان کی آمد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خطبہ ۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ
 عنہ سے روایت ہے کہ ماہِ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ہم کو ایک خطبہ دیا اس میں آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا اے لوگو تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے اس مہینہ کی ایک رات ( شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس مہینے کے روزے اللہ تعالی نے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہونے (یعنی نمازِ تراویح پڑھنے)کو نفل عبادت مقرر کیا ہے ( جس کا بہت بڑا ثواب رکھا ہے) جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت ( یعنی سنت یا نفل) ادا کرے گا اس کو دوسرے زمانہ کے فرضوں کے برابر ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کی ستر فرضوں کے برابر ہے یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے یہ ہمدردی اورغمخواری کامہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو ( اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لئے) افطار کرایا تو اس کے لئے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ!ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا ( تو کیاغرباء اس عظیم ثواب سے محروم  رہیں گے؟)  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسی پر یا صرف پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی  روزہ دار کا روزہ افطار کرادے (رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے آگے ارشاد فرمایاکہ) اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلا دے اس کو اللہ تعالی میرے حوض (یعنی کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی تاآنکہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا ( اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)  اس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے (اس کے بعد آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا) اور جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف اور کمی کر دے گا  اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دے دے گا (شعب الایمان للبیہقی)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان کے روزے اور اس کے پورے اعمال ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے تاکہ ہم بھی ان بشارات کے مستحق ہو سکیں جو  روزے داروں کے لئے مخصوص کی گئی ہیں آمین ۔