’’تصوف کا ایک اجمالی جائزہ‘‘ تعارف و تبصرہ

ڈاکٹر نورالسلام ندوی،پٹنہ
تصوف کیا ہے؟ علماء اور محققین نے اس پربڑی بحثیں کی ہیں ، علم و تحقیق کے دریا بہائے ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ تصوف نام ہے تزکیہ نفس کا ، اصلاح باطن کا ، معرفت حق کا ، عرفان ذات کا ، تہذیب نفس کا ، عشق الٰہی میں سرشاری کا ، دنیا کی دولت و لذت سے بے نیازی کا۔ عشق و محبت اس کی خمیر میں شامل ہے۔ مرضی مولا اور خوشنودی رب اس کا طرز راہ حیات ہے ۔
تصوف کی اصل بنیاد حدیث جبرئیل ہے ۔ رسول ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ’’ احسان‘‘ کیا ہے، آپ ؐ نے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے تم اس کو دیکھ رہے ہو، اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو تو یہ سمجھو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ ’’احسان ‘‘سے مراد تزکیہ یا تصوف ہے۔ تصوف میں جو تعلیم دی جاتی ہے اس کا خلاصہ یہی ہے جو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے تصوف شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ البتہ اگر اس کے خلاف کوئی عمل ہورہا ہو تو اس سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔
تصوف کے موضوع پر اہل علم و دانش نے اتنی موشگافیاں کی ہیں کہ یہ موضوع خاصا پے چیدہ اور الجھاؤ کا شکار ہوگیا ہے ۔ تصوف کی اصل حقیقت کو جاننا اور اس کی صحیح تعلیمات سے واقف ہونا بے حد ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تصوف کا ایک اجمالی جائزہ‘‘ ڈاکٹر مولانا محمد عالم قاسمی امام و خطیب جامع مسجد دریاپور،پٹنہ کی تازہ تصنیف ہے ۔ اس میں انہوں نے تصوف کو آسان انداز میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ متذکرہ کتاب میں واضح انداز اور آسان لفظوں میں تصوف کی اصل حقیقت سے واشگاف کرایا گیا ہے ۔ تصوف کی تعریف کیا ہے؟ اس کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی، تصوف کے لغوی اور اصطلاحی معنٰی کیا ہیں، اس کے اصطلاحات اور مبادیات کیا ہیں، تصوف اور روحانیت میں کیا رشتہ کیا، ہندوستان میں اس کا آغاز کب اور کیسے ہوا، اس سلسلے میں یہود ونصاری کے افکار و خیالات اور تعلیمات کیا ہیں؟؟؟ یونانی فلسفہ، سقراط اور بقراط کی تھیوری پر بحث کرتے ہوئے اسلامی فلسفہ تصوف پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔ صوفیائے کرام کے کتنے طبقے وجود میں آئے؟ تصوف کے چار مشہور سلاسل چشتیہ، سہروردیہ، قادریہ ، نقشبندیہ اور اس کے مشہور صوفیاء کے حالات زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔
تصوف کو فروغ دینے میں ہندوستان کا ممتاز مقام رہا ہے ۔ اس کی قدیم اور قابل فخر تاریخ رہی ہے، ہندوستان دنیا کے بڑے بڑے صوفیوں اور ولیوں کا مرکز رہا ہے ۔ اس کتاب میں اس پر بھی خوبصورتی کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے ۔تصوف کو عملی زندگی میں داخل کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے مصنف نے اس کا بھی اختصار سے ذکر کیا ہے۔ تصوف کا مقصد نفس کی تربیت اور قلب کی پاکیزگی ہے ۔ اصطلاح تصوف میں مرشد سے مراد کامل ہے، جو اپنی بصیرت سے مرید کی رہنمائی کرتا ہے۔ مرشد کی حقیقت، اس کے اوصاف اور مریدین کے آداب جیسے امور بھی زیر قلم لائے گئے ہیں۔
صفحہ 105 سے 156 تک شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری ؒ کے چند اہم مکتوبات کا اردو ترجمہ پیش کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ تصوف شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے اور تصوف میں شریعت پر بڑا زور دیا گیا ہے ۔ بغیر شریعت و سنت کے کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ صفحہ 157 سے 174 تک بزرگوں کے ایمان افروز واقعات اور حکایات بیان کئے گئے ہیں ۔ جن کے پڑھنے سے ایمان میں تازگی اور قلب میں حلاوت پیدا ہوتی ہے۔ سماع ، عرس، معرفت، وحدۃ الوجود ، وحدۃ الشہود، ایوان، لطائف عشرہ کے اقسام اور ولایت جیسی تصوف کی اصطلاحیں بھی زیر بحث آئی ہیں۔
کتاب کے نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف کا مقصد اس موضوع کا اجمالی جائزہ پیش کرنا ہے ۔ نہ کہ اس کا تفصیلی ، تحقیقی اور تنقیدی جائزہ لینا ۔ کتاب کی تالیف کا اہم مقصد اس موضوع پر رطب ویابس سے پاک ضروری اور اہم معلومات فراہم کرانا ہے تاکہ تصوف کے نام پر جو رسومات اور خرافات درآئی ہیں اس سے بچاجا سکے۔ مصنف خود تحریر کرتے ہیں:
’’ میرا مقصد اس موضوع پر کوئی تنقیدی جائزہ پیش کرنا نہیں ہے کہ اس کی تحقیق میں دلائل کا انبار لگا دیا جائے ۔ بلکہ اس موضوع کی طرف ایک اجمالی معلومات فراہم کرانا ہے،تفصیل کا بھی دعویٰ نہیں ہے۔‘‘
شایداختصار کو ملحوظ رکھنے کی وجہ سے ہی بعض مباحث تشنہ رہ گئے ہیں۔ کتاب کا آدھا حصہ مکتوبات اور حکایات پر مبنی ہے۔ اس کے بالمقابل اگر تصوف اور اس کے متعلقہ مباحث پر تھوڑی اور محنت کرکے مزید معلومات فراہم کرائی جاتی تو کتاب کی افادیت دوچند ہو جاتی۔ بہر حال مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی صاحب کا کمال ہے کہ انہوں نے تصوف جیسے پے چیدہ اورخشک موضوع پر قلم اٹھایا اور اس سے متعلق ضروری معلومات فراہم کردی۔ کتاب کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ غیر ضروری مباحث اور افراط و تفریط سے پاک ہے۔ اس کے بعض مباحث پے چیدہ ہیں، اس کی تعلیمات میں غیر ضروری چیزیں بھی در آئی ہیں، مولانا نے اس کو چھان پھٹک کر الگ کر دیا ہے اور جو اصل تصوف ہے جسے حدیث میں’’ احسان‘‘ یا ’’تزکیہ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اس کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ حضرت مولانامفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے بجا لکھا ہے:
 ’’ ہمارے دوست مولانا محمد عالم قاسمی چھپے رستم نکلے ، انہوں نے ان مباحث کو پڑھا، سمجھا، زندگی میں برتا اور کتابی شکل میں مرتب کر دیا اور ہم جیسے غافلین کے لئے تنبیہ کا اچھا خاصا سامان فراہم کردیا۔‘‘
مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی صاحب بہترین عالم اور بہترین مصنف ہیں۔ ان کے قلم سے مختلف موضوعات پر ایک درجن کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ کتاب کی زبان آسان اور دلچسپ ہے۔ 174 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قاری تصوف، اس کی مبادیات اور اصطلاحات سے واقف ہو سکتا ہے۔ حضرت مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی ، نائب ناظم امارت شرعیہ، پروفیسر عابد حسین سابق صدر شعبہ فارسی پٹنہ یونیورسٹی ، مولانا ڈاکٹر سید شاہ تقی الدین احمد فردوسی ندوی، پروفیسر ڈاکٹر سرور عالم ندوی صدر شعبہ عربی پٹنہ یونیورسٹی،پٹنہ نے کتاب کے تعلق سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے کتاب اور مصنف کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ مولانا محمد جہانگیر تائب اور مولانا ڈاکٹر عبدالودود قاسمی کا منظوم کلام بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
کتابت اور طباعت دونوں معیاری ہے، تصوف جیسے اہم موضوع پر عمدہ پیشکش کے لئے مصنف مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ تصوف اور اس سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لئے یہ کتاب مفید اور کارآمد ثابت ہوگی۔