آرایس ایس میں تنظیمی اصلاحات اور ہماری ملی تنظیمیں!!

 سرفراز احمدقاسمی،حیدرآباد
برائے رابطہ: 8099695186

ملکی اقتدار کی باگ ڈور گذشتہ کئی سالوں سے جس تنظیم کے ہاتھوں میں ہے،یہ کوئی اورنہیں بلکہ آرایس ایس ہے،اسی تنظیم سے وابستہ لوگ بھارت اور یہاں کی ایک سو بیس کروڑ عوام کےلئے بڑے بڑے فیصلے کرتے ہیں،گویا کہ ان دنوں بھارتی عوام کے سیاہ وسفید کی مالک یہی تنظیم ہے،ملک کے تمام اہم اداروں میں انکے لوگ فائز ہیں،جھوٹ،فریب،مکاری اور عیاری کے ذریعے یہ لوگ اقتدار کامزہ چکھ رہے ہیں،2014 سے پہلے بھی اس تنظیم کو اقتدار کی کرسی اٹل بہاری واجپئی کے زمانے میں ملی تھی لیکن یہ لوگ اسوقت اتنے طاقت ور نہیں تھے، اور نہ ہی انکااتنا اثر ورسوخ اسوقت تھا جتنا آج ہے،لیکن 2014 کے بعد پوری طاقت کے ساتھ ان لوگوں نے ملک کی باگ ڈور سنھال لی اور پوری قوت کے ساتھ اقتدار کی کرسیوں پر قابض ہوگئے، یہ سب اس تنظیم کےلئے کیسے ممکن ہوا؟ انھیں یہ مقام کیسے ملا؟ اسکے اسباب وجوہات ہیں کیا ہیں ؟ ہماری ملی تنظیمیں اور قومی ادارے جامد کیوں ہوتے جارہے ہیں اسکے اسباب وجوہات کیا ہیں؟ یہ اور اس جیسے کئی ایک سوالات ہیں،جسکا جاننا ہما رے لئے انتہائی ضروری ہے،آئیے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتےہیں کہ اس تنظیم کا وجود کب اور کیسے ہوا؟ وکی پیڈیا کے مطابق ” آرایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ،بھارت کی ایک ہندو تنظیم ہے،یہ خود کو قوم پرست تنظیم قرار دیتی ہے،لیکن یہ بھی دیکھاگیا ہےکہ کئی دہشت گردانہ معاملوں اور فرقہ وارانہ فسادات میں اس تنظیم کا ہاتھ رہاہے،اسکی بنیاد 27 ستمبر ۶1925 میں ناگپور میں رکھی گئی،2014 تک اسکی رکنیت 50لاکھ سے 60لاکھ تھی، اسکا بانی کیشوا بلی رام ہیڈگیوار ہے،یہ ہندوسیوم سیوک سنگھ کے نام سے بیرون ممالک میں سرگرم ہے،وہاں سے خطیر رقم چندہ لایاجاتاہے،یہ بھارت کو ہندوملک گردانتاہے اوریہ اس تنظیم کا اہم مقصد بھی ہے،بھارت میں برطانوی حکومت نے ایک بار اور آزادی کے بعد حکومت ہند نے تین بار اس تنظیم کو ممنوع قراردیادیا تھا اوراس پر پابندی لگائی تھی،اس تنظیم کا مقصد اکھنڈ بھارت میں ہندو راشٹر قائم کرنا،ہندو قوم پرستی،ہندوتوا اور ہندو تہذیب کو فروغ دینا ہے،اس تنظیم کا طریقہ کار ورزش،میٹنگ اور نجی نشستوں کے ذریعے ذہن سازی اور جسمانی تربیت ہے،اسکا ایک چیف ہوتاہے،یہ تنظیم دایا بازو رضاکاری اور نیم فوجی دستہ تیارکرتی ہے”
یہ تفصیلات وکی پیڈیا پرموجود ہے، لیکن "دی وائر” کے مطابق معروف قلم کار اور قانون داں اے جی نورانی نے پانچ سو صفحات پرمشتمل ایک ضخیم کتاب انگریزی میں لکھی ہے،جس میں اس تنظیم کے حوالے سے کئی اہم انکشاف کئے گئے ہیں، اس میں لکھا ہے کہ بی جے پی کے لیڈران روزمرہ کے فیصلے کرنے میں آزاد ہوتے ہیں،مگر اہم فیصلوں کےلئے انکو آرایس ایس سے اجازت لینی پڑتی ہے،بی جے پی میں سب سے طاقتور آرگنائزنگ جنرل سکریٹری آرایس ایس کا ہی نمائندہ ہوتاہے،آرایس ایس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ایک خاص پوزیشن کے بعد صرف غیر شادی شدہ کارکنان کو ہی اعلی عہدوں پر فائز کیاجاتاہے،آرایس ایس میں شامل ہونے اور پوزیشن حاصل کرنے کےلئے ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی اہلیہ جسودھا بین کو شادی کے چند سال بعد ہی چھوڑ دیاتھا،اسلئے آرایس ایس کی پوری لیڈر شپ غیر شادی شدہ لوگوں پر مشتمل ہے،آرایس ایس کے سب سے نچلے یونٹ کو شاکھا کہتےہیں،ایک شہر یا قصبے میں کئی شاکھائیں ہوسکتی ہیں،اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حکمراں پارٹی بی جے پی کی اصل طاقت کا سرچشمہ، اوراسکی نکیل ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم سیوم سیوک کے پاس ہے جو بلاشبہ فی الوقت دنیا کی سب سے بڑی،منظم، اور خفیہ تنظیم ہے،جسکے مالی وانتظامی معاملات کے بارے میں بہت ہی کم معلومات ابھی تک منظرعام پر آئی ہیں،سینئر صحافی افتخار گیلانی صاحب لکھتےہیں کہ”گوکہ آرایس ایس خود کو ایک ثقافتی تنظیم کے طور پرمتعارف کرواتی ہے،مگر حال ہی میں اسکے سربراہ موہن بھاگوت نے یہ کہہ کر چونکا دیاتھاکہ ہنگامی صورتحال میں انکی تنظیم صرف تین دن سے بھی کم وقفے میں،20لاکھ سیوم سیوکوں(کارکنوں)کو جمع کرکے میدان میں لاسکتی ہے، جبکہ فوج کو صف بندی اور تیاری میں کئی ماہ درکار ہوتے ہیں،شاید وہ یہ بتانے کی کوشش کررہے تھے کہ آرایس ایس کی تنظیمی صلاحیت اورنظم وضبط فوج سے بدرجہا بہتر ہے”
اے جی نورانی نے اپنی کتاب” The RSS :A Menace to india” میں لکھتے ہیں کہ ہفتے میں کئی روز دہلی کی پارکوں میں یہ شاکھائیں ڈرل کے ساتھ ساتھ لاٹھی،جوڈو،کراٹے اوریوگا کی مشق کا اہتمام کرتے ہوئے نظر آتی ہیں، ورزش کے ساتھ ساتھ یونٹ کا انچارج ذہن سازی کا کام بھی کرتاہے،آرایس ایس کے سربراہ کو سرسنگھ چالک کہتےہیں،اور اسکی مدد کےلئے چار راشٹریہ ساہ کرواہ یعنی معتمد ہوتےہیں،اسکے بعد اسکے چھ تنظیمی ڈھانچے ہیں،جن میں کیندریہ کاریہ کاری منڈل،اکھل بھارتیہ پرتینیدھی سبھا،پرانت یا ضلع سنگھ چالک،پرچارک،پرانت یا ضلع کاریہ کاری منڈل اورپرانت پرتینیدھی سبھا شامل ہیں،پرانت پرچارک جو کسی علاقے یا ضلع کا منتظم ہوتاہے، اسکا غیر شادی شدہ یا خانگی مصروفیات سے آزاد ہونا لازمی ہوتاہے،بی جے پی کی اعلی لیڈرشپ میں فی الوقت وزیراعظم مودی اورامت شاہ آرایس ایس کے کارکنان رہےہیں،اسکے باوجود آرایس ایس نے اپنے دوسینئر پرانت پرچارک رام مادھو اور رام لال کو بی جے پی میں بطور جنرل سکریٹری تعینات کیاہوا ہے،تاکہ پل پل کی خبر موصول ہوتی رہے،نورانی کے بقول اس تنظیم کی فلاسفی ہی فرقہ واریت،جمہوریت مخالف اورفاشزم پرٹکی ہے،سیاست میں چونکہ کئی بار سمجھوتوں اورمصالحت سے کام لینا پڑتاہے اسلئے اس میدان میں براہ راست کودنے کے بجائے اس نے 1951 میں جن سنگھ اور پھر 1980 میں بی جے پی تشکیل دی،بی جے پی پر اسکی گرفت کے حوالے سے نورانی کا کہناہے کہ آرایس ایس کی ایماء پر اسکے تین نہایت طاقت ور صدور ماؤلی چندرا شرما،بلراج مدھوک اور ایل کے اڈوانی کو برخواست کیاگیا،اڈوانی کا قصور یہ تھاکہ اس نے 2005 میں کراچی میں بانیِ پاکستان محمدعلی جناح کو ایک عظیم شخصیت قرار دیاتھا،
آرایس ایس کی تقریباً 100 سے زائد شاخیں ہیں جو الگ الگ میدانوں میں سرگرم ہیں،جیساکہ سیاسی میدان میں بھارتیہ جنتا پارٹی،حفاظت یاسکیورٹی کےلئے(دوسرے لفظوں میں غنڈہ گردی کےلئے)بجرنگ دل،مزدوروں یاورکروں کےلئے بھارتیہ مزدور سنگھ،دانشوروں کےلئے وچارمنچ،غرض سوسائٹی کے ہرطبقے کی رہنمائی کےلئے کوئی نہ کوئی تنظیم موجود ہے،حتی کہ پچھلے کچھ عرصے سے آرایس ایس نے مسلم راشٹریہ منچ اورجماعت علماء نامی دوتنظیمیں قائم کرکے انھیں مسلمانوں میں کام کرنے کےلئے مختص کررکھاہے،پچھلے انتخابات کے دوران یہ تنظیمیں کشمیر میں خاصی سرگرم تھیں،ان سبھی تنظیموں کےلئے آرایس ایس کیڈر بنانے کا کام کرتی ہے اورانکےلئے اسکولوں اورکالجوں سے ہی طالب علموں کی مقامی شاکھاؤں کے ذریعے ذہن سازی کی جاتی ہے،
آج اسکی کل شاکھاؤں کی تعداد 84877 ہے،جوملک اوربیرون ملک کے مختلف مقامات پر ہندوؤں کو انتہاء پسندانہ نظریاتی بنیاد پر جوڑنے کا کام کررہی ہیں،20 سے 35 سال کی عمر کے تقریباً ایک لاکھ نوجوانوں نے پچھلے ایک سال میں آرایس ایس میں شمولیت اختیار کی ہے،اسکے ساتھ ہی یہ تنظیم ہندوستان کے 88فیصد بلاک میں اپنی شاکھاؤں کے ذریعے رسائی حاصل کرچکی ہے،قابل ذکر بات یہ ہے کہ گذشتہ ایک سال میں آرایس ایس نے 113421 تربیت یافتہ سویم سیوک سنگھ تیار کئے ہیں،
ہندوستان سے باہر انکی کل 39 ممالک میں شاخائیں ہیں،یہ شاخائیں ہندو سویم سیوک سنگھ کے نام سے کام کررہی ہیں،ہندوستان سے باہر اس کی سب سے زیادہ شاخیں نیپال میں ہیں،اسکے بعد امریکہ میں اسکی شاخوں کی تعداد 146 ہے،برطانیہ میں 84 ہے،آرایس ایس کینیا کے اندر بھی کافی مضبوط حالت میں ہے،کینیا کی شاخوں کا دائرہ کار پڑوسی ممالک تنزانیہ،یوگانڈا،ماریشش اورجنوبی افریقہ تک پھیلا ہواہے اوروہ ان ممالک کے ہندوؤں پر بھی اثرانداز ہورہے ہیں،
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انکی تقریباً دس شاخیں مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک میں بھی ہے،عرب ممالک میں چونکہ جماعتی اورگروہی سرگرمیوں کی کھلی اجازت نہیں ہے،اسلئے وہاں کی شاخیں خفیہ طریقے سے گھروں تک محدود ہیں،بتایاجاتا ہے کہ بابری مسجدکی مسماری اور رام مندر کی تعمیرکےلئے سب سے زیادہ چندہ انھیں ممالک سے آیاتھا،فن لینڈ میں آرایس ایس کی ایک الیکٹرانک شاکھا ہے،جہاں ویڈیو کیمرے کے ذریعے 20ممالک کے افراد جمع ہوتےہیں،یہ ممالک وہ ہیں جہاں پر آرایس ایس کی باضابطہ شاکھا موجود نہیں ہے،بیرون ملک آرایس ایس کی سرگرمیوں کے انچارج رام مادھو ہیں،جواس وقت بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری بھی ہیں،کشمیر امور کوبھی دیکھتےہیں اوروزیر اعظم مودی کے بیرونی دوروں کے دوران،بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی تقاریب منعقد کراتے ہیں،
یہ وہ تفصیلات ہیں جو اے جی نورانی نے اپنی ضخیم کتاب میں درج کی ہیں،گذشتہ ماہ اخبار میں ایک رپورٹ آئی تھی جسکا عنوان تھا”آرایس ایس میں ایک دہائی بعد تنظیمی تبدیلیاں”آئیے دیکھتے ہیں اس رپورٹ میں کیاہے؟ اخبار کے مطابق”راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ نے تقریباً ایک دہے بعد اپنے تنظیمی ڈھانچے میں قابل لحاظ تبدیلی لائی ہے،آرایس ایس میں بھیا جی جوشی کو عہدہ سے ہٹاتے ہوئے انکی جگہ دتاتریہ ہوسبولے کو متفقہ طور پر جنرل سکریٹری منتخب کرلیاگیاہے،جوشی گذشتہ 12 برسوں سے آرایس ایس کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہےتھے،بنگلور میں جاری آرایس ایس کی اعلی فیصلہ ساز کمیٹی کے جمعہ سے شروع ہونے والے دوروزہ اجلاس کے دوران ہفتہ کو یہ فیصلہ کیاگیا،ہرسال ملک بھرکے آرایس ایس نمائندوں کا اجلاس منعقد ہوتاہے اور ہر تین سال میں ایک مرتبہ سرکار یاواہ(جنرل سکریٹری)کو منتخب کیاجاتا ہے،بھیاجی جوشی 2009 سے جنرل سکریٹری کا عہدہ سنبھالے ہوئے تھے،انکو تین مرتبہ اسی عہدے کےلئے منتخب کیاگیا،انکا گزشتہ انتخاب 2018 میں ہواتھا،دتاتریہ ہوسبولے آرایس ایس کے شریک معتمد عمومی تھے،وہ آئندہ تین برسوں تک معتمد عمومی کے عہدے پرفائز رہیں گے،قابل ذکر ہے کہ جنرل سکریٹری کا عہدہ آرایس ایس میں نمبر دو تصور کیاجاتاہے،آرایس ایس میں سرسنگھ چالک سب سے اعلی عہدہ ہوتا ہے اوراسی کی رہنمائی میں سارے کام ہوتے ہیں،بہرحال ہوسبولے نے سنگھ پریوار کی طلبہ شاخ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد(اے بی وی پی)کےلئے اترپردیش میں کام کرتے ہوئے کئی سال گزارے،انکا ریاست میں بی جے پی اور آرایس ایس کے کئی سینئر عہدے داروں کے ساتھ ذاتی تال میل ہے،ریاست میں اگلے سال الیکشن ہونے والے ہیں اور اس تعلق سے انکا کردار اہم ثابت ہوسکتاہے،ہوسبولے اپنے کھلے نظریات کےلئے جانے جاتےہیں،انکی پیدائش کرناٹک کے شیموگہ ضلع میں یکم دسمبر 1955 میں ہوئی تھی،وہ انگریزی میں گریجویٹ ہیں،وہ 1968 میں محض 13 سال کی عمر میں ہی آرایس ایس سے جڑگئے تھے،1972 میں آرایس ایس کی طلباء تنظیم اے بی وی پی میں شامل ہوگئے، 77-1975کی جے پی تحریک میں بھی وہ سرگرم رہے اورایمرجنسی کے دوران وہ جیل بھی گئے،ہوسبولے اپنی مادری زبان،کنٹر کے علاوہ انگریزی، ہندی،سنسکرت،تمل اورمراٹھی زبان کے ماہر ہیں”
یہ ہے اخباری رپورٹ جوگذشتہ ماہ 21مارچ کو شائع ہوئی تھی،یہ رپورٹ اوراوپر کی تفصیل ہم نے اسلئے ذکر کی تاکہ معلوم ہوکہ آریس ایس کیا ہے؟ اسکا بیک گراؤنڈ کیاہے،اسکی حقیقت اوراسکے اثرو رسوخ کیاہیں،اوراسکے مقاصد کیاہیں؟ یہ معلوم ہوگیا اب آئیے چلتے ہیں اپنی ملی تنظیموں اور ملی اداروں کی جانب،ایک اچٹتی نگاہ آپ ملی تنظیموں پر دوڑائیں تو ہماری ملی تنظیموں کی حقیقت سے بھی آپ آشنا ہوجائیں گے،اس سلسلے میں ہم سب سے پہلے مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں،ملی تنظیموں کا ایک وفاقی ادارہ”آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت”کو ایک عرصے سے یہ تنظیم بالکل اپاہج ہوچکی ہے،ایسا لگتاہے اس میں شامل لوگ سب ٹائم پاس کےلئے ہیں،اس وفاق کو اس وقت جوملکی حالات ہیں اس میں کلیدی رول اداکرنا چاہئے تھا،مسلمانان ہند کی نئے سرے سے رہنمائی کرنی چاہئے تھی،منظم حکمت عملی اورلائحہ عمل طے کرناچاہئے تھا لیکن اسکے بجائے یہ تنظیم کیا کام کررہی ہے، آئیے سنتے ہیں ایک معروف صحافی اشرف علی بستوی کی زبانی،وہ لکھتے ہیں کہ
"گذشتہ ہفتے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ کی اطلاع بذریعہ پریس ریلیز موصول ہوئی،جسے ہم نے ایشاء ٹائمز میں اہتمام سے شائع کیا،لیکن پریس ریلیز کے سلسلے میں چند باتیں جو میں نے نوٹ کی ہیں اسے آپ قارئین تک پہونچانا ضروری سمجھتاہوں،طویل عرصے بعد آنے والی اس اپڈیٹ میں،ملکی وبین الاقوامی واقعات پر اظہار تشویش،اظہار افسوس،اظہار اطمینان،اظہار حیرانی،اپیل،مذمت وغیرہ،موجودہ حالات میں مشاورت اپنا کوئی ایجنڈا پیش کرنے میں ناکام رہی ہے،پریس ریلیز میں کہاگیاہے کہ اجلاس میں ملک کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو اور اہم تجاویز پاس ہوئی ہیں،لیکن پاس کی گئی تجاویز کیا ہیں اسکا کوئی ذکر نہیں ملا،اگلے روز یہ جاننے کےلئے جب میں نے صدر مشاورت سے ملاقات کی تو اس سوال کو پہلے تو وہ ٹالتے رہے،پھر کہنے لگے آپ جولکھنا چاہیں لکھیں،میں نے انکے لہجے میں بےچارگی اور مایوسی نوٹ کی ہے،اس مایوسی کی وجہ کیا ہے اس پر تو کوئی تبصرہ میں اپنی طرف سے نہیں کرسکتا،لیکن میں اتنا ضرور جانتاہوں کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں صدرمشاورت کے سامنے داخلی اورخارجی چیلنج جو بھی ہوں انکو انھیں حالات میں کام کرنا ہے یہی مشاورت کے دستور کا تقاضہ بھی ہے،قارئین کو شاید یاد ہوکہ نوید حامد صاحب کی پہلی میقات کے پندرہ ماہ ہونے پر ایشیاء ٹائمز نے ایک سروے اسٹوری کی تھی،جس میں ہم نے متعدد ریاستوں کے ذمہ داران سے بات کی،مشاورت کے کام کے تعلق سے کافی مثبت رائیں موصول ہوئی تھیں،وہ لوگ بھی کام کی تعریف کرتے دیکھے گئے،جن سے نوید صاحب نے الیکشن لڑاتھا،چارج سنبھالنے کے بعد سرگرمیاں جب شروع ہوئیں تو لوگوں میں نئی امید پیداہوئی تھی،لیکن وقت کے ساتھ یہ اعتماد بری طرح مجروح ہوا،اسکے اسباب جوبھی ہوں اسے مشاورت کی ناکامی ہی کہی جائےگی،آگے بستوی صاحب لکھتےہیں کہ ابھی بھی وقت ہے،رواں میقات میں ابھی پندرہ ماہ باقی ہیں،مشاورت کے صدر دستور کی روشنی میں عملی ایجنڈا ترتیب دیں،اورکام شروع کریں،یہاں میں صدرمشاورت کا ایک جملہ دہرانا چاہوں گا جوانھوں نے چارج سنبھالنے کے پہلے دن منعقد تقریب میں کہاتھاکہ”مشاورت مختلف الخیال لوگوں کی جماعت تھی،جو وقت کے ساتھ ہم خیالوں کی جماعت میں تبدیل ہوگئی،اسے دوبارہ واپس اپنی بنیادوں پرلانا میری اولین ترجیح ہوگی”موصولہ خبر کے مطابق مشاورت میں 16تنظیمیں تھیں اب 14رہ گئی ہیں،دوتنظیموں کو الگ کردیاگیاہے،ایک تنظیم کے بارے میں پتہ چلاہے کہ اس نے کئی برسوں سے اپنی سالانہ فیس ادا نہیں کی تھی،دوسری تنظیم کو اسلئے باہر کیاگیاہے کہ اس نے اپنے یہاں غیرمسلم ممبر شامل کئے ہیں،ان کا یہ عمل مشاورت کے دستور سے میل نہیں کھاتا،صدر مشاورت نے انگریزی ویب سائٹ کلیریان انڈیا ڈاٹ نیٹ کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر شاہین نظر کو دیئے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیاکہ مشاورت کے راستے میں رکن تنظیمیں ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،انھوں نے کہاکہ مشاورت 65 سے زیادہ عمر کے لوگوں کی جماعت ہے،80فیصد سے زائد اراکین 65سال سے زیادہ عمرکے ہیں،اس عمر میں میٹنگ کےلئے سفر کرنا مشکل ہوتاہے،انھوں نے پرزور انداز میں واضح کیاکہ مشاورت ازخود کوئی تنظیم نہیں ہے،بلکہ یہ مسلم تنظیموں کا ایک وفاق ہے،یہ عوام کی سمجھ میں اب تک نہیں آسکا ہے،مشاورت کا کام وہ نہیں ہے جووہ سمجھتے ہیں”
اس تحریر سے آپ نے کیا اندازہ لگایا؟
کم وبیش ساری مسلم تنظیموں کا یہی حال ہے،بلکہ اس سے زیادہ عجیب وغریب صورتحال یہ ہے کہ کام کم ہے اور کریڈیٹ خوری کاچلن زیادہ ہے،مطلب کام کریں گے نہیں لیکن کریڈٹ لینے کی ہوڑ لگی ہے،آخر کیاوجہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس بھی سوسالہ تنظیم ہے اور آرایس ایس بھی سوسالہ قدیم تنظیم ہے لیکن آرایس ایس کہاں ہے؟ اورمسلم تنظیمیں کہاں ہیں؟پریس نوٹ جاری کرنا،فسادات،سیلاب اورناگہانی آفات کے موقع پر ریلیف فنڈ جمع کرنا،اسکو تقسیم کرنا،اصلاح معاشرہ کے عنوان سے بڑے بڑے جلسے کرنا،اورلاکھوں کروڑوں روپے اس پرخرچ کرنا یہی مسلم تنظیموں کاکام رہ گیاہے،بس اسی سے ذمہ داری پوری ہورہی ہے اسلئے مزیدکچھ کرنے کی شاید ضرورت نہیں،مسلم تنظیمیں جس شدومد کے ساتھ لاکھوں روپے کا ایڈ اخباروں میں شائع کراتی ہیں کبھی آپ نے آرایس ایس کا اسطرح کا ایڈ بھی دیکھاہے؟کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ اپنے اجلاس کےلئے آرایس ایس لاکھوں روپے خرچ کررہی ہے؟ جس تسلسل کے ساتھ مسلم تنظیمیں پریس ریلیز جاری کرتی ہیں کیا آرایس ایس بھی اسی طرح اپنا پریس ریلیز جاری کرتی ہے؟مسلم تنظیمیں اپنا پروگرام کرنے سے پہلے اسکی تشہیر میں مصروف ہوجاتی ہیں، جبکہ آرایس ایس کے بڑے بڑے پروگرام بغیر کسی تشہیرکے خفیہ طورپر ہوتے ہیں اور اسکی خبربھی لوگوں کو نہیں ہوتی،آرایس ایس کا اتنابڑا نیٹورک ہونے کے باوجود انکاہرکام خفیہ طریقے سے کیوں ہوتاہے؟ کبھی آپ نے سوچا؟مسلم تنظیم سے اگر کسی عہدے دارکو الگ کردیاجائے،معزول کردیاجائے یاوہ خود سے الگ ہوجائے تو پھر وہ ایک متوازی تنظیم بناکرتیار ہوجاتاہے، یہ بھی ایک حقیقت ہے بہت سی مسلم تنظیمیں تو صرف کاغذ کے ٹکڑوں تک ہی محدود ہیں،لیکن کچھ تنظیمیں جو زمینی سطح کی ہیں انکے اندر بھی افراتفری ہے،اقرباء پروری،خودغرضی،مفادپرستی،مال ودولت اورجاہ ومنصب کا حرص یہ سب آپکو مسلمان اور مسلم تنظیموں میں ہی ملیں گے،آرایس ایس نے اڈوانی،منوہرجوشی،یشونت سنہا،شتروگھن سنھا،پروین توگڑیا اور نہ جانے کتنے لوگوں کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال کرآرایس ایس سے باہر کردیا لیکن کیامجال ہےکہ کوئی اورتنظیم یہ لوگ بنالیں، اگریہی صورت کسی مسلم تنظیم اوراداروں میں پیش آجائے،اورلوگوں کو علیحدہ کردیاجائے تب دیکھئے کیسے دوسرے ادارے اورنومولود تنظیمیں وجود میں آتی ہیں،سوسالہ مسلم تنظیم کے اراکین کا حال یہ ہےکہ اگرایک بار وہ کسی عہدے اورمنصب پرپہونچ گئے تو پھرکیا مجال ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اس عہدے کوچھوڑدیں گے؟سوسالہ مسلم تنظیم جواب دو ہوچکی ہیں،ملک کے تقریباً ہراسٹیٹ اورہرشہر میں دودو یونٹیں ہیں لیکن ان یونٹوں کاحال یہ ہےکہ کہیں باپ بیٹا عہدے پرقابض ہے،کہیں سسراورداماد قابض ہے توکہیں بھائی اہم عہدوں پربراجمان ہیں،اگر انکی کارکردگی کاجائزہ لیاجائے تونتیجہ بالکل صفرآئےگا،جولوگ عہدوں اورمنصبوں پرقابض ہیں انکا محاسبہ نہیں کیاجاسکتا،انکی کارکردگی کاجائزہ نہیں لیاجاسکتا،کیوں کہ یہ سب جرم ہے،زیادہ ترتنظیموں کا حال یہ ہے کہ وہاں جی حضوری کرنےوالے،چاپلوسی کرنے والے لوگوں کو جگہ دی جاتی ہے،آپ کے پاس صلاحیت ہونہ ہو اس سے کوئی مطلب نہیں،جی حضوری آتی ہے،چاپلوسی آتی ہے توپھر کسی بھی ادارے میں کوئی بھی منصب آپ کےلئے ممکن ہے،لیکن اگر آپ باصلاحیت ہیں جی حضوری نہیں کرتے اپنے کام سے کام رکھتے ہیں،چاپلوسی نہیں کرتے توپھرآپ کےلئےچانس بہت کم ہے،یہی سب مسلم تنظیموں اوراداروں میں چل رہاہے،کیایہی سب آرایس ایس میں بھی ہوتاہے؟اگر نہیں تو اسکی وجہ کیاہے؟مولانا ہمیں عبدالحمید نعمانی لکھتے ہیں کہ” آرایس ایس سے پہ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ قیادت کےلئے قابلیت کی بنیاد پر دوسری سے لیکر تیسری صف تک کی تیاری،اسی طرح اصولاً ذمہ داروں سے احتساب ومواخذہ،اور چھوٹوں سے عفوودرگذر،مگرافسوس کہ آج جہاں ہمارا احتساب ہوناتھا،وہاں تقدس وتنزیہ اورجہاں عفوودرگذر سے کام لینا تھا وہاں تحقیرو تجہیل نے وہ ہڑبونگ مچایا ہے کہ الامان الحفیظ،ہماری ملی تنظیموں اورملی اداروں کا المیہ یہ بھی ہے کہ جب کسی باصلاحیت ذمہ دار کا انتقال ہوجاتاہے،تو عجیب بحرانی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے،وہ اسلئے کہ ہمارے یہاں دوسری اورتیسری صف کی تیاری،اورافراد سازی کا کوئی نظام نہیں ہے،جب ایسا نظام ہمارے پاس نہیں ہے تو پہلی صف خالی ہونے پر اسکی جگہ پرکیسے ہوگی؟ہمارے اندراس طرح کی احساس کمتری آخر کیوں ہے اورہم عدم تحفظ کا شکار کیوں ہیں؟ اور اپنی زندگی میں نوجوان نسل کو آگے بڑھانے اورانکی تریبت کرنے سے کیوں خوفزدہ رہتے ہیں؟جبکہ سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھاکہ ہمارے بعد صدیقؓ وفاروقؓ کی طرف رجوع کرنا،ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟صف اول والے دوسری،تیسری صف والوں کو سامنے نہیں آنے دیتے اورمستزاد یہ کہ انکی راہ میں دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں،جیسے لگتاہے وہ حیات خضر اورآب حیات پی کر آئے ہوں”، مسلم تنظیموں میں اگر کوئی بڑے عہدے پر پہونچ جاتاہے تو پھر وہ یہ سمجھنے لگتاہے کہ اب میں سیاہ سفید کا تن تنہا مالک ہوں،کوئی مجھ سے احتساب نہیں کرسکتا،میری کارکردگی کا جائزہ نہیں لیاجاسکتا،اور اب میں لائف ٹائم کےلئے اس عہدے پر ہوں،اب کوئی مجھ سے یہ منصب چھین نہیں سکتا،پھر اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب انکا انتقال ہوجاتاہے تو انکے پیچھے خلفشار اور تنازعات کی بھیڑ ہوتی ہے،کسی شخصیت پر اتفاق بھی تب ہی ہوپاتا ہے جبکہ اسکے پیر قبر میں لٹک چکے ہوں،اور بعض مرتبہ تو وہ کسی کام کا نہیں رہ پاتا،کیونکہ وہ اپنا نائب کسی کوبناکر نہیں جاتا،مسلمانوں کی سیاسی تاریخ پر اگر ایک نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ مسند اقتدار تک پہونچنے کےلئے کی جانے والی جوڑ توڑ کی ایک دلچسپ مگر افسوسناک روایت رہی ہے،جو بدقسمتی سے مسلمانوں کے مذہبی اورملی اداروں میں بھی عرصہ پہلے منتقل ہوئی،اورپھر مذہبی،تعلیمی اداروں اورملی تنظیموں پر قبضہ وتسلط،اجارہ داری کا ایک سیلاب رونما ہوگیا،جو اب تک جاری ہے،برسوں سے ملی تنظیموں میں ایک سلسلہ چل پڑاہے کہ ادارے اورتنظیموں کی ذمہ داری نحیف وناتواں اورعمر دراز لوگوں کے کاندھے رکھدی جاتی ہے یاوہ اس عمرکو پہونچنے تک اس پرقابض رہتے ہیں، لیکن یہ کتنی اچھی بات ہوتی کہ صلاحیت مند نوجوانوں کے ہاتھوں میں یہ ذمہ داریاں اس طور پر سپرد کی جاتی کہ عمردراز اکابر کی رہبری ورہنمائی ہوتی اورکام نوجوانوں سے لیاجاتا،اسکافائدہ یہ ہوتاکہ مضبوط،منظم اوربے باک قیادت ملت اسلامیہ ہندیہ کو حاصل رہتی،ہمارے یہاں جب کوئی آدمی ایسی جگہ ہوتاہے، جہاں مال ودولت کے علاوہ شہرت وناموری کی بھرمار ہو،اسباب ووسائل کی کثرت ہو،ایسی جگہوں پر اکثر لوگ اپنے بعد جانشین نہیں چھوڑتے،لیکن اگرکوئی خود سے انکی جگہ لینے کی تیاری میں مصروف ہو،اسکےلئے جدوجہد کررہاہو کہ فلاں کے بعد میں اس کام میں اخلاص کے ساتھ لگوں گا اوراپنی صلاحیت کو اس پر خرچ کروں گا تو ایسے لوگوں کے راستے میں روڑے اٹکا دیئے جاتے ہیں کہ وہ آگے ہی نہ بڑھ سکے،جب سے ایک قدیم دوٹکڑوں میں بٹی ہے ہرجگہ اور ہریونٹ میں عہدوں اورمناصب پر قبضہ کرنے والے حریص ولالچی لوگوں کی عید ہوگئی ہے،انکےلئے ایک بڑا موقع ہاتھ آگیاہے،اب وہ کسی طور ان عہدوں کو چھوڑنے کےلئے تیار نہیں ہوتے،الیکشن اورانتخاب کے نام پر ہردوسال میں اپنے حواریوں کو جمع کیاجاتاہے، جہاں کوئی دوسرا اس عہدے کےلئے امیدوار بھی نہیں ہوتا،اور نہ کسی متبادل پرغور کیاجاتاہے،پھر اعلان کردیاجاتاہے،پریس ریلیز جاری کردی جاتی ہےکہ”فلاں صاحب دوسری میعاد کےلئے منتخب ہوگئے”یہ ہوتاہے ہماری تنظیموں کا انتخابی اجلاس،جہاں مدمقابل کوئی نہیں ہوتا،ایک المیہ یہ بھی ہے ہرمسلم تنظیم کے ارکان اپنی ایک الگ شناخت رکھتےہیں، کسی دوسری جماعت کے اراکین کےلئے وہ قابل قبول نہیں ہوتے،جتنی بڑی بڑی مسلم تنظیمیں ہیں سب کا یہی حال ہے،ان تنظیموں کی تجاویز کاحال بھی کسی وائٹ پیپر سے کم نہیں ہوتا ہرسال اور ہراجلاس میں تجاویز پاس کی جاتی ہیں،لیکن اکثر تجاویز پر عمل تک نہیں ہوپاتا،ایسا اسلئے ہوتا ہے کہ انکے پاس زمینی سطح کا کام نہیں ہوتا،باتیں اور بھی بہت ساری ہیں،سوچئے اورغور کیجئے کیا اسطرح کیامسلم تنظیمیں کوئی انقلاب برپاکرنے کی پوزیشن میں ہیں؟ کیاان سے کوئی امید رکھی جاسکتی ہے؟کیا مسلم تنظیموں اوراداروں میں اصلاح اورردوبدل کی ضرورت نہیں؟
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
(مضمون نگار کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com