بنگال کے پچھلے انتخابات کے دوران 20 لوگوں نے گنوائی تھی جان،ہزاروں ہوئے تھے زخمی

نئی دہلی،24 مارچ  مغربی بنگال اسمبلی کے آتھ مراحل میں ہونے والے الیکشن کے درمیان آئی ایک کتاب میں دعوی کیا ہے کہ ریاست میں الیکشن کے دوران سیاسی تشدد جیت کا پرانا راستہ بن گیا ہے اور 2016 کے الیکشن میں بھی بڑے پیمانے پر خون خرابے کی وجہ سے ہی ترنمول کانگریس کی سیٹیں بڑھی تھیں۔
سینئر صحافی اور نیشنل یونین آف جرنلسٹ (انڈیا) کے صدر راج بہاری نے اپنی کتاب ’رکتانچل – بنگال کی رتک چرترراج نیتی‘میں اسے حقائق کے ساتھ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں 27 مارچ سے آٹھ مرحلوں والا الیکشن شروع ہورہا ہے اور اسی کے ساتھ سیاسی تشدد بھی بڑھنے کی خبریں آرہی ہیں۔ حالانکہ سکیورٹی کے پختہ انتظامات کرنے کےلئے مرکزی سکیورٹی فورسز کی 800 کمپنیوں کو بلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں 27 مارچ سے آٹھ مرحلوں والا الیکشن شروع ہورہا ہے اور اسی کے ساتھ سیاسی تشدد بھی بڑھنے کی خبریں آرہی ہیں۔ حالانکہ سکیورٹی کے پختہ انتظامات کرنے کےلئے مرکزی سکیورٹی فورسز کی 800 کمپنیوں کو بلایا گیا ہے۔ لیکن تشدد کے کردار کو سمجھنے کےلئے سال 2016 کے اسمبلی انتخابات کو بھی پلٹ کر دیکھنا ہوگا۔
مسٹر راج بہاری کے مطابق 2016 میں چھ مرحلوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران شدید تشدد ہوا تھا۔ چار مارچ کو الیکشن کا اعلان ہونے کے بعد 19 مئی کو ووٹوں کی گنتی ہونے تک 20 لوگ انتخابی رنجش میں مارے گئے تھے اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ پولنگ بوتھوں پر برسراقتدار ترنمول کانگریس کے لوگوں نے جم کر ہنگامہ کیا تھا۔انہوں نے کتاب میں ’’مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2016 -تشدد بھی بڑا اور گرنمول کی سیٹیں بھی ‘‘باب میں انتخابی تشدد کا تفصیلی طورپر ذکر کیا ہے اور جتنا تشدد بڑھا اسی تناسب سے ترنمول کانگریس کی سیٹیں بھی بڑھیں۔(یواین آئی)