جامعہ احسن البرکات مارہرہ شریف میں ختم بخاری شریف کی تقریب منعقد

. بخاری شریف علم حدیث کی ایک عظیم کتاب ہے جو قرآن کریم کے بعد سب سے اصح کتاب ہے. مفتی نظام الدین مصباحی (مارہرہ شریف ) خانقاہ برکاتیہ کے سرپرستی میں چلنے والے ادارے میں سے ایک عظیم ادارہ جامعہ احسن البرکات مارہرہ شریف میں آج بتاریخ 24، مارچ 2021 کو ختم بخاری شریف کی محفل منعقد ہوئی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اور اس کے بعد مولانا خالد صاحب نے نعت پاک پیش کی۔ طلباء فضیلت کو سراج الفقہاء حضرت مفتی نظام الدین مصباحی صدرِ افتا و صدر مدرس الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیا۔ حضرت نے طلبہ کو سند کے تعلق سے بتایا کہ یہ روحانی سلسلہ ہے جو حضور ﷺ تک پہونچتا ہے اور بواسطہ جبریل امین اللہ تعالی تک پہنچتا ہے۔ مزید کہا کہ بخاری شریف علم حدیث کی ایک عظیم کتاب ہے جو قرآن کریم کے بعد سب سے اصح کتاب ہے جسے امام بخاری نے سولہ سال کی محنت شاقہ کے بعد مرتب فرمایا، یہ کتاب بارگاہِ رسالت میں بھی مقبول ہے بخاری شریف کی آخری حدیث میں چونکہ میزان کا بیان ہے اس لیے بہت عمدہ اس کی شرح بھی کی۔ اور مذہب اہل حق کو واضح فرمایا۔ اور اہل باطل کے اس حدیث نبوی کے تعلق سے غلط عقائد ہیں انکا خوب اچھی طرح رد فرمایا اور اعتراضات کے جوابات بھی دیے۔ تمام فارغین جامعہ کو سراج الفقہاء مفتی نظام مصباحی صاحب نے سند حدیث کی بھی اجازت مرحمت فرمائ حضور رفیق ملت نے جامعہ احسن البرکات کے فارغین کو مسلک اعلیٰ حضرت پر تاحیات رہنے کی تلقین کی اور یہ آپ نے حلف کی شکل میں کیا۔ اور جامعہ کے پرنسپل حضرت مولانا عرفان ازھری صاحب نے امام بخاری کے کچھ حالات ذندگی پر روشنی ڈالی نیز بخاری شریف کے لکھا جانے کی وجہ بھی طلبہ کرام کو بتائ۔ خانقاہ برکاتیہ کے سجادہ نشین حضور امین ملت ڈاکٹر سید محمد امین صاحب نے فارغین علمائے کرام کے لیے دعا کرتے ہوئے جامعہ احسن البرکات کے فارغین علماء کرام سے فرمایا کہ اگرآپ میں سے کسی کو مزید اپنی پڑھائی جاری رکھنا ہے تو وہ ہمیں اطلاع دیں انشاء اللہ جہاں چاہیں گے وہاں کی پوری کوشش کی جاے گی۔ علاوہ اس کے ختم بخاری شریف سے قبل گزشتہ شب ایک محفل منعقد کی گئی تھی جس میں رئیس القلم علامہ یسین اختر مصباحی صاحب تشریف لائے اور انہوں نے نووارد علمائے کرام سے خطاب فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کو قوم کی قیادت کرنی ہے اور قیادت حالات کے ڈھارے میں بہ جانے کا نام نہیں ہے بلکہ ڈھارے کے رخ کو موڑ دینے کا نام ہے۔ انہوں نے اپنے نصیحتی بیان میں کہا کہ آپ لوگ اپنے مطالعہ میں وسعت پیدا کریں۔ جب آپ مطالعہ کریں گے تو آپ پر بہت جہان آشکار ہونگے۔ اس پر رئیس القلم نے پانی کی بہت اچھی مثال پیش کی کہ جیسے پانی بہتا رہتا ہے تو پاک بنا رہتا ہے اور اگر منجد ہو جائے تو ناپاک اور خراب ہو جاتا ہے بالکل یہی مثال مطالعہ کی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ اب عملی میدان میں جا رہے ہیں لہذا اپنے اخلاق اچھے رکھیں۔ جامعہ احسن البرکات میں ختم بخاری شریف کی تقریب پہلی مرتبہ منعقد ہوئی ہے، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں رہنے والے برکاتی بھائیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے. درس بخاری کی خصوصیت یہ ہے کہ سال کے اختتام پر اس کتاب کی آخری حدیث کو پڑھایا جاتا ہے جس میں امت مسلمہ کو نہایت ہی بابرکات دعا کی تعلیم دی جاتی ہے جو رزق کی طلب کے لیے ایک ذریعہ ہے، مفلوق الحال حضرات اگر اس حدیث پر عمل کریں تو مالامال ہوجائیں، اس حدیث میں دو کلمے ہیں وہ اللہ رب العزت کو بہت ہی زیادہ پسند ہے، تلفظ میں زبان پر آسان ہے اور کل قیامت میں میزان عمل پر بہت بھاری ہوں گے اور وہ یہ ہیں "سبحان اللہ وبحمدہ سبحان العظیم” یہ ہر اس مدرسے میں دہرایا جاتا ہے جہاں فضیلت تک تعلیم ہوتی ہے. محفل کا اختتام صاحب سجادہ حضور امین ملت کی دعا پر ہوا۔ آخر میں صلاۃ و سلام پیش کیا گیا۔ اور فارغین علمائے کرام کو تحائف بھی دئیے گئے۔ اس موقع پر خاندان برکات کے چشم و چراغ محبوب العلماء سید محمد امان میاں قادری ، سید عثمان میاں قادری، مفتی حنیف کانپور، مولانا توحید احمد سدھارتھ نگر، اور کثیر تعداد میں علماء کرام علاوہ اس کے ممبئی، کانپور، پیلی بھیت، پورنپور، علی گڑھ ،دھلی سے مریدین ومتوسلین شریک ہوئے