شعبہٴ اردو اگر چمکتا ہے، ہندی وبھاگ کا بھاگ بھی کھل سکتا ہے: پروفیسر ارون ہوتا

کولکاتہ، 20 مارچ سترہ مارچ کا دن مغربی بنگال کے اردو ادب و ثقافت کی تاریخ میں بعض لحاظ سے ایک تاریخی حیثیت کا حامل قرار پاتا ہے کیوں کہ اسی دن ویسٹ بنگال اسٹیٹ یونیورسٹی، باراسات کے شعبہٴ اردو نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے اشتراک سے معاصر اردو افسانہ رویے اور رجحانات کے موضوع پر جس یک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا تھا وہ نہ صرف لاک ڈاؤن کے بعد مغربی بنگال میں کسی تعلیم گاہ کی جانب سے پہلا آف لائن سیمینار تھا بلکہ پورے باراسات کی تاریخ میں یہاں کا اولین اردو سیمینار تھا۔
سیمینار کا اہتمام یونیورسٹی کے اکاڈمک بلاک کی پہلی منزل پر واقع سیمینار ہال میں کیا گیا تھا۔ افتتاحی اجلاس کے نقیب ڈاکٹر رضی شہاب اسسٹنٹ پروفیسر شعبہٴ اردو(ڈبلیو بی ایس یو) نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر کے پیغام کے ساتھ مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے انہیں اسٹیج پر تشریف لانے کی دعوت دی۔ اس سیمینار میں بطور مہمان خصوصی معروف افسانہ نگار محمود یٰسین نے شرکت کی۔ یونیورسٹی کے شعبہٴ ہندی کے صدر پروفیسر ارون ہوتاسمیٹ شعبہٴ سنسکرت کے پروفیسر ایان بھٹہ چاریہ، شعبہٴ بنگلہ کے صدر موہنی موہن سردار، مولانا آزاد کالج کے صدر شعبہٴ اردو ڈاکٹر دبیر احمد اور ہگلی محسن کالج کے استاد ڈاکٹر عمر غزالی نے سیمینار میں شرکت کی اور سامعین کو اپنے گرانقدر خیالات سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا۔
شعبہٴ اردو کے سینئر استاذ ڈاکٹر تسلیم عارف نے تعارفی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”اگرچہ یونیورسٹی کا قیام 2008میں عمل میں لایا جاچکا تھا لیکن یہاں کے شعبہٴ اردو کو 2019میں اپنے فرائض کی انجام دہی کا موقع میسر آیا۔ تاہم قلیل مدت میں بھی شعبے نے میر تقی میر پر ویبینار کرایااور کچھ دیگر ادبی پروگراموں کے علاوہ آج کا سیمینار بھی اس لیے یادگار ہے کہ ریاست کی جملہ درس گاہوں کے مقابلے میں لاک ڈاؤن کے بعد اردو کا پہلا باضابطہ آف لائن سیمینار کہلانے کا مستحق قرار پاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس سیمینار میں موضوع کے تعلق سے نئے ابواب وا ہوں گے، انوکھی اور اچھوتی باتیں پیش کی جائیں گی۔
ڈاکٹر ارون ہوتا نے فرمایا”مجھے کل جیسا لگ رہا ہے کہ اردو وبھاگ میں دو ادھیاپک آئے ہوئے تھے۔ جنہوں نے یہ احساس دلایا کہ یہ وبھاگ اگر چمکتا ہے تو ہندی وبھاگ کا بھاگ بھی کھل سکتا ہے۔“ انہوں نے موضوع سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2021میں اگر کوئی لکھ رہا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ سمکالین ہو۔ رچنا کار اپنے سمکال سے کتنا ادھک جوجھ کر رچنا رچ رہا ہے۔ سمکالین بننے کے لیے کچھ پیمانے ہوتے ہیں۔“
پروفیسر ایان بھٹہ چاریہ نے کہا کہ ادب سماج کا درپن ہے جس کا مول ادّیش آنند پراپت کرنا ہے۔ کسی بھی جذبے کے اظہارسے اس کا رس حاصل کرنا ہے۔ آج عام خیال یہ ہے کہ پراچین کال میں جو لکھا جاچکا ہے اس سے بہتر اب ہونہیں سکتا لیکن آدھونک کال کے ساہتیہ کو بھی چکھنا چاہیے۔ اس کا مزہ پانے والا تب ہی صحیح فیصلہ کرپائے گا۔
پروفیسر موہنی موہن سردار نے شعبہٴ اردو کے اساتذہ اور طلبہ کی کوششوں کی ستائش کی اور اردو ادب سے اپنی وابستگیوں کا اظہار کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے لائبریرین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

(یواین آئی)