ڈاکٹر ذاکر حسین فاﺅنڈیشن کی 18ویں سالانہ تقریب تقسیم ایوارڈ تقریب منعقد سماجی خدمات میں مصروف خواتین قابل احترام :ساجدہ ندیم

علی گڑھ ۔15مارچ ،(نوشاد عثمانی ) کورونا بحران کے دوران خواتین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے دانشوروں نے کہا کہ زندگی کے تمام شعبوں میں ان کی گرانقدر خدمات رہی ہیں اور بلا تفریق مذہب و ملت خواتین نے جو عملی کام کئے ہیں اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ذاکر حسین فاﺅنڈیشن کے زیر انتظام منعقدہ پروگرام بعنوان کورونا کے دوران خواتین کا عملی اقدام ،چیلنج اور رکاوٹیں میں کیا گیا، تقریب کی صدارت پدم شری پروفیسر حکیم سید ظل الرحمان ٹریزرار علی گڑھ مسلم یونی ور سٹی اور نظامت کے فرائض سی ایم او ڈاکٹر شارق عقیل نے انجام دی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محترمہ ایرا سنگھل آئی اے ایس جوائنٹ سیکریٹری محکمہ سوشل ورکس و شعبہ خواتین و اطفال نے کہا کہ آج ڈاکٹر ذاکر حسین فاﺅنڈیشن نے جس موضوع کے تحت یہ سمپوزیم منعقد کیا ہے وہ عنوان قابل مبارک باد ہے، آج ہر شعبہ میں خواتین کی شراکت کافی اہمیت کی حامل ہے، مردوں کے ساتھ خواتین بھی اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہی ہیں اور آج نظریات کافی تبدیل ہو چکے ہیں ، آج لوگ خواتین کو ہر محاذ پر تسلیم بھی کرنے لگے ہیں ۔ ڈاکٹر بشریٰ بانو ایس ڈی ایم صدر فیروزہ آباد نے اپنے ان احساساس کا ذکر کیا جو انہوں نے عوام کی خدمات کے دوران کووڈ سیشن میں محسوس کیا حتیٰ کہ خدمات کے اعتراف میں ان کی اور ان کی پوری فیملی کو کووڈ ہو گیا لیکن اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کے لئے انہوں نے سرکاری کوارنٹائن سینٹر میں 10دن کے لئے صرف اس لئے گئی کہ انہیں معلوم ہو سکے کہ زمینی سچائی کیا ہے۔ پروفیسر سید ظل الرحمان نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ بنا وجہ کوئی بھی کام نہیں کیا جاتا، اور جب تک ہم یہ نہیں جان سکیں گے کہ پریشانی کیا ہے تب تک ہم اس کا حل نہیں ڈھونڈھ سکتے۔ اگر آپ خوشی کے لمحات کو اپنا نصیب بنانا چاہتے ہیں تو گذرے ہوئے برے وقت سے سیکھ لے کے اس پل کو بھول جائیے، اور آج خواتین جس انداز سے دنیا کے بیشتر محکمہ میں اپنی شمولیت کر چکی ہیں لوہ قابل صد فخر ہے ،ٰ ہمیں چاہیئے کہ ہم خواتین کو اہمیت دیں اور ان کے کاموں میں تعاﺅن پیش کرتے رہیں۔ ۔فاﺅنڈیشن کے صدر ندیم راجا نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر حسین فاﺅنڈیشن کی ٹیم قابل مبارک باد ہے، فاﺅنڈیشن نے نا صرف سماج کے لوگوں کی خدمات کی بلکہ زندگی کے اکثر شعبہ میں بہتر کام اور نمائندگی کرنے والوں کو بھی اعزاز سے نوازا۔ لوگوں نے جس انداز سے بچوں کا حوصلہ بڑھایا ہے وہ قابل مبارک باد ہے۔مسز لہر سیٹھی نے کہا کہ آج سچ سا محسوس ہو رہا ہے کہ دعاءکے لیئے کھلے لب مدد کو آگے آئے ہاتھ کے سامنے کچھ بھی نہیں، جس طرح سے فاﺅنڈیشن نے اس کڑی کو دراز کر رکھا ہے اللہ ان کے حوصلوں میں مزید پرواز دے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ذاکر حسین فاﺅنڈیشن لائف ٹائم اچیو مینٹ ایوارڈ پروفیسر حکیم سید ظل الرحمان، اے آر خان کو اور پینٹاگن ایکسیلینس ایوارڈ مسز تریپتی سنگھل، لہرسیٹھی، جس پریت کور، راکیش کمار مال پانی، ستیش چندرا، پروفیسر شاہد علی صدیقی، پروفیسر ایف ایس شیرانی، پروفیسر محمد شمیم، مکیش سنگھل کو دیا گیا، وﺅمین لیڈر شپ ایوارڈ پروفیسر نعیمہ گلریز، پروفیسر فرزانہ علیم، پروفیسر سلمیٰ شاہین، پروفیسر عائشہ فاروق، وندنا سنگھ، ڈاکٹر سواتی راﺅ، ڈاکٹر لتا گپتا، ڈاکٹر شروتی وارشنے، آرتی متل، پرینکا ٹنڈن کو دیا گیا، اس کے علاوہ وومین لیڈر شپ ایوارڈ، ٹارچ بیئرر اور دیگر زمروں کے اہم ایوارڈ بھی دیئے گئے۔ فاﺅنڈیشن کے نائب صدر مسٹرتوقیر عالم نے بھی اپنی گونہ گو خوشیوں کو ظاہر کرتے ہوئے تمام تعریفیں اللہ کے نام کہتے ہوئے فاﺅنڈیشن کی طرف سے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اس موقع پروفیسر صغیر، ڈی پی پال سنگھ، پروفیسر شاہد علی، شہور شہرت، غزل، مسٹر سعد حمید، منیش رائے، عمران خان، طلعت جاوید،چنچل گپتا، کلپنا سنگھ جادون، ماریہ عالم، پروفیسر زہرہ محسن، مولانا کمیل میاں قادری، انم رئیس خان سمیت تنظیم کے ذمہ داران اور علی گڑھ و قرب و جوار کی عظیم علمی ہستیاں شامل رہیں۔
فاﺅنڈیشن کی ڈائریکٹر و آرگنائزر سکریٹری محترمہ ساجدہ ندیم نے کہا کہ آج وقت صرف سیمینار کرا کے اپنی ذمہ داریوں سے دامن جھاڑ لینے کا نہیں بلکہ یہ کانفرنس تب کامیابی کی سند تک پہونچے گی ۔ ہمیں ہر آن یہ فکر ہونی چاہیئے کہ ہمارے ساتھ رہنے اور دن رات گذارنے والا کوئی شخص بھوکا تو نہیں، کوئی تعلیم کے لیئے اپنے پاس انتظامات نا ہونے کی وجہ سے اپنے مستقبل پر اپنے حال میں آنسو تو نہیں بہا رہا اگر ایسا ہے تو آپ ان کی تلاش کر کے ان کی امداد و معاونت کیجئے اس کے عوض اللہ آپ کو اتنا نوازے گا فاجس کا حساب احاطہ حساب میں نہیں،انہوں نے کہا کہ فاو¿نڈیشن صرف علی گڑھ میں ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر سماجی خدمات میں مصروف عورتوں کی کارکردگی کی ستائش کرکے انہیں اعزاز کرتی ہے تاکہ سماج میں بیداری آئے اور لوگ قومی انسانی خدمات کیلئے آگے آئیں۔