اس مرتبہ بنگال کاالیکشن بہت مختلف

تنویر ہاشمی
اس مرتبہ بنگال کاالیکشن بہت مختلف ہوگا۔ غیربی جےپی تمام سیکولرپاڑٹیوں کامتحدہوناوقت کاتقاضہ ہے۔ ۔مفتی محمدمنظرحسن خان اشرفی مصباحی بانی عالمی سنی صوفی تحریک (الھند)
اس میں کوئ شک وشبہ نھیں کہ حالیہ پانچوں ریاستوں میں الیکشن کی گھنٹی بجادی گئ ہیں۔سیاسی پاڑٹیاں ایک دوسرےکومات دینےکیلئے ہروہ حربہ استعمال کرسکتی ہیں جس سےان کاکام بن جائے۔ریاست اوروہاں کےباشندگان کی تعمیروترقی ہویانھیں ہواس سےان کوکوئ خاص سروکارنھیں ہے۔ان تمام پاڑٹیوں کوجواپنےکوسیکولرکہتی ہیں تمام آپسی اختلافات وکشمکش کوبالائےطاق رکھکراپنی اورملک کےآئین کی بقاکیلئے سرجوڑکربیٹھنےکی ضرورت ہے۔اسی میں تمام پاڑٹیوں کی بھی بھلائ ہے۔اورریاست کی تعمیروترقی بھی مضمرہے۔کیونکہ بھارکاحالیہ الیکشن اوراس کامشکوک رزلٹ بہت کچھ اہل سیاست کوسمجھانےکیلئےکافی ہے۔ان ریاستوں کےرائےدھندگان کوبہت سوچ سمجھکراپنی حق رائےکااستعمال کرناہوگا۔ہرگزجوش میں آکرووٹ کوخراب نہ کریں۔اورزعفرانی پاڑٹی کےلڑاکرحکومت کرنےکےحربہ کوسنجیدگی کےساتھ سمجھنےکی ضرورت ہے۔خاص کرکےبنگال میں بی جےپی اپنادبدبہ قائم کرنےکیلئےہروہ کام کرسکتی ہےجس کاتصوربھی نہیں کیاجاسکتاہے۔اورخبروں کےمطابق توسیاسی حضرات کےخیمہ بدلنےکاسلسلہ جاری ہے۔ایسےمیں ٹی ایم سی سربراہ ممتابنرجی صاحبہ کوجوش میں نہیں بلکہ ہوش میں آکرچھوٹی پاڑٹیوں کوبھی سمجھابجھاکراپنےخیمہ میں جوڑنےکی کوشش کرنی چاھئےتاکہ ذات ومذہب کےنام پربھی ووٹ تقسیم نہ ہو۔اورایک مرتبہ پھربنگال میں فرقہ پرستوں کوشکست کاسامناکرناپڑے۔۔اگرہوش وخردکےساتھ رائےدہندگان کےساتھ سیاسی پاڑٹیوں نےبھی اس الیکشن میں قدم نھیں اٹھایاتوکوئ طاقت فرقہ پرستوں کوتخت حکومت سےدور نھیں رکھ سکتی ہے۔بھارکاالیکشن مثال کیلئےکافی ہے۔اس الیکشن میں اہم ذمہ داری علماءوائمہ اورمختلف مذاہب کےدانشوروں کےاوپربھی ہے۔کہ وہ اپنی عوام کوملک کےموجودہ حالات سےباخبرکریں ۔فرقہ پرستوں کی خفیہ سازشوں سےعوام کواگاہ کریں۔ اوران کومتحدہوکرووٹ کرنےکی صلاح دیں۔