جھارکھنڈ اورامارت شرعیہ

*مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ*
——————————————————————–
 جھارکھنڈ کو ملک کے اٹھائیسویں ریاست کی حیثیت سے ۱۵؍ نومبر ۲۰۰۰ء کو منظوری ملی تھی، اور بہار دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا، جھارکھنڈ چوبیس اضلاع پر مشتمل ہے ، یہاں کی کل آبادی 32988134؍اور اس کا رقبہ ۷۹۷۱۴ ؍کلو میٹر ہے، یہاں مسلمانوں کی کل آبادی ۴۷۹۳۹۹۴؍ اور ہندو نیز آدی باسی کی مجموعی آبادی ۲۲۳۷۶۰۵۱؍ ہے، یہ اعداد وشمار ۲۰۱۱ء کے ہیں، یہاں کا آدی باسی سماج ۴۷ ؍ مذہبی خانوں میں بٹا ہوا ہے،یہاں کی دفتری سرکاری زبان ہندی ہے اور عوام مختلف بولیوں کا استعمال کرتے ہیں، جن میں ایک کھوٹّا بھی ہے، دو دہائی سے زیادہ مدت گذرنے کے بعد بھی اردو کو اس کا حق نہیں مل سکا ہے، کہنے کو ۲۰۰۷ء سے یہاں کی دوسری سرکاری زبان اردو ہے،حکومت نے اس سلسلہ کا جو نوٹی فیکیشن جاری کیا اس کا نمبر ۶۸۰۷۔۲۰۴/۲۰۔۲۱ مورخہ ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۰۷ء ہے۔ یہاں اب تک نہ مدرسہ بورڈ قائم ہو سکا ہے اور نہ ہی اردو اکیڈمی وجود پذیر ہو سکی، وقف بورڈ بھی ایک سی او کے ذریعہ چلایا جا رہا ہے ، غربت کی وجہ سے یہاں تعلیم کا تناسب مجموعی آبادی کے اعتبار سے کم ہے، حالاں کہ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں عیسائی مشنریوں کے بہت سارے ادارے قائم ہیں، جو مسلم بچوں کو دین وایمان اور اسلامی اقدار سے دور کرنے میں مؤثر رول ادا کر رہے ہیں۔جھارکھنڈمیں آٹھ یونیورسیٹیاں کام کر رہی ہیں اور ایک ٹکنالوجی انسٹی چیوٹ بھی ہے ، یہاںکے آدی باسی اپنی تہذیب وثقافت کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، انہیں خطرہ ہے کہ ہندو آبادی انہیں اپنے میں ضم نہ کر لے، جھارکھنڈ میں قابل کاشت آراضی صرف اڑتیس لاکھ ہیکٹر ہے اور جنگلات ۱۸۴۲۳؍ کیلو میٹر اسکوائر میں پھیلے ہوے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کے مناظر دلکش اور آب وہوا صحت کے لیے مفید ہے، جنگلات اور درختوں کی فراوانی کی وجہ سے یہاں فضائی آلودگی کم پائی جاتی ہے، جھارکھند کی اسمبلی میں بیاسی(۸۲)، راجیہ سبھا میں چھ(۶) اور پارلیامنٹ کی چودہ (۱۴)سیٹیں ہیں، جن میں مسلمانوں کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔
 جھارکھنڈمیں پہلا اسمبلی انتخاب ۲۰۰۵ء میں ہوا تھا اور صرف دو ارکان اسمبلی جیت کر آئے تھے، ۲۰۰۹ء میں یہ تعداد پانچ تک پہونچی، لیکن ۲۰۱۴ء میں دوارکان نے جیت درج کرائی ،۲۰۲۰ء کے انتخاب میں چار مسلم ارکان اسمبلی پہونچ سکے، اور دو کو وزیر بننے کا موقع ملا، جن میں ایک سابق وزیر حسین انصاری صاحب مرحوم کے صاحب زادہ ہیں، جو ابھی کسی ایوان کے رکن نہیں ہیں،۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق جھارکھنڈ میں مسلم آبادی کا تناسب کم از کم پندرہ فی صد ہے، دیو گھر ، گڈا، جام تاڑا، صاحب گنج، پاکوڑ، لوہر دگا اور گریڈیہہ میں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے، صاحب گنج اورپاکوڑ میں مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب تیس فی صد ہے، دیو گھر ، گڈا ، جام تاڑا، لوہر دگا ، گریڈیہہ اور رانچی میں مسلمانوں کی آبادی سرکاری اعداد وشمار کے اعتبار سے بیس فی صد ہے، اس کے باوجودجھارکھنڈ سے ایک ہی مسلم ممبر، پارلیامنٹ پہونچ پاتے ہیں، اس معاملہ میں فرقان انصاری ہمیشہ خوش قسمت ثابت ہوے ہیں، اس بار ان کا ستارہ بھی گردش میں آگیا اور پارلیامنٹ میں مسلم نمائندگی صفر ہو گئی۔
معاشی اعتبار سے بھی مسلمان یہاں پسماندہ ہیں، مسلمانوں میں روزگار کی شرح یہاں صرف ۵ء۴۳ فی صد اور خواتین میں ۸ء ۱۸؍ فی صد ہے، اس کی وجہ سے مسلمانوں کی غربت کی شرح ۳۲؍ فیصد ہے جب کہ عام شہریوں میں ۱۸؍ فیصد ہے۔
 امارت شرعیہ کے اکابر کی دور رس اور دور بیں نگاہوں نے جھارکھنڈ کے قیام؛ بلکہ اس کی تحریک سے پہلے ہی جھارکھنڈ کے علاقہ پر اپنی توجہ مرکوز رکھی، سارے ذیلی دفاتر انہیں علاقوں میں قائم کیے گئے، ۱۹۶۷ء کے فساد میں راحت رسانی اور آباد کاری کا مثالی کام امارت شرعیہ نے کیا، جھارکھنڈ بننے کے بعد دارالقضاء کے کاموں کو مختلف اضلاع میں وسعت دی گئی ، وفود کے دورے کثرت سے ہونے لگے ، جھارکھنڈ کے قیام کے بعد ’’جھارکھنڈ کانفرنس‘‘۱۳؍ مئی ۲۰۰۱ کومشن گراؤنڈ رانچی میں کرکے امارت شرعیہ کے اغراض ومقاصد عوام تک پہونچانے کا کام کیا گیا اور مکاتب وغیرہ کے قیام کے ذریعہ بنیادی دینی تعلیم کے کام کو فروغ بخشا گیا،معلمین کی تربیت کے لیے کئی کیمپ لگائے ، او ر وفاق المدارس کا بین المدارس اجتماع مدرسہ رشید العلوم چترا جھارکھند میں کرایا گیا،۲۳؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو انجمن اسلامیہ ہال رانچی میں امیر شریعت سادس کی صدارت میں تعمیر انسانیت کانفرنس بھی منعقد ہوئی، جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم بھی تشریف فرما تھے، ۱۳؍ مارچ ۲۰۱۶ء کو موجودہ امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی صدارت میں دین ودستور بچاؤ کے عنوان سے عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی جس میں راقم الحروف (محمد ثناء الہدیٰ قاسمی) کے ساتھ وانم مشرام وغیرہ نے بھی شرکت کی تھی، لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا، اس کانفرنس نے دین ودستور بچانے کے سلسلے میں حساسیت پیدا کی ، اور اس کے انتہائی دور رس اثرات مرتب ہوئے،جب کبھی جھارکھنڈ میں کوئی زمینی یا آسمانی آفت آئی، امارت شرعیہ نے متاثرین میں راحت رسانی اور باز آباد کاری کا کام کیا، لاک ڈاؤن کی پریشانی تو ابھی کل کی بات ہے ، امارت شرعیہ نے بڑے پیمانے پر غذائی اجناس کی فراہمی اور تکالیف دور کرنے کے لیے مسلسل منظم اور مربوط جد وجہد کی، علماء ، ائمہ جو پریشان حال تھے، اس موقع سے ان کا بھی خیال رکھا گیا، رانچی مقامی دفتر کے ذمہ دار اور قاضی شریعت مفتی محمد انور قاسمی نے حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم کی ہدایت اور قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی قاسمی کی نگرانی میں جو خدمات انجام دیں، اس کی وجہ سے بعض تنظیموں کے ذریعہ امارت شرعیہ کو توصیفی سند سے نوازا گیا، امارت شرعیہ نے مسلمانوں میں تعلیمی پس ماندگی دور کرنے کے لیے ’’تعلیمی ہب‘‘ سے مشہور رانچی کے ہند پیڑھی محلہ میں کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر کرائی ،تاکہ یہاں دینی اور دنیاوی تعلیم کا مضبوط اور مستحکم نظام قائم کیاجا سکے۔
جھارکھنڈ میں’’ عشرہ برائے ترغیب تعلیم وتحفط اردو‘‘ یکم مارچ کو اختتام پذیر ہوا، امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے قضاۃ اور کارکنان کے ذریعہ پورا عشرہ جھارکھنڈ کے چوبیس اضلاع میں بنیادی دینی تعلیم، عصری تعلیم کے اداروں کے قیام اور داخلی وخارجی سطح پر اردو کے فروغ وتحفظ کے لیے مہم چلائی گئی ، سبھی اضلاع میں کمیٹیاں بنائی گئیں اور کمیٹی کو ان تینوں امور پر عملی پیش رفت کا ہدف دیا گیا۔
اس موقع سے حضرات علماء کرام نے جو پیغامات لوگوں کو دیے وہ بھی بہت قیمتی ہیں، انہوں نے کہا کہ مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم نے ملت کی ترقی کے لیے جو سہ نکاتی فارمولہ دیا ہے وہ کافی اہم ہیں، اور ہندوستان میں ملت اسلامیہ اس وقت جن خطرات سے دو چار ہے اس کے دور کرنے کے لیے ماسٹر کی اور شاہ کلید کی(Master key) حیثیت رکھتی ہے، یاد رکھنے کی بات ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے لیے سب سے پہلے جس جملے کا انتخاب اللہ رب العزت نے کیاوہ اقرء یعنی پڑھو ہے، تعلیم تمام برائیوں کو دور کرنے، ایمان پر جمنے اور اسلام پر ثابت قدم رکھنے کا الٰہی نسخہ ہے، تعلیم میں عصری علوم، جدید ٹکنالوجی وغیرہ سبھی کچھ شامل ہے، اس لیے ہمیں ایک طرف دینی علوم حاصل کرنا ہے اور عصری تعلیمی محاذ پر بھی کام کرنا ہے، ہمارا بہت سارا علمی سرمایہ، ہماری تہذیب وثقافت کا بڑا حصہ اردو زبان سے متعلق ہے، اس لیے ہمیں تحفظ اردو کے سلسلے میں بھی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے، اپنے گھروں اور کاموں میں اردوکا استعمال کرنا چاہیے اور عوامی سطح پر اسے مقبول بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، اس دس روزہ ترغیب تعلیم وتحفظ اردو مہم سے عوام کی دلچسپی دیدنی تھی اور ان کا شوق وذوق مستقبل میں ان منصوبوں کو زمین پر اتارنے کا مزدہ سنا رہا تھا، کارواں چل پڑا ہے اور عزم یہ ہے کہ اب منزل پر ہی جا کر دم لیں گے۔
 اس عشرہ کے اختتام کے بعد ۱۳،۱۴؍ اور ۱۵؍ مارچ کو جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں سہ روزہ پروگرام رکھا گیا ہے ، جس کے پہلے دن جھارکھنڈ کے ملی مسائل پر علماء ائمہ ودانشوروں کے ساتھ خصوصی مشاورتی اجتماع ہوگا، دوسرے دن اس قسم کا اجتماع اردوکے تحفظ ، عوامی استعمال، تدریس سے متعلق مسائل پر ہوگا جس میں پورے جھارکھنڈ کے اردو دوست حضرات شریک ہوں گے اور ان کی قیمتی آرا کی روشنی میں آئندہ کے لیے لائحہ عمل طے ہوگا، ۱۵؍ مارچ کو امارت پبلک اسکول کی سنگ بنیاد ہوجِر، ہلداما(اِربا) اوینا روڈ ضلع رانچی میں رکھی جائے گی اور اس موقع سے بھی ایک اجلاس عام ہوگا، یہ اسکول اسلامی ماحول میں بنیادی دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کی اقامتی درسگاہ کے طور پر کام کرے گا اور اس تحریک کو آگے بڑھائے گا، جسے حضرت امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم نے اپنے دور امارت میں شروع کیا ہے ، اس سلسلے کے دو اسکول جھارکھنڈ میں پہلے سے کام کر رہے ہیں، ایک بن کھنجو گریڈیہہ میں اور دوسرا پسکا نگری ضلع رانچی میں۔خدمات او ربھی ہیں،