’پولیس نے بچوں کے خلاف تین ہزارجرائم کے کیسز بند کردیئے‘

نئی دہلی،8 مارچ  پولیس ہر سال ملک میں بچوں کے خلاف تین ہزار کیسز میں کوئی ثبوت اکٹھا کرنے میں ناکام رہتی ہے اور عدالت پہنچنے سے پہلے ہی ان کیسز کو بند کردیا جاتاہے۔
اس بات کا انکشاف عالمی یوم خواتین کے موقع پر کیلاش ستیارتھی چلڈرن فاؤنڈیشن (کے ایس سی ایف) کی ایک تحقیق میں ہوا ہے۔ تحقیق کے مطابق ہر سال بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے تقریبا تین ہزار کیسز سماعت کے لئے عدالت نہیں پہنچتے ہیں ، کیونکہ پولیس پولیس مکمل ثبوت اور سرغ نہ ملنے پانے کے سبب ان کیسز کی تحقیقات کو عدالت میں چارج شیٹ دائر کرنے سے قبل بند کردیتی ہے ۔ ان میں صرف لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ہی 99 فیصد کیسز ہوتے ہیں۔
اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ہر روز چار بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کیا جاتا ہے اورانھیں انصاف سے محروم کردیا جاتا ہے کیونکہ پولیس ناکافی شواہد اور سراغوں کی وجہ سے عدالت میں چارج شیٹ داخل کرنے سے پہلے ان معاملات کی تحقیقات کو بند کردیتی ہے۔ بچوں سے جنسی استحصال کے خلاف ’ پریونشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفینسیز ایکٹ ‘ (پاسکو) کے تحت رپورٹ درج کی جاتی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی سال 2019 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے خلاف کیسز بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے 32 فیصد ہیں۔ اس میں بھی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 99 فیصد واقعات پیش آتے ہیں۔

( یواین آئی)