حکومت سے اختلاف بغاوت نہیں سپریم کورٹ کا دوٹوک فیصلہ

یہ ہندستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں عدلیہ آج بھی زندہ ہے۔ جسٹس سنجے کشن کول اور ہمنت گپتا پر مشتمل سپریم کورٹ کی دو رُکنی بنچ نے بدھ کے دن اُس عرضی کو خارج کردیا جس میں جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر وطن سے غداری کا الزام لگاتے ہوئے اُن کے خلاف کارروائی کی درخواست کی گئی تھی۔ عرضی گزار کا موقف تھا کہ حکومتِ ہند نے دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کی جو خصوصی حیثیت ختم کردی ہے اُس کے خلاف فاروق عبداللہ کا بولنا بغاوت کے مترادف ہے۔ ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مرکزی حکومت اور اُس کے فیصلے کے خلاف بولنے والے کسی شخص کو سزا نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ حکومت کی پالیسی کے خلاف اظہارِ رائے وطن سے غداری نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ اختلاف کو غداری نہیں قرار دیا جاسکتا۔ مرکزی حکومت کے کسی فیصلے سے اختلاف رکھنے کو غداری پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ عرضی گزار کی اس درخواست پر کہ عبداللہ کے قوم مخالف اور غدارانہ بیانات کی روشنی میں عدالت اُنہیں سزا سنائے جج صاحبان جلال میں آگئے اور غصّہ میں اُنہوں نے کہا کہ درخواست گزار کے لایعنی موقف پر اُس پر جرمانہ کرنا چاہئے۔ عرضی گزار کی طرف سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے ایڈووکیٹ شیو ساگر تیواری نے کہا کہ فاروق عبداللہ نے ایک سرکاری قانون کی مخالفت کرکے وطن سے غداری کا ارتکاب کیا ہے۔ تیواری نے یہ بھی کہا کہ فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 کی بحالی کے لئے چین کی مدد لیں گے۔ وکیل نے کہا کہ اگر فاروق عبداللہ کے ملک مخالف اور غدارانہ بیانات پر قدغن نہیں لگائی گئی تو ”ٹکڑے ٹکڑے گینگ“ جیسی طاقتیں ملک کے امن و امان کو برباد کردیں گی۔ بنچ نے جب عرضی گزار سے فاروق عبداللہ کے مبیّنہ بیان کو عدالت میں پیش کرنے کو کہا تو عرضی گزار اُسے پیش کرنے سے قاصر رہا، اُس نے بی جے پی کے ایک ترجمان کے بیان کا حوالہ دیا جس میں یہ بات کہی گئی تھی۔ بنچ نے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمہ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔ عدالت نے عرضی گزار پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ عاید کیا اور اُسے ایڈووکیٹس ویلفیئر فنڈ میں جمع کرنے کی ہدایت کی۔
دریں اثناءامریکہ کی ایک آزاد تنظیم فریڈم ہاﺅس کی حالیہ رپورٹ قابلِ غور ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں ہندستان ”آزاد“ تھا جبکہ اب وہ ”جزوی طور سے آزاد“ ہے۔ 2020 میں ہندستان کو 100 میں سے صرف 67 نمبر ملے۔ 2019 میں ہندستان کو 71 نمبر ملے تھے جبکہ 2018 میں اسے 75 نمبر حاصل ہوئے تھے۔ رپورٹ میں وارننگ دی گئی ہے کہ ہندستان آمریت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ میں خاص طور سے اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ہندستان کی مسلم آبادی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذرایع ابلاغ، دانشوروں، شہری سماجی گروپوں اور احتجاج کاروں کی آواز بھی خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا خاص طور سے نوٹس لیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے شہریت سے متعلق قوانین کی مخالفت کی اُن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ عدالتی آزادی پر بھی دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ کہ اُتر پردیش میں بین مذاہب شادیوں پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔