اخبار مشرق

عائشہ کی خودکشی افسوسناک

عائشہ کی خودکشی افسوسناک۔آزادانہ تحقیق کراکرمجرم کوسخت سزادی جائے۔ جھیزکامطالبہ شرعاناجائزوحرام ہے۔جھیزمانگنےاوربنامانگےضرورت سےزائددینےوالوں کےخلاف سخت قانون بنایاجائےمفتی محمدمنظرحسن خان اشرفی مصباحی بانی عالمی سنی صوفی تحریک (الھند) احمدابادگجرات کی رہنےوالی عائشہ کےدل کودہلادینےوالی خودکشی کی ویڈیودیکھکردل ودماغ کچھ دیرتک مفلوج ساہوگیا۔ اوراس خبرکی سچائ اوراس کےپس منظرکوجاننےکیلئےپریشان ہوگیا۔صرف میں ہی نھیں بلکہ ہراس آنکھ سےآنسوچھلک گیاجس کےپاس ذرہ برابربھی احساس باقی ہے۔ مگرقابل غوریہ ہیکہ ایسادلدوز اورافسوس ناک واقعہ کیسےاورکیون کررونماہوا اورکب تک ایسےواقعات وقوع پذیرہوتےرہینگے۔ ان تمام سوالوں کےجوابات بغیرآزادانہ تحقیق کےہرگزنہیں مل سکتاہے۔ کیونکہ ایک ہی دن کی تلخی کایہ شاخسانہ نھیں ہوسکتاہے۔ بیشک عائشہ کاشوہرجس کانام عارف بتایاجاتاہےوہ ظاہرابہت بڑامجرم لگ رہاہےاوراگراس نےجھیزکم لانےکی وجہ سےعائشہ کوذہنی وجسمانی طورپرہراساں کرتارہاہےتویقینایہ ایک ناقابل معافی جرم ہےاسکوبعدتفتیش سخت سےسخت سزادینی چاھئےتاکہ آئیندہ کوئ دوسری عائشہ خودکشی کیلئےمجبورنہ ہو۔مگراس واقعہ کااکیلاذمہ دارصرف عارف نھیں ہےبلکہ لڑکی کےوالدین کےساتھ ہروہ شخص اس واقعہ کاذمہ دارہےجس کواس تلخی کی خبرتھی اوروہ دورکرنےکی طاقت بھی رکھتاتھامگرتماشابینوں کی طرح تماشائ بنارہایہاں تک کہ ایک جان نےسابرمتی میں کودکرپورےمعاشرےکوشرمندہ کردی۔ حق یہ ہیکہ ہم شادی اوررشتہ کی اہمیت کوجانتےہی نھیں ہیں۔ شریعت نےہمیں کیسارشتہ تلاش نےکاحکم دیاہے۔ لڑکاکیساہوناچاھئےلڑکی کیسی ہونی چاھئے۔ ان کی دینداری، اخلاق وکردار، تھذیب وتمدن اورتعلیم وتربیت کےبعدان کےظاھری حسن وزیب وزینت اورمالی حیثیت کانمبرآتاہے۔ مگرہم سب سےپہلےدولت وثروت اورحسن وجمال ہی کودیکھتےہیں۔رشتہ کرنےمیں اسلام کےاصول کواکثرحضرات نظرانداز کردیتےہیں جس کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ شادی کےکچھ دنوں کےبعدہی سےتلخی شروع ہوجاتی ہے۔ اورنتیجہ بدسےبدترہوجاتاہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ اگرمیاں، بیوی کےمابین کچھ ان ہوجائےتودونوں کےوالدین وذمہ داروں پرضروری ہیکہ بیٹھ کراس شکررنجی کودورکراکرعنداللّٰہ ماجورہوں۔ قرآن مقدس نےصلح کوبھلائ وخیرفرمایاہے۔ مگرآج کےاس نفس پروری کےدورمیں حادثہ کےبعدآنسوچھلکانےوالےنظرآتےہیں۔آجکل کےاکثروالدین ذراسی بات پرکیس ومقدمہ مہیلامنڈل کارخ کرلیتے ہیں۔اورکیس کرکےاپنی ذمہ داری سےسبکدوش ہوجاتےہیں۔ جبکہ کیس مسئلہ کاحل نہیں ہےبلکہ دونوں طرف کےسنجیدہ لوگوں کابیٹھکرمسئلہ کوحل کرانااورٹوٹنےوالےگھرکوجوڑدیناہی حل ہے۔ اگربیٹھ کرمسئلہ حل نھیں ہوتوزوجین کےمابین خلع یاطلاق کےذریعےجدائیگی کرادی جائے۔ ۔ اوراسلام کی یہی تعلیمات کااہم حصہ بھی ہےآقاعلیہ وآلہ وسلم نےٹوٹےدل کوجوڑنےوالےکیلئےجنت کی بشارت عطافرمائ ہیں۔

Exit mobile version