اجودھیا ایئرپورٹ کے لئے یوگی حکومت نے کھولا خزانہ

 لکھنؤ 2 مارچ ،  اب وہ دن دور نہیں جب پوری دنیا کے لوگ شری رام کے درشن کے لئے اجودھیا کے لئے براہ راست ہوائی راستے کے ذریعہ آجاسکیں گے۔ اجودھیا میں ہوائی اڈے کی تعمیر کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے اور امید ہے کہ آئندہ سال کے اوائل میں ہوائی خدمات بھی شروع ہوجائیں گی۔ اس کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومت نے خزانے کھول دئے ہے۔ حال ہی میں مرکزی حکومت نے اجودھیا ہوائی اڈے کے لئے ڈھائی سو کروڑ روپیہ جاری کیا ، تو ریاستی حکومت نے بھی ہوائی اڈے کی اضافی اراضی کی خریداری کے لئے تین ارب 21 کروڑ 99 لاکھ 50 ہزار 720 روپے کی مالی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ڈریم پروجیکٹ مریادا پروشوتم شری رام ہوائی اڈہ اجودھیا کے لئے 555.66 ایکڑ اضافی زمین خریدنے کے لئے ریاستی حکومت نے کل 1001 کروڑ 77 لاکھ روپے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ اگلے مالی سال 2020-21 میں اجودھیا ہوائی اڈے کے لئے 100 کروڑ روپے کی رقم کا الگ سے التزام کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے زمین کو خریدنے کے لئے 947.91 کروڑ کی رقم جاری کی گئی ہے۔ ہوائی اڈے کی ترقی کے لئے اب تک اے اے آئی کو 377 ایکڑ اراضی دستیاب بھی کرائی جاچکی ہے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اجودھیا کی بین الاقوامی سطح کی کنیکٹویٹی کے لئے ایئرپورٹ سمیت دیگر ضروری سہولیات کے تعلق سے ایکشن پلان پر کام کرنے کی ہدایت کی تھی ۔ مرکزی حکومت نے بھی چار اکتوبر 2018 میں اجودھیا ہوائی پٹی کو آر سی ایس اسکیم کے تحت اجودھیا-ہنڈن ایئرروٹ کے لئے منتخب کیا تھا۔

(یواین آئی)